Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے اک جنازہ اٹھا مقتل میں عجب شان کے ساتھ جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہے ہم وہ پتھر ہیں جو ہر دور میں بھاری نکلے عکس کوئی ہو خد و خال تمہارے دیکھوں بزم کوئی ہو مگر بات تمہاری نکلے اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا محسنؔ میرے قاتل تو مرے اپنے حواری نکلے
Copied!