Wednesday, October 28, 2026
FB
نظم

وہ تو یوں تھا کہ ہم

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
وہ تو یوں تھا کہ ہم اپنی اپنی ضرورت کی خاطر اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں تیرہ و تار خواہش کی سنگلاخ راہوں پہ چلتے رہے پھر بھی راہوں میں کتنے شگوفے کھلے وہ تو یوں تھا کہ بڑھتے گئے سلسلے ورنہ یوں ہے کہ ہم اجنبی کل بھی تھے اجنبی اب بھی ہیں اب بھی یوں ہے کہ تم ہر قسم توڑ دو سب ضدیں چھوڑ دو اور اگر یوں نہ تھا تو یوں ہی سوچ لو تم نے اقرار ہی کب کیا تھا کہ میں تم سے منسوب ہوں میں نے اصرار ہی کب کیا تھا کہ تم یاد آؤ مجھے بھول جاؤ مجھے
Copied!