Tuesday, October 27, 2026
FB
نظم

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں

محسن نقوی
27 Views Sep 12, 2026 0 min read
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے جب دلوں میں داغ چمکتے تھے جب پلکیں شہر کے رستوں میں اشکوں کا نور لٹاتی تھیں جب سانسیں اجلے چہروں کی تن من میں پھول سجاتی تھیں جب چاند کی رم جھم کرنوں سے سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے جب ایک تلاطم رہتا تھا اپنے بے انت خیالوں میں ہر عہد نبھانے کی قسمیں خط خون سے لکھنے کی رسمیں جب عام تھیں ہم دل والوں میں اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر کچھ جلتے بجھتے لفظوں کے یاقوت پگھلتے رہتے ہیں اب اپنی گم سم آنکھوں میں کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی کچھ گرد آلود سے موسم ہیں اب دھوپ اگلتی سوچوں میں کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں اب اپنے ویراں آنگن میں جتنی صبحوں کی چاندی ہے جتنی شاموں کا سونا ہے اس کو خاکستر ہونا ہے اب یہ باتیں رہنے دیجے جس عمر میں قصے بنتے تھے اس عمر کا غم سہنے دیجے اب اپنی اجڑی آنکھوں میں جتنی روشن سی راتیں ہیں اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں جس عمر کے خواب خیال ہوئے وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی وہ عمر بتائے سال ہوئے اب اپنی دید کے رستے میں کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں کچھ یادوں کی برساتیں ہیں یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
Copied!