Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

محسن نقوی
27 Views Sep 12, 2026 0 min read
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا اب میری سوچ سائے کی صورت ہے اس کے گرد میں بجھ کے اپنے چاند کو ہالے تو دے گیا شاید کہ فصل سنگ زنی کچھ قریب ہے وہ کھیلنے کو برف کے گالے تو دے گیا اہل طلب پہ اس کے لیے فرض ہے دعا خیرات میں وہ چند نوالے تو دے گیا محسنؔ اسے قبا کی ضرورت نہ تھی مگر دنیا کو روز و شب کے دشالے تو دے گیا
Copied!