Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے

محسن نقوی
26 Views Sep 12, 2026 0 min read
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے بعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے جو تری زلف سے اترے ہوں مرے آنگن میں چاندنی ایسے اندھیروں کا ادب کرتی ہے اپنے انصاف کی زنجیر نہ دیکھو کہ یہاں مفلسی ذہن کی فریاد بھی کب کرتی ہے صحن گلشن میں ہواؤں کی صدا غور سے سن ہر کلی ماتم‌ صد جشن طرب کرتی ہے صرف دن ڈھلنے پہ موقوف نہیں ہے محسنؔ زندگی زلف کے سائے میں بھی شب کرتی ہے
Copied!