بہادر شاہ ظفر
Bahadur Shah Zafar
پیدائش: 30 Oct 1775
وفات: 07 Nov 1862
بہادر شاہ ظفر اردو کے معروف کلاسیکی شاعر اور مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ تھے۔ ان کا اصل نام مرزا ابو ظفر سراج الدین محمد تھا اور تخلص ظفر تھا۔ وہ مرزا غالب اور شیخ ابراہیم ذوق کے ہم عصر تھے اور شاعری، موسیقی، خطاطی اور ادبی سرگرمیوں سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں عشق، انسانی بے بسی، جدائی، تنہائی، روحانی کیفیت، غم اور بدلتے ہوئے زمانے کا احساس نمایاں ہے۔ 1857 کی بغاوت کے بعد انہیں گرفتار کرکے رنگون جلاوطن کر دیا گیا، جہاں انہوں نے زندگی کے آخری برس انتہائی کسمپرسی میں گزارے۔ جلاوطنی اور وطن سے دوری کے تجربات نے ان کی شاعری میں درد اور المیے کی گہری کیفیت پیدا کی۔ ان کا کلام کلیاتِ ظفر اور دیوانِ ظفر کی صورت میں اردو کے کلاسیکی ادبی ورثے کا اہم حصہ ہے اور ان کی غزلیں آج بھی خاص طور پر اپنے سوز، سادگی اور جذباتی تاثیر کے باعث مقبول ہیں۔
1
کل شاعری
1
غزل
غزل
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
مکمل پڑھیں
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی