Friday, September 18, 2026
FB
خواجہ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش

Khwaja Haider Ali Aatish
پیدائش: 01 Jan 1778 وفات: 13 Jan 1847
خواجہ حیدر علی آتش اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور دبستانِ لکھنؤ کے اہم نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں عشق، خودداری، انسانی جذبات، زندگی کے تجربات اور معاشرتی احساسات نمایاں ہیں۔ آتش کا شعری اسلوب سادہ، پُرجوش، فطری اور جذباتی تاثیر سے بھرپور تھا۔ انہوں نے اردو غزل کو زبان کی روانی، بلند خیالی اور جذبے کی شدت عطا کی۔ ان کا شمار لکھنؤ کے معروف شاعر ناسخ کے ہم عصر اور شعری حریفوں میں ہوتا ہے، اور آتش و ناسخ کے نام اردو کے کلاسیکی شعری دبستانوں کی بحث میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ آتش کی غزلیں آج بھی اردو کے کلاسیکی ادبی سرمایہ کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
1 کل شاعری
1 غزل
غزل

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
مکمل پڑھیں
1 17 Sep 2026