ساغر صدیقی
Saghar Siddiqui
پیدائش: 14 Aug 1928
وفات: 19 Jul 1974
ساغر صدیقی اردو کے معروف پاکستانی شاعر تھے جو اپنی درد بھری، رومانوی اور اثر انگیز شاعری کے لیے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام محمد اختر تھا اور وہ 14 اگست 1928 کو امروہہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور لاہور میں مقیم رہے۔ ساغر صدیقی نے کم عمری میں شاعری شروع کی اور اپنی غزلوں میں محبت، محرومی، تنہائی، غربت، جدائی اور انسانی درد کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کی شاعری میں سادہ الفاظ کے ذریعے گہرے جذبات بیان کرنے کی خاص خوبی نمایاں تھی۔ وہ مشاعروں میں بھی مقبول رہے اور ان کا شمار اردو کے ان شعرا میں ہوتا ہے جن کی ذاتی زندگی اور شاعری دونوں میں درد اور تنہائی کا رنگ نمایاں تھا۔ ساغر صدیقی کا کلام آج بھی اردو ادب اور مشاعروں میں شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ وہ 19 جولائی 1974 کو لاہور میں وفات پا گئے۔
3
کل شاعری
3
شعر
شعر
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
شعر
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
شعر
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں