Thursday, September 24, 2026
FB
تازہ ترین

خیبرپختونخوا کابینہ کی پولیس ایکٹ 2026 میں ترامیم منظور، گورنر نے قانونی اعتراضات اٹھا دیے

خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کے نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس میں پولیس سربراہ کی تعیناتی، تبادلوں اور انتظامی اختیارات سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے مجوزہ قانون کی بعض شقوں کو آئینی قرار نہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسودہ منظوری کے لیے ان کے پاس آنے پر وہ اس کا جائزہ لیں گے اور اعتراضات اٹھائیں گے۔

خیبرپختونخوا کابینہ کی پولیس ایکٹ 2026 میں ترامیم منظور، گورنر نے قانونی اعتراضات اٹھا دیے

خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026: کابینہ کی منظوری اور گورنر کے اعتراضات

خیبرپختونخوا میں پولیس کے انتظامی اور کمانڈ ڈھانچے سے متعلق مجوزہ قانون ایک مرتبہ پھر سیاسی اور آئینی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کے نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مسودے کے بارے میں اعتراضات سامنے لاتے ہوئے اسے موجودہ شکل میں منظور نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

کابینہ کی منظوری کے بعد یہ مسودہ ابھی قانون نہیں بنا۔ اسے صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جانا ہے اور آئینی و قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی اس کی حتمی حیثیت واضح ہوگی۔

صوبائی کابینہ نے کیا منظور کیا؟

خیبرپختونخوا کابینہ کا 59واں اجلاس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہوا، جس میں پولیس ایکٹ سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر غور کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ذیلی کمیٹی نے پولیس حکام سے مشاورت کے بعد سفارشات مرتب کی تھیں اور کابینہ ارکان کی جانب سے مختلف شقوں پر سامنے آنے والے تحفظات کو بھی نظرثانی شدہ مسودے میں شامل کیا گیا۔

مجوزہ قانون کا مقصد خیبرپختونخوا پولیس کے موجودہ قانونی ڈھانچے میں تبدیلیاں لانا ہے۔ اس میں پولیس کی پالیسی سازی، آپریشنل معاملات، اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سمیت متعدد امور شامل ہیں۔

آئی جی پولیس کے اختیارات میں مجوزہ تبدیلیاں

مجوزہ قانون کا ایک اہم حصہ صوبائی پولیس سربراہ کے اختیارات اور صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق ہے۔

رپورٹس کے مطابق مسودے میں پولیس کے آپریشنل، انتظامی اور مالی معاملات کو صوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ کی جانب سے دی گئی پالیسی اور ہدایات سے منسلک کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت کو پولیس سربراہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیار دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

اگر حکومت پولیس سربراہ کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو وفاقی حکومت سے ان کی خدمات واپس لینے اور نئے افسران کا پینل طلب کرنے کا معاملہ اٹھایا جا سکے گا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق نئے پینل میں بی پی ایس 21 یا اس سے اوپر کے تین سینئر پولیس افسران کے نام شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔

اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلوں کا معاملہ

مجوزہ قانون میں ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران سمیت اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون میں پولیس سربراہ کی جانب سے اعلیٰ افسران کے تبادلوں کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری سے متعلق شق شامل ہے۔ صوبائی حکومت نے اس تبدیلی کو پولیس کے پالیسی اور آپریشنل معاملات کو الگ کرنے کے وسیع تر انتظامی فریم ورک کا حصہ قرار دیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت پولیس پالیسی بورڈ اور پولیس آپریشنز بورڈ کے قیام کی تجویز ہے۔ پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی وزیراعلیٰ جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی پولیس سربراہ کریں گے۔

حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق مجوزہ قانون میں پولیس کے پالیسی اور آپریشنل معاملات کو الگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حکومت کے مطابق پولیس پالیسی بورڈ صوبے کی پولیسنگ ترجیحات اور سالانہ منصوبہ بندی سے متعلق معاملات دیکھے گا، جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ پولیس کے عملی امور پر توجہ دے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے اسے پولیس کے نظام میں ادارہ جاتی جواب دہی اور انتظامی وضاحت پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

مجوزہ قانون میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز سے متعلق بھی تبدیلیاں شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق موجودہ کونسلز کو تحلیل کرکے نئے قانون کے تحت انہیں دوبارہ تشکیل دینے کی تجویز ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کے اعتراضات

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے مجوزہ قانون پر اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں گورنر نے مجوزہ پولیس ایکٹ کو آئینی حوالے سے قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب قانون منظوری کے لیے ان کے پاس آئے گا تو وہ اس کی شقوں کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں کوئی شق آئین سے متصادم محسوس ہوئی تو وہ اس پر اعتراض کریں گے۔

گورنر نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ مجوزہ قانون کے نتیجے میں پولیس پر صوبائی حکومت کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ ان کا سیاسی و آئینی مؤقف ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے قانون میں تبدیلیوں کو انتظامی اصلاحات، پالیسی اور آپریشنل معاملات کی تقسیم اور جواب دہی کے تناظر میں پیش کیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ بھی اہم

پولیس کے اختیارات سے متعلق موجودہ بحث میں پشاور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔

فروری 2026 میں پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں 2024 کی بعض ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔ فیصلے میں بی پی ایس 18 اور اس سے اوپر کے افسران کی تعیناتی و تبادلے کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری سے متعلق بعض ترامیم ختم کی گئیں اور پولیس سربراہ کے بعض اختیارات بحال کیے گئے تھے۔ صوبائی حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اسی پس منظر میں موجودہ مجوزہ قانون کی بعض شقوں پر قانونی بحث کی اہمیت بڑھ گئی ہے، خصوصاً جہاں پولیس سربراہ کے اختیارات اور صوبائی حکومت کے انتظامی اختیار کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا پولیس ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ ہوگیا ہے؟

نہیں۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مجوزہ قانون ابھی قانون کی حتمی حیثیت اختیار نہیں کرتا۔

اے پی پی کے مطابق منظور شدہ مسودہ اب صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں مزید قانون سازی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد اسمبلی کی کارروائی اور دیگر آئینی مراحل مکمل ہونا ضروری ہوں گے۔

اس لیے موجودہ مرحلے پر اسے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کہنا زیادہ درست ہے، جب تک قانون سازی کا مکمل عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔

پولیس کے انتظامی ڈھانچے پر ممکنہ اثرات

اگر مجوزہ قانون اپنی موجودہ شکل میں قانون بن جاتا ہے تو پولیس کی اعلیٰ قیادت، تعیناتیوں، تبادلوں، پالیسی سازی اور انتظامی نگرانی کے طریقہ کار میں تبدیلی آسکتی ہے۔

ایک طرف حکومت کے مطابق مجوزہ نظام پالیسی اور آپریشنل معاملات میں ادارہ جاتی تقسیم پیدا کرے گا، جبکہ دوسری جانب گورنر اور بعض دیگر حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اس سے صوبائی حکومت کا پولیس کے انتظامی معاملات میں کردار کس حد تک بڑھ جائے گا۔ ان دونوں مؤقف کے درمیان قانونی اور آئینی بحث آئندہ قانون سازی کے مرحلے میں اہم ہوسکتی ہے۔

اب اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کے حوالے سے آئندہ اہم مرحلہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اس کی پیش رفت ہے۔ اسمبلی میں مسودے کی شق وار بحث اور منظوری کے بعد اسے گورنر کے پاس بھیجا جائے گا۔

گورنر کے اعتراضات اور قانون کی حتمی منظوری کا معاملہ اس عمل میں اہم حیثیت رکھے گا۔ اس کے علاوہ اگر قانون کی کسی شق کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے تو اس کی آئینی حیثیت عدالتی جانچ کا موضوع بھی بن سکتی ہے۔

نتیجہ

خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کے نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری دے دی ہے، لیکن یہ ابھی نافذ العمل قانون نہیں بنا۔ مجوزہ قانون میں پولیس سربراہ کی تعیناتی، کارکردگی، اعلیٰ افسران کے تبادلوں اور پولیس کی پالیسی و انتظامی نگرانی سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔ دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس کی بعض شقوں پر آئینی اعتراضات کا عندیہ دیا ہے۔ اب قانون کی حتمی شکل صوبائی اسمبلی کی کارروائی اور اس کے بعد آئینی مراحل سے گزرنے کے دوران واضح ہوگی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!