پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ کے معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آگئی ہیں۔ بعض رہنماؤں کی جانب سے موجودہ حالات اور تیاریوں کو دیکھتے ہوئے مارچ مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پارٹی کی مرکزی قیادت اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت متعدد رہنماؤں نے احتجاجی پروگرام جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے اسلام آباد کی جانب مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج پرامن ہوگا اور کارکنوں کو کسی قسم کا ہتھیار ساتھ نہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لانگ مارچ مؤخر کرنے کی تجویز کیوں سامنے آئی؟
24 ستمبر کو پشاور میں ہونے والے پی ٹی آئی کے اجلاس کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان پارلیمنٹ نے 27 ستمبر کا پروگرام مؤخر کرنے کی تجویز پیش کی۔
آج نیوز کے مطابق بعض ارکان نے تجویز دی کہ لانگ مارچ کو اکتوبر کے آغاز تک مؤخر کرکے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اجلاس میں لانگ مارچ کی تیاریوں اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر بھی گفتگو ہوئی۔
اس سے قبل پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے بھی مارچ مؤخر کرنے کے مطالبات سامنے آچکے ہیں۔ ان رہنماؤں نے تیاریوں کی کمی اور پارٹی کے اندر مشاورت نہ ہونے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
پارٹی قیادت کا مارچ جاری رکھنے کا مؤقف
دوسری جانب پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی جانب سے 27 ستمبر کے پروگرام کو ختم یا مؤخر کرنے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
24 ستمبر کو پی ٹی آئی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد پارٹی کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ حکومت کی جانب سے رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود پارٹی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں لانگ مارچ کو اگلے ماہ تک مؤخر کرنے کی تجویز زیر بحث آئی، تاہم پارٹی کی جانب سے احتجاج سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے یہ بھی کہا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج پرامن ہوگا۔ پارٹی رہنما شوکت یوسفزئی نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ کوئی شخص لاٹھی، غلیل یا کسی بھی قسم کا ہتھیار ساتھ نہ لائے، جبکہ پارٹی کی جانب سے ایسے افراد سے لاتعلقی کا اعلان کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی اور بیرسٹر گوہر کا مؤقف
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے احتجاج کو پرامن سیاسی سرگرمی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 25 ستمبر تک اسلام آباد جانے کے منصوبے کی تفصیلات واضح کردی جائیں گی۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پارٹی نے اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔
اس طرح پارٹی کے اندر مارچ کے وقت اور طریقہ کار پر مشاورت کی اطلاعات کے باوجود عوامی سطح پر نمایاں رہنماؤں کے بیانات میں 27 ستمبر کے پروگرام کو برقرار رکھنے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔
پی ٹی آئی کے اندر اختلافی آرا
لانگ مارچ کے معاملے پر سامنے آنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے مختلف حلقوں میں حکمت عملی کے حوالے سے یکساں رائے نہیں ہے۔
ایک جانب بعض رہنما موجودہ سیاسی اور انتظامی صورتحال، تیاریوں اور ممکنہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مارچ مؤخر کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پارٹی کے دیگر رہنما اس مؤقف پر قائم ہیں کہ 27 ستمبر کا احتجاج پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہونا چاہیے۔
یہ اختلاف بنیادی طور پر احتجاج کے انعقاد کے بجائے اس کے وقت، تیاری اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق دکھائی دیتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ پارٹی کی باقاعدہ قیادت اور متعلقہ مشاورتی فورمز کے فیصلوں سے ہی واضح ہوگا۔
حکومت کا ردعمل
وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے 21 ستمبر کو کہا تھا کہ حکومت اسلام آباد کو طویل عرصے کے لیے بند کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور پی ٹی آئی کو مارچ کے معاملے پر اپنے راستے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
اس سے قبل حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دی جاسکتی جن سے شہریوں کے بنیادی حقوق یا امن و امان متاثر ہوں۔
حکومتی مؤقف کے برعکس پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاج اس کا آئینی اور سیاسی حق ہے اور وہ اسے پرامن انداز میں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مذاکرات کا راستہ بھی زیر بحث
لانگ مارچ مؤخر کرنے کی تجاویز میں حکومت سے مذاکرات اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مزید مشاورت کا راستہ بھی شامل ہے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ممکنہ کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ڈان کے مطابق بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مارچ واپس لینے کی صورت میں حکومت کی جانب سے بعض اعتماد سازی کے اقدامات زیر غور آئے تھے، تاہم ان رابطوں سے کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
ان رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان کسی ممکنہ پیش رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہا۔
اسلام آباد مارچ کی تیاری
پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے خیبرپختونخوا سے کارکنوں کی بڑی تعداد کو متحرک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کی اصل نقل و حرکت خیبرپختونخوا سے متوقع ہے جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کارکنوں کو اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کی ہدایات دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق شمالی پنجاب کے کارکنوں کی ایک تعداد خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلے کے ساتھ شامل ہوسکتی ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت نے تاہم احتجاج کو پرامن رکھنے پر زور دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو ہتھیار نہ لانے کی ہدایات بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔
لانگ مارچ کے حتمی فیصلے کی اہمیت
27 ستمبر کے پروگرام کے حوالے سے پارٹی کے اندر مختلف تجاویز سامنے آنے کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت حتمی طور پر کون سی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔
اگر مارچ برقرار رہتا ہے تو اس کی نوعیت، مختلف صوبوں سے آنے والے کارکنوں کی شرکت اور اسلام آباد تک رسائی کا طریقہ اہم ہوگا۔ دوسری جانب اگر پارٹی قیادت مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو مذاکرات اور آل پارٹیز کانفرنس سمیت سیاسی رابطوں کا اگلا مرحلہ اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔
فی الحال دستیاب اطلاعات میں ایک طرف مارچ مؤخر کرنے کی تجاویز موجود ہیں اور دوسری طرف پارٹی کی جانب سے 27 ستمبر کا پروگرام برقرار رکھنے کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس لیے حتمی فیصلے کے لیے پی ٹی آئی کی باضابطہ ہدایت کا انتظار ضروری ہے۔
سیاسی صورتحال پر ممکنہ اثرات
27 ستمبر کے احتجاج کا فیصلہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ مارچ کی صورت میں وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی اور آمدورفت سے متعلق انتظامات نمایاں رہیں گے، جبکہ مارچ مؤخر ہونے کی صورت میں سیاسی مذاکرات اور اپوزیشن جماعتوں کے باہمی رابطوں کو مزید جگہ مل سکتی ہے۔
تاہم کسی بھی صورت میں آئندہ کی صورتحال کا انحصار فریقین کے عملی فیصلوں، انتظامی اقدامات اور سیاسی رابطوں پر ہوگا۔
نتیجہ
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض رہنماؤں نے مارچ مؤخر کرکے آل پارٹیز کانفرنس اور حکومت سے مذاکرات کی تجویز دی ہے، جبکہ مرکزی قیادت اور دیگر اہم رہنما احتجاج جاری رکھنے کے بیانات دے رہے ہیں۔
اس وقت دستیاب بیانات میں تضاد موجود ہے، اس لیے لانگ مارچ کے حتمی پروگرام کے بارے میں فیصلہ کن بات پی ٹی آئی کی آئندہ باضابطہ ہدایت ہی ہوگی۔ دوسری جانب حکومت نے اسلام آباد میں قانون و امن برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی پرامن احتجاج کا مؤقف دہرا رہی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!