Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان، عمران خان کی صحت پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی

پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ عمران خان کی صحت، جیل میں ملاقاتوں اور طبی سہولیات کا معاملہ بھی ایک بار پھر سیاسی محاذ پر مرکزی موضوع بن گیا ہے۔

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان، عمران خان کی صحت پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان، عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کا معاملہ پھر گرم

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ عمران خان کی صحت، جیل میں ملاقاتوں پر پابندی اور طبی سہولیات کے معاملے نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں اہمیت اختیار کرلی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد مارچ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پارٹی قیادت کی جانب سے عمران خان کو جیل میں مبینہ طور پر درپیش مشکلات، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں رکاوٹ اور طبی سہولیات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اگست میں پشاور میں پی ٹی آئی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر عمران خان کے معاملات پر انصاف نہ ہوا تو پارٹی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی۔

پی ٹی آئی کے مطابق اس مارچ کے بنیادی مطالبات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات کی سماعت میرٹ پر کرنا، پارٹی کے بانی کو قانونی و طبی سہولیات فراہم کرنا اور جیل میں اہل خانہ، وکلا، ڈاکٹروں اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی بحالی شامل ہیں۔

پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو ملک بھر سے کارکن اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔

عمران خان کی صحت پھر سیاسی موضوع بن گئی

عمران خان کی صحت کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان تنازع کا اہم حصہ بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں انہیں طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم چند گھنٹوں بعد دوبارہ جیل منتقل کیے جانے پر پی ٹی آئی نے شدید اعتراضات اٹھائے۔

رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان کو ماہر طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں انہیں اسپتال لے جایا گیا، طبی معائنہ ہوا اور انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اس عمل کو عدالتی حکم کی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ دیا۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف رہا ہے کہ عمران خان کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور طبی معائنے میں ایسی فوری صورتحال سامنے نہیں آئی جس کے لیے طویل اسپتال داخلے کی ضرورت ہو۔

جیل میں ملاقاتوں کا معاملہ بھی اہم

عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ بھی سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں اور اہل خانہ کی جانب سے متعدد مرتبہ شکایت کی گئی کہ انہیں سابق وزیراعظم سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو اہل خانہ، وکلا، ذاتی ڈاکٹروں اور پارٹی رہنماؤں سے باقاعدہ ملاقات کا حق دیا جانا چاہیے۔ پارٹی رہنماؤں نے ملاقاتوں پر پابندی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

حالیہ عدالتی پیش رفت میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طویل تنہائی میں رکھنے سے متعلق بھی اہم احکامات سامنے آئے ہیں، جبکہ ملاقاتوں، فون کالز اور طبی سہولیات سمیت قیدیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی عدالت کی جانب سے ہدایات دی گئی ہیں۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی برقرار

27 ستمبر کے اعلان نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا مقصد عمران خان کے لیے انصاف اور ان کی رہائی کے مطالبے کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ حکومت کے لیے اب بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ ممکنہ احتجاج کو کس طرح پرامن رکھا جائے اور دارالحکومت میں امن و امان برقرار رہے۔

پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو متحرک کرنے اور مارچ کے لیے تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف سیاسی حلقے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ 27 ستمبر سے قبل عمران خان کی صحت، جیل میں ملاقاتوں اور عدالتی معاملات پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔

سیاسی صورتحال میں اہم موڑ

تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں کا معاملہ اب محض قانونی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بن چکا ہے۔

اگر 27 ستمبر تک عمران خان سے ملاقاتوں، طبی سہولیات اور مقدمات کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہوئی تو پی ٹی آئی کے اعلان کردہ اسلام آباد مارچ کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم مارچ کی کامیابی، اس میں شرکت اور حکومت کے ردعمل کا انحصار آئندہ چند ہفتوں کی سیاسی اور قانونی صورتحال پر ہوگا۔

فی الحال عمران خان جیل میں ہیں اور پی ٹی آئی ان کی رہائی کے ساتھ ساتھ ملاقاتوں اور طبی سہولیات کے مطالبات کو مسلسل اجاگر کر رہی ہے، جبکہ 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ ملکی سیاست کے آئندہ منظرنامے کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان بن چکا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!