Thursday, October 01, 2026
FB
تازہ ترین

شوکت یوسفزئی کا 4 اکتوبر کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کے لیے پارٹی قیادت کو خط

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے 4 اکتوبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کو مزید مؤخر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے پارٹی قیادت کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور سیاسی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کے بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی تجویز دی۔ بعد ازاں شوکت یوسفزئی نے خط لکھنے کی تصدیق بھی کردی۔

شوکت یوسفزئی کا 4 اکتوبر کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کے لیے پارٹی قیادت کو خط

پاکستان تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والے لانگ مارچ کو مزید مؤخر کرنے کی تجویز دے دی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر قیادت کو خط لکھا، جس میں موجودہ سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں احتجاج مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

شوکت یوسفزئی نے بعد میں اپنے خط کی تصدیق بھی کی اور واضح کیا کہ یہ خط کارکنوں کے نام نہیں بلکہ پارٹی قیادت کو لکھا گیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے پارٹی کے سامنے اپنا سیاسی تجزیہ اور تحفظات رکھے تھے۔

شوکت یوسفزئی نے خط میں کیا کہا؟

رپورٹس کے مطابق شوکت یوسفزئی نے خط میں موجودہ حالات کو حساس قرار دیتے ہوئے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فوری طور پر مؤخر کرنے پر غور کیا جائے۔

انہوں نے سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں احتجاج کے دوران کارکنوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔

شوکت یوسفزئی نے خط میں ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات اور سیاسی بات چیت کو ترجیح دینے کی تجویز بھی دی۔

ایمرجنسی کے خدشے کا ذکر

خط میں شوکت یوسفزئی نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ لانگ مارچ کو بعض معاملات کی بنیاد بنا کر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے ایک ممکنہ سرحد پار حملے سمیت دیگر سکیورٹی معاملات کو بھی اپنے خدشات کی وجوہات میں شامل کیا۔ تاہم یہ نکات شوکت یوسفزئی کے خط میں بیان کیے گئے خدشات ہیں، انہیں کسی ثابت شدہ حکومتی منصوبے یا فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

پی ٹی آئی پر پابندی کے خدشے کا مؤقف

شوکت یوسفزئی نے اپنے خط میں یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے خلاف مزید کارروائیوں کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق پارٹی پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کیے جانے یا خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف اقدامات کا خدشہ موجود ہے۔ یہ تمام نکات ان کی جانب سے پارٹی قیادت کے سامنے رکھے گئے خدشات ہیں، جن کی آزادانہ طور پر پیش گوئی یا تصدیق نہیں کی گئی۔

ماضی کے لانگ مارچ کا حوالہ

شوکت یوسفزئی نے پارٹی بانی عمران خان کے ماضی کے ایک لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ماضی میں بھی احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں بھی کارکنوں کے تحفظ اور ملک کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

شوکت یوسفزئی نے خط لکھنے کی تصدیق کردی

30 ستمبر کو شوکت یوسفزئی نے اپنے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط پارٹی قیادت کے نام تھا اور اس میں انہوں نے اپنا تجزیہ پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق خط سامنے آنے کے بعد انہیں اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا پڑی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی پہلے ہی لانگ مارچ کے حوالے سے فیصلہ کرچکی ہے اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس فیصلے پر قائم ہیں۔ شوکت یوسفزئی کے مطابق پارٹی فیصلہ ہونے کے بعد وہ بھی اسے قبول کریں گے اور اگر لانگ مارچ ہوا تو وہ اس میں موجود ہوں گے۔

4 اکتوبر کے لانگ مارچ پر پارٹی کا مؤقف

شوکت یوسفزئی کی تجویز کے برعکس پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت کی جانب سے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو برقرار رکھنے کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پارٹی رہنماؤں میں مارچ مؤخر کرنے کی تجاویز پر بحث ہوئی، تاہم پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے 4 اکتوبر کو مارچ کرنے کے فیصلے کی حمایت کی۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے بھی 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو حتمی قرار دیا ہے، جبکہ شوکت یوسفزئی کی جانب سے مؤخر کرنے کی تجویز پارٹی کے اندر موجود مختلف آرا کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ردعمل

شوکت یوسفزئی کے خط پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا ردعمل بھی سامنے آیا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے خط موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ اگر خط ملا بھی تو وہ اسے مسترد کردیں گے۔

سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کے انعقاد کا مؤقف بھی دہرایا۔

مذاکرات کی تجویز

شوکت یوسفزئی نے اپنے خط اور بعد کی گفتگو میں احتجاج کے بجائے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کی صورت میں حکومت کو مظاہرین کے لیے راستہ فراہم کرنا چاہیے اور احتجاج کو پرامن رکھنے کی بات کی۔

موجودہ صورتحال کیا ہے؟

موجودہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ شوکت یوسفزئی نے اسے مزید مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ پارٹی کی پارلیمانی قیادت اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے 4 اکتوبر کا پروگرام برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے۔

اس لیے شوکت یوسفزئی کا خط پارٹی کے اندر ایک تجویز اور تحفظات کا اظہار ہے، اسے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

نتیجہ

شوکت یوسفزئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو مزید مؤخر کرنے کے لیے پارٹی قیادت کو خط لکھا ہے، جس میں سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی اور سیاسی کشیدگی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کی موجودہ پارلیمانی پوزیشن 4 اکتوبر کو مارچ کے انعقاد کے حق میں ہے، جبکہ شوکت یوسفزئی نے بھی واضح کیا ہے کہ پارٹی کے حتمی فیصلے کو قبول کریں گے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!