Monday, September 14, 2026
تازہ ترین

پی ٹی آئی سے وابستہ 6 سابق ارکان نے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرا دیے

پی ٹی آئی سے وابستہ 9 سابق ارکان کے خلاف اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر الیکشن کمیشن میں کارروائی جاری تھی۔ ان میں سے 6 سابق ارکان نے مطلوبہ گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جبکہ 3 ارکان تاحال گوشوارے جمع نہیں کرا سکے۔

پی ٹی آئی سے وابستہ 6 سابق ارکان نے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرا دیے

6 سابق ارکان نے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرا دیے

پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ 9 سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے سے متعلق کارروائی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 9 میں سے 6 سابق ارکان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مطلوبہ مالی گوشوارے جمع کرا دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان سابق ارکان کے خلاف کارروائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب وہ اپنے دورِ رکنیت کے دوران مالی سال 2024-25 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے میں ناکام رہے تھے۔

کن سابق ارکان نے گوشوارے جمع کرائے؟

دستیاب معلومات کے مطابق جن 6 سابق ارکان نے اپنے مالی گوشوارے جمع کرائے ہیں، ان میں سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر اعجاز چوہدری، جونیئر سطح کے سابق ارکان جنیڈ افضال ساہی، شاہد جاوید، محمد اسماعیل اور رائے مرتضیٰ اقبال شامل ہیں۔

یہ گوشوارے اثاثوں اور واجبات سے متعلق قانونی تقاضے کے تحت جمع کرائے گئے ہیں۔

3 سابق ارکان تاحال گوشوارے جمع نہ کرا سکے

الیکشن کمیشن کی کارروائی میں شامل باقی 3 سابق ارکان نے ابھی تک مطلوبہ اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ ان میں صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل اور عبداللطیف شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے گزشتہ ماہ ان تینوں کو گوشوارے جمع کرانے تک آئندہ عام، ضمنی، سینیٹ یا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیا تھا۔

سابق ارکان پہلے ہی رکنیت سے محروم ہو چکے ہیں

یہ معاملہ ان سابق ارکان کی موجودہ پارلیمانی حیثیت سے الگ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرانے والے 6 سابق ارکان بدستور اپنی سابقہ قانون ساز رکنیت سے محروم رہیں گے، تاہم گوشوارے جمع کرانے کے بعد مستقبل میں انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے قانونی رکاوٹ ختم ہو سکتی ہے۔

کارروائی کا پس منظر کیا ہے؟

الیکشن کمیشن نے رواں سال مئی میں 9 سابق ارکان کے خلاف کیسز مقرر کیے تھے۔ ان ارکان میں اعجاز چوہدری، شبلی فراز، عبداللطیف، صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل، جنیڈ افضال ساہی، شاہد جاوید، محمد اسماعیل اور رائے مرتضیٰ اقبال شامل تھے۔

یہ کارروائی اس بنیاد پر کی گئی کہ مذکورہ افراد نے اس عرصے کے مالی گوشوارے جمع نہیں کرائے تھے جب وہ قانون ساز اداروں کے ارکان تھے۔

اثاثہ جات کے گوشوارے کیوں ضروری ہیں؟

پاکستان کے انتخابی قانون کے تحت ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو ہر سال اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرانا ہوتی ہیں۔ اس میں قانون کے مطابق شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات بھی شامل ہوتی ہیں۔

یہ عمل عوامی نمائندوں کے مالی معاملات میں شفافیت برقرار رکھنے اور ان کے اثاثوں کی سالانہ تفصیلات ریکارڈ پر رکھنے کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

الیکشن کمیشن کا قانونی اختیار

الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو ہر سال اپنے اثاثوں اور واجبات کا بیان جمع کرانا ہوتا ہے۔ عام طور پر گزشتہ مالی سال کی تفصیلات جمع کرانے کی مقررہ آخری تاریخ 31 دسمبر ہوتی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حالیہ اعلان کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ بھی 31 دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی سے وابستہ سابق ارکان کیلئے معاملہ کیوں اہم ہے؟

اثاثہ جات کے گوشواروں سے متعلق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی سے وابستہ متعدد سابق قانون ساز مختلف قانونی اور انتخابی معاملات کا سامنا کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق گزشتہ عرصے کے دوران عدالتوں سے سزاؤں کے بعد پی ٹی آئی سے وابستہ 17 قانون ساز نااہلی کی کارروائی کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سینیٹ سے وابستہ ارکان شامل رہے ہیں۔

مستقبل کے انتخابات پر ممکنہ اثر

چھ سابق ارکان کی جانب سے گوشوارے جمع کرانے کا مطلب یہ ہے کہ اثاثہ جات کی عدم فراہمی سے متعلق موجودہ رکاوٹ کو دور کرنے کی سمت پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم اس سے ان کی سابقہ قانون ساز رکنیت بحال نہیں ہوتی۔

اگر یہ افراد مستقبل میں کسی عام، ضمنی، سینیٹ یا بلدیاتی انتخاب میں حصہ لینا چاہیں تو ان کی اہلیت کا فیصلہ دیگر متعلقہ قانونی تقاضوں اور اس وقت موجود نااہلی یا عدالتی احکامات کی روشنی میں ہوگا۔

سیاسی منظرنامے میں اہم پیش رفت

پی ٹی آئی سے وابستہ سابق ارکان کی جانب سے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرانا انتخابی قوانین کی پابندی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ دوسری جانب باقی تین سابق ارکان کی جانب سے ابھی تک گوشوارے جمع نہ کرانے کے باعث ان کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی برقرار ہے۔

آنے والے دنوں میں اگر باقی تین ارکان بھی مطلوبہ گوشوارے جمع کرا دیتے ہیں تو ان کے خلاف اثاثہ جات کی عدم فراہمی سے متعلق کارروائی میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کے قانونی عمل کے مطابق ہوگا۔

نتیجہ

پی ٹی آئی سے وابستہ 9 سابق ارکان کے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہ کرانے کے معاملے میں 6 سابق ارکان نے مطلوبہ مالی گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیے ہیں، جبکہ 3 سابق ارکان تاحال اس عمل کو مکمل نہیں کر سکے۔

گوشوارے جمع کرانے سے ان سابق ارکان کی پارلیمانی رکنیت بحال نہیں ہوتی، تاہم رپورٹ کے مطابق اس مخصوص معاملے کے حوالے سے مستقبل میں انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت پر عائد رکاوٹ دور ہونے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!