عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد کا معاملہ، خواجہ آصف نے حکومتی مؤقف بتا دیا
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم خان اور سلیمان خان کی پاکستان آمد کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ دونوں بھائی اگر پاکستان آنا چاہیں تو آ سکتے ہیں، کیونکہ ان کے نیشنل آئیڈینٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز (NICOP) درست اور قابلِ استعمال ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کے دونوں بیٹے پاکستان آنے کے لیے ویزے کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کے مطابق NICOP رکھنے والے پاکستانی شہری بغیر ویزا پاکستان داخل ہو سکتے ہیں اور قاسم و سلیمان جب چاہیں ملک کا سفر کر سکتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس موجود NICOP دستاویزات کی مدت ختم نہیں ہوئی۔ خواجہ آصف کے مطابق قاسم خان کا NICOP نومبر 2032 جبکہ سلیمان خان کا NICOP جنوری 2030 تک کارآمد ہے۔
وزیر دفاع نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حکومت عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزا جاری نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ NICOP کی بنیاد پر پاکستان آنے کے لیے الگ ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔
عمران خان کے بیٹے کیا کہتے ہیں؟
دوسری جانب قاسم اور سلیمان خان کی جانب سے پہلے یہ مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ ان کے سفری دستاویزات اور پاکستان آنے کے معاملے میں مشکلات موجود ہیں۔ دونوں بھائی اپنے والد عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔
قاسم خان نے دسمبر 2025 میں بتایا تھا کہ دونوں بھائیوں نے پاکستان آنے کے لیے ویزے کی درخواست دی ہے اور والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بعد ازاں یہ معاملہ ویزا اور NICOP سے متعلق مختلف بیانات کے باعث دوبارہ خبروں میں آیا۔
پاکستان آنے اور عمران خان سے ملاقات میں فرق
حکومتی وضاحت کے مطابق پاکستان میں داخلے کی اجازت اور جیل میں قید کسی شخص سے ملاقات دو الگ معاملات ہیں۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ عمران خان کے بیٹے NICOP کے ذریعے پاکستان آ سکتے ہیں، تاہم ملک میں داخل ہونے سے یہ لازمی نہیں کہ انہیں اڈیالہ جیل میں اپنے والد سے ملاقات کی فوری اجازت بھی مل جائے۔
یہی وجہ ہے کہ قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد کے ساتھ ساتھ ان کی اپنے والد سے ملاقات کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
بیٹوں کی جانب سے عمران خان کی صحت پر تشویش
عمران خان کے بیٹے حالیہ دنوں میں اپنے والد کی صحت اور جیل میں حالات کے حوالے سے بھی شدید تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ دونوں نے مختلف عالمی میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے والد سے متعلق خدشات بیان کیے ہیں اور ان کی طبی حالت کے بارے میں آزادانہ جائزے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
قاسم اور سلیمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
معاملہ اب کس طرف جا سکتا ہے؟
حکومت کی تازہ وضاحت کے بعد اب نظریں اس بات پر ہیں کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آنے کا فیصلہ کب کرتے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ان کے لیے ملک میں داخلے کی قانونی دستاویز موجود ہے، جبکہ بیٹوں کی جانب سے والد سے ملاقات اور ان کی صحت کے حوالے سے تشویش مسلسل سامنے آ رہی ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد کی صورت میں ان کی اڈیالہ جیل میں اپنے والد سے ملاقات کا معاملہ بھی سیاسی اور عوامی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ تاہم ملاقات کی اجازت اور طریقہ کار متعلقہ حکام اور قانونی ضوابط کے مطابق طے ہوگا۔
واضح رہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں۔ دونوں نے حالیہ دنوں میں اپنے والد کی صحت کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی آواز اٹھائی ہے، جبکہ پاکستانی حکومت عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کیے جانے کا مؤقف رکھتی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!