Friday, September 11, 2026
تازہ ترین

جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کل، پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف شٹر ڈاؤن کا اعلان

جماعت اسلامی نے مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر پرامن شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔ تاجر تنظیموں کی جانب سے بھی مختلف شہروں میں ہڑتال کی حمایت کا اعلان سامنے آیا ہے۔

جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کل، پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف شٹر ڈاؤن کا اعلان

جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کل، پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف شٹر ڈاؤن کا اعلان

لاہور: جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی نے 3 ستمبر 2026 کو ملک بھر میں پرامن ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جبکہ مختلف شہروں میں تاجروں اور دیگر کاروباری حلقوں سے بھی ہڑتال میں تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ عوام کو مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلانا ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی عوام کے لیے مزید معاشی مشکلات پیدا کر رہی ہے، اس لیے اسے ختم کیا جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔

جماعت اسلامی کے مطابق ملک گیر ہڑتال کا مقصد حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف پرامن طور پر عوامی آواز بلند کرنا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے متعدد مواقع پر واضح کیا کہ احتجاج پرامن رکھا جائے گا اور کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جماعت اسلامی نے تاجر برادری، صنعتکاروں، نوجوانوں اور محنت کش طبقے سے اپیل کی ہے کہ وہ 3 ستمبر کی ہڑتال میں شریک ہوں۔ کراچی میں تاجر تنظیموں کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان سامنے آیا ہے اور شہر کی متعدد بڑی مارکیٹیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی کو بھی عوامی مسائل میں سرفہرست قرار دیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عام شہری پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہے اور توانائی و پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ مزید متاثر ہو رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مذاکرات کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے، تاہم جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات پر عملی پیش رفت ضروری ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ہڑتال کے بعد احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

ملک گیر ہڑتال کے باعث 3 ستمبر کو مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہڑتال کی کامیابی کا انحصار تاجر تنظیموں اور دیگر شعبوں کی شرکت پر ہوگا۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات اور احتجاجی تحریک آئندہ دنوں میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر اثر انداز ہونے کا امکان رکھتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!