Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ، سندھ اسمبلی میں بڑی پیش رفت

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی بحث شدت اختیار کرگئی۔ سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم اور حدود میں تبدیلی کے خلاف قرارداد منظور کرلی، جبکہ اپوزیشن نے بہتر گورننس کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کیا۔

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ، سندھ اسمبلی میں بڑی پیش رفت

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ، صوبے کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور

کراچی: سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں کئی روز تک جاری رہنے والی بحث کے بعد صوبے کی تقسیم، موجودہ حدود میں تبدیلی اور نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق تجاویز پر ارکان نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

سندھ اسمبلی میں حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے صوبے کی موجودہ جغرافیائی حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم قابل قبول نہیں اور صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلہ سندھ اسمبلی ہی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P)، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مطالبہ سندھ کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ اپوزیشن ارکان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی مسائل کے باعث ملک میں مزید انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر حکومتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اپوزیشن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بہتر گورننس اور عوامی مسائل کے فوری حل میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس بنانے کو صوبے کی تقسیم سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

حکومتی ارکان نے تاہم سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی وحدت پر زور دیتے ہوئے کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کی جس سے صوبے کی موجودہ حدود یا حیثیت متاثر ہو۔ سندھ اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کے دوران دونوں جانب سے سخت سیاسی مؤقف سامنے آئے۔

بالآخر سندھ اسمبلی نے سندھ کو تقسیم کرنے، اس کی علاقائی حدود تبدیل کرنے یا صوبے کے کسی حصے کو الگ انتظامی یا وفاقی بندوبست کے تحت لانے کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد پیپلز پارٹی کے رہنما نثار احمد کھوڑو نے پیش کی۔

دریں اثنا MQM-P کے ارکان نے قرارداد کی منظوری سے قبل احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ متحدہ کے ارکان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کر رہی بلکہ انتظامی اختیارات کی بہتر تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حامی ہے۔

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع رہنے کا امکان ہے، کیونکہ ایک طرف صوبائی حکومت سندھ کی وحدت برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن بہتر انتظامی نظام کے لیے نئے یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!