Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی بحث تیز، مختلف جماعتوں کے مؤقف سامنے آ گئے

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی بحث دوبارہ تیز ہو گئی ہے۔ 15 نئے صوبوں کی تجویز، انتظامی اصلاحات اور سیاسی اتفاقِ رائے کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔

نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی بحث تیز، مختلف جماعتوں کے مؤقف سامنے آ گئے

نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی بحث تیز، مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف سامنے آ گئے

اسلام آباد: پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز سامنے آنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر حمایت، مخالفت اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

احسن اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے مقابلے میں مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق بڑے صوبوں کو موجودہ مرکزیت کے ساتھ چلانا مشکل ہو گیا ہے اور انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی موجودہ انتظامی ساخت پر بھی سوالات اٹھائے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حق میں اپنا مؤقف پیش کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس کے حق میں ہوں تو انہیں تشکیل دیا جانا چاہیے، تاہم اس حوالے سے عوامی رائے اور سیاسی اتفاقِ رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے نئے صوبوں کے معاملے کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی مشاورت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا فیصلہ عوامی ضروریات، زمینی حقائق اور بہتر حکمرانی کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔

مختلف سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر اختلاف بھی موجود ہے۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی مسائل کم، عوام کو بہتر سہولیات فراہم اور حکومتی اداروں تک رسائی آسان ہو سکتی ہے، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو سیاسی مفادات سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے 15 نئے صوبوں کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے موجودہ مسائل کے حل کے لیے مناسب راستہ قرار نہیں دیا۔ ان کے مطابق ملک کو پہلے سے موجود مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور نئے صوبوں کی بحث سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ادھر وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ ان کے مطابق فی الحال پارلیمنٹ میں اس حوالے سے کوئی قرارداد یا باقاعدہ قانون سازی سامنے نہیں آئی، اس لیے موجودہ گفتگو کو سیاسی اور عوامی بحث کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی تقاضے بھی ایک اہم معاملہ ہیں۔ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی یا نئے صوبے کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا، جس میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی، مالی، آئینی اور عوامی اثرات بھی ہیں۔ اسی لیے اس معاملے پر وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور سنجیدہ قومی مشاورت کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں اس موضوع پر ہونے والی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست میں نمایاں ہو چکی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور متعلقہ آئینی اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔

فی الحال ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، لیکن مختلف سیاسی رہنماؤں کے بیانات نے اس معاملے کو آنے والے دنوں میں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!