اسلام آباد: پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ عجلت میں نہ کیا جائے اور پہلے سیاسی و عوامی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ملک کے کسی بھی موجودہ صوبے کو وہاں کے عوام اور منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر تقسیم کرنے سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس پر وسیع سیاسی مشاورت ضروری ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے معاملے کا پہلے ایک کمیشن کے ذریعے جائزہ لیا جائے، اس کے بعد اسے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں زیرِ بحث لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے آئینی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے 2010 میں منظور ہونے والی 18ویں آئینی ترمیم کے دوران اختیار کیے گئے مشاورتی طریقہ کار سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں میں باضابطہ بحث کے بغیر اسے آگے بڑھانا مناسب نہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ مؤقف تشکیل دیا جائے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کہا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر حتمی فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی اس تجویز کو متعلقہ فورمز پر زیرِ بحث لانے اور سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کی بحث میں سندھ کا معاملہ بھی خاص طور پر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سندھ حکومت اور مختلف سیاسی حلقے صوبے کی تقسیم کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ نئے انتظامی یونٹس کے حامی اسے حکومتی نظام اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں جاری اس بحث کے باعث نئے صوبوں کا معاملہ آنے والے دنوں میں بھی قومی سیاست کا اہم موضوع رہنے کا امکان ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ایسے بڑے آئینی اور انتظامی فیصلے سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی حمایت کے بغیر نہیں کیے جانے چاہئیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!