Thursday, October 29, 2026
FB
تازہ ترین

نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی اجازت بھی پارلیمنٹ ہی دے گی، رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آنا چاہیے اور ریفرنڈم کی اجازت بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ہی دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت نئے صوبوں کے معاملے پر نہ کابینہ میں کوئی باضابطہ تجویز زیر بحث ہے اور نہ پارلیمنٹ میں کوئی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی اجازت بھی پارلیمنٹ ہی دے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سیاسی بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ پارلیمنٹ کے فورم پر زیر بحث آنا چاہیے جبکہ عوامی رائے لینے کے لیے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ کی منظوری سے ہی ممکن ہوگا۔

رانا ثناء اللہ کے تازہ بیان کے مطابق اگر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نئے صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کی منظوری دی جاتی ہے تو اس کے بعد عوام سے رائے لی جاسکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ معاملہ نہ کابینہ میں باضابطہ طور پر زیر بحث آیا ہے اور نہ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی ہے۔

نئے صوبوں کی بحث کہاں تک پہنچی؟

نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے سیاسی اور انتظامی مباحث میں زیر بحث ہے۔ مختلف سیاسی حلقوں اور رہنماؤں کی جانب سے ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔

تاہم رانا ثناء اللہ کے مطابق محض سیمینارز، فورمز یا سیاسی بیانات میں اس معاملے پر بحث سے کوئی عملی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے، جہاں تمام سیاسی جماعتیں اپنا موقف پیش کرسکتی ہیں۔

ریفرنڈم کا فیصلہ کون کرے گا؟

رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر عوامی ریفرنڈم کسی ایک وزیر یا حکومتی عہدیدار کے بیان کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔

ان کے مطابق اگر عوام سے براہ راست رائے لینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری ضروری ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مشترکہ اجلاس ریفرنڈم کی منظوری دے اور عوام نئے صوبوں کے حق میں رائے دیں تو عوامی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

پارلیمنٹ کو اصل فورم قرار دے دیا گیا

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں سے متعلق بحث کو پارلیمنٹ میں لایا جانا چاہیے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں اور صوبوں کی قیادت اپنا مؤقف پیش کرسکیں۔

انہوں نے حالیہ گفتگو میں کہا کہ اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جاسکتا، تاہم اس خواہش کو آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھانا ہوگا۔

اس مؤقف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت کے اندر بھی اس معاملے کو فوری انتظامی فیصلے کے بجائے پارلیمانی اور آئینی عمل کے ذریعے آگے بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کا باضابطہ موقف کیا ہے؟

نئے صوبوں کے قیام پر مسلم لیگ ن کے باضابطہ موقف کے حوالے سے بھی رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ جماعت نے ابھی حتمی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے اندر نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر مشاورت جاری ہے اور پارٹی پارلیمنٹ میں معاملہ آنے کی صورت میں اپنا موقف پیش کرے گی۔ پارٹی کی جانب سے مختلف سطحوں پر کارکنوں کی رائے لینے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

اس لیے موجودہ مرحلے پر کسی مخصوص صوبائی نقشے یا تعداد کو مسلم لیگ ن کی حتمی پالیسی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

پنجاب اور دیگر صوبوں کا معاملہ

نئے صوبوں کی بحث میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مختلف تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے حوالے سے پرانی قراردادیں بھی سیاسی بحث کا حصہ رہی ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر نئے صوبوں کے معاملے پر دوبارہ بحث شروع کرنی ہے تو متعلقہ فورم پر نئے سرے سے معاملہ لانا ہوگا۔ ان کے مطابق ماضی کی صوبائی اسمبلی قراردادوں کو موجودہ سیاسی عمل کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔

کیا حکومت نے نئے صوبوں کا فیصلہ کرلیا ہے؟

دستیاب تازہ معلومات کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ ابھی باضابطہ طور پر کابینہ یا پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں آیا۔

اس لیے موجودہ صورتحال کو نئے صوبوں کے قیام کا حتمی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس وقت بنیادی طور پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے، جبکہ عملی پیش رفت کے لیے آئینی اور پارلیمانی مراحل طے کرنا ہوں گے۔

نئے صوبے بنانے کی بحث کیوں اہم ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کا تعلق صرف انتظامی تقسیم سے نہیں بلکہ حکمرانی، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی، انتظامی رسائی اور عوامی خدمات کی فراہمی سے بھی ہے۔

نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف عموماً یہ ہوتا ہے کہ بڑے صوبوں میں انتظامی مرکزیت کم کرکے دور دراز علاقوں تک حکومتی خدمات اور فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے کے مخالفین سیاسی، مالی، آئینی اور انتظامی پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اسی لیے نئے صوبوں کے قیام کا کوئی بھی فیصلہ وسیع سیاسی اتفاق رائے اور آئینی طریقہ کار کے بغیر آسان نہیں ہوگا۔

آئینی اور پارلیمانی عمل کی اہمیت

پاکستان میں صوبائی حدود یا نئے صوبوں کے قیام سے متعلق معاملات آئینی نوعیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے محض سیاسی اعلان یا بیان کافی نہیں ہوتا بلکہ متعلقہ آئینی فورمز سے منظوری اور ضروری قانونی مراحل مکمل کرنا پڑتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ بھی بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ نئے صوبوں کی بحث کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو اسی فورم پر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے تاکہ معاملے پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا ہوسکے۔

عوامی رائے کا ممکنہ کردار

ریفرنڈم کی بات سامنے آنے کے بعد عوامی رائے اس بحث کا ایک اہم پہلو بن گئی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق ریفرنڈم کا فیصلہ وزیراعظم یا کسی ایک وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔

اگر مستقبل میں پارلیمنٹ ریفرنڈم کی منظوری دیتی ہے تو اس کے بعد عوام سے رائے لینے کا عمل ایک الگ مرحلہ ہوگا۔ اس وقت تک ریفرنڈم کے انعقاد کو طے شدہ حکومتی فیصلہ قرار دینا درست نہیں۔

آئندہ کیا ہوسکتا ہے؟

موجودہ صورتحال میں اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ آیا نئے صوبوں کا معاملہ باقاعدہ طور پر پارلیمنٹ میں لایا جاتا ہے یا نہیں۔

اگر معاملہ پارلیمنٹ میں آتا ہے تو مختلف سیاسی جماعتوں کو اپنے مؤقف کا اظہار کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے بعد آئینی طریقہ کار، صوبائی سطح پر رائے، ممکنہ ریفرنڈم اور دیگر قانونی مراحل پر بحث ہوسکتی ہے۔

فی الحال رانا ثناء اللہ کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سیاسی بیانات کے بجائے پارلیمانی فورم پر لانے کی حامی ہے۔

سیاسی جماعتوں کے لیے چیلنج

نئے صوبوں کا معاملہ مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک حساس موضوع ہے کیونکہ اس کا تعلق صوبائی شناخت، سیاسی نمائندگی اور انتظامی اختیارات سے ہے۔

کسی بھی نئی صوبائی تقسیم کے نتیجے میں قومی اور صوبائی سیاسی توازن، وسائل کی تقسیم اور انتظامی حدود میں تبدیلی آسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔

نتیجہ

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث اس وقت سیاسی اور پارلیمانی سطح پر اہم موضوع بن چکی ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے مطابق نئے صوبوں کے معاملے پر فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہونا چاہیے جبکہ ریفرنڈم کرانے کے لیے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی منظوری ضروری ہوگی۔

تازہ ترین معلومات کے مطابق نہ نئے صوبوں کے قیام کی کوئی حتمی حکومتی منظوری سامنے آئی ہے اور نہ ہی ریفرنڈم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ معاملہ کب اور کس طریقے سے پارلیمنٹ کے سامنے لایا جاتا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!