Tuesday, September 15, 2026
تازہ ترین

لاہور میں سہیل آفریدی کے مبینہ اغوا کا دعویٰ، پنجاب حکومت اور پولیس نے تردید کردی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور میں پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے اور بعد ازاں سڑک کنارے چھوڑنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم پنجاب حکومت اور پولیس نے دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پولیس گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔

لاہور میں سہیل آفریدی کے مبینہ اغوا کا دعویٰ، پنجاب حکومت اور پولیس نے تردید کردی

لاہور میں سہیل آفریدی کے ساتھ کیا ہوا؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران پولیس کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ انہیں پنجاب پولیس نے مبینہ طور پر اغوا کیا اور کچھ دیر بعد سڑک کنارے چھوڑ دیا، جبکہ پنجاب حکومت اور پولیس نے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خود پولیس کی گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔

یہ واقعہ 14 ستمبر 2026 کو لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے معاملے پر پیش آیا۔ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے واقعے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق دونوں جانب سے واقعے کی مختلف وضاحتیں پیش کی جا رہی ہیں۔

سہیل آفریدی کا مؤقف

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں انہیں پولیس نے اپنی تحویل میں لیا اور بعد میں سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور بعد میں دباؤ آنے پر انہیں سڑک پر چھوڑ دیا گیا۔ سہیل آفریدی نے اس واقعے کو ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے معمولی معاملہ نہ سمجھنے پر زور دیا۔

سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ اگر پنجاب میں ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس پر عائد ہوگی۔

واقعہ لکشمی چوک پر کیسے پیش آیا؟

رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران لکشمی چوک پہنچے تھے۔ وہاں موجود پولیس نے بعض کارکنوں کو گرفتار کرکے قیدی وین میں منتقل کیا تھا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کارکنوں کی گرفتاری پر احتجاج کیا اور انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران وہ پولیس کی قیدی وین کے قریب پہنچے اور بعد ازاں خود پولیس گاڑی میں بیٹھ گئے۔

صورتحال اس وقت مزید نمایاں ہوگئی جب پولیس گاڑی سہیل آفریدی کے گاڑی سے اترنے کے باوجود آگے روانہ ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ وزیراعلیٰ کو پولیس نے گرفتار یا اغوا کرلیا ہے۔

پنجاب حکومت کا مؤقف

پنجاب حکومت نے سہیل آفریدی کے اغوا کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی اپنی مرضی سے پولیس گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔ ان کے مطابق پولیس اہلکار انہیں گاڑی سے اترنے کے لیے کہتے رہے، تاہم وہ گاڑی سے نہیں اترے۔

عظمیٰ بخاری نے واقعے کو سیاسی ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی جانب سے پولیس گاڑی میں سوار ہونے کی ویڈیو بھی شیئر کی۔

پولیس کی وضاحت کیا ہے؟

پولیس کے مطابق سہیل آفریدی خود پولیس وین میں سوار ہوئے تھے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑی کو موقع سے کچھ فاصلے پر لے جایا گیا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی پولیس گاڑی سے اس وقت اترنے پر آمادہ نہیں تھے جب کچھ گرفتار کارکنوں کو رہا کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس گاڑی انہیں ایک دوسرے مقام تک لے گئی اور وہاں انہیں اتار دیا گیا۔

پولیس نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وزیراعلیٰ کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔

تحریک انصاف کا ردعمل

تحریک انصاف نے سہیل آفریدی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایک منتخب صوبائی وزیراعلیٰ کے ساتھ اس طرح کا سلوک سیاسی اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے واقعے کو سیاسی انتقام اور صوبائی حکومت کے ساتھ نامناسب رویے سے جوڑا گیا، جبکہ پنجاب حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی مختلف تصویر پیش کی۔

واقعے کی اصل حقیقت کیا ہے؟

اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سہیل آفریدی کا لاہور میں باقاعدہ اغوا ثابت ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے اغوا کی کوشش کا الزام موجود ہے، جبکہ پنجاب حکومت اور پولیس اس الزام کی واضح تردید کر رہی ہیں۔

واقعے کی ویڈیوز اور دونوں جانب کے بیانات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سہیل آفریدی پولیس کی گاڑی میں سوار ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد انہیں کس نوعیت کے حالات میں گاڑی سے اتارا گیا اور آیا ان کی مرضی شامل تھی یا نہیں، اس پر دونوں فریقوں کے مؤقف مختلف ہیں۔

اس لیے خبر میں اسے حتمی طور پر اغوا قرار دینے کے بجائے سہیل آفریدی کا الزام اور پنجاب حکومت و پولیس کا جوابی مؤقف بیان کرنا زیادہ محتاط اور صحافتی طور پر درست ہے۔

سیاسی صورتحال پر ممکنہ اثرات

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا حکومت اور پنجاب حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات پہلے ہی نمایاں ہیں۔ سہیل آفریدی لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے معاملے پر سرگرم تھے، جبکہ پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

واقعے کے بعد دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آنے سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تاہم مستقبل میں اس معاملے کی قانونی یا انتظامی سطح پر کوئی تحقیقات ہوتی ہیں تو اس سے واقعے کی مکمل صورتحال مزید واضح ہوسکتی ہے۔

نتیجہ

لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر دونوں جانب سے متضاد مؤقف سامنے آئے ہیں۔ سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس پر مبینہ اغوا اور سڑک کنارے چھوڑنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ پنجاب حکومت اور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پولیس گاڑی میں سوار ہوئے اور انہیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہاں سے منتقل کیا گیا۔

فی الحال دستیاب شواہد اور بیانات کی بنیاد پر اغوا کے الزام کو حتمی طور پر ثابت شدہ واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ معاملے کی مزید وضاحت سرکاری ریکارڈ، ویڈیو شواہد یا کسی باضابطہ تحقیقات سے سامنے آسکتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!