Thursday, September 24, 2026
FB
تازہ ترین

بیرسٹر گوہر کا سیاسی بحران کے حل پر زور، حکومت سے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی اور بحران کے حل کے لیے سیاسی طریقہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔

بیرسٹر گوہر کا سیاسی بحران کے حل پر زور، حکومت سے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا مطالبہ

سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازعات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے اور سیاسی قیادت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا گیا ہے اور دوسری جانب حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کیا کہا؟

ایکسپریس ٹریبیون کی 24 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق بیرسٹر گوہر نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سیاسی اختلافات کو سیاسی ذرائع سے حل کرنے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کی۔

پی ٹی آئی چیئرمین کی گفتگو میں پارٹی قیادت اور بانی عمران خان کے خاندان کے افراد کی گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے موجودہ صورتحال پر اپنا طرز عمل تبدیل کرنے اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی صورتحال

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی منظرنامے کا اہم موضوع رہا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ احتجاج اور سیاسی دباؤ کی حکمت عملی بھی نظر آ رہی ہے۔

21 ستمبر کو جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ متعلقہ وفاقی سطح کے لوگوں سے رابطے جاری ہیں اور پی ٹی آئی نے حالیہ گرفتاریوں سے متعلق اپنا مؤقف بھی پہنچایا ہے۔ اسی موقع پر اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 20 ستمبر کو بیرسٹر گوہر نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کہا تھا کہ سیاسی ماحول سرد ہے اور بات چیت میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اس مؤقف کا اظہار بھی کیا تھا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔

27 ستمبر کے احتجاج کا اعلان

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس احتجاج کے لیے سیاسی اور آئینی مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔

22 ستمبر کو ڈان کی رپورٹ کے مطابق بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ پارٹی اسلام آباد مارچ کے فیصلے پر قائم ہے اور اسے پرامن سیاسی احتجاج قرار دیا تھا۔ انہوں نے حکومت سے اپنا رویہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے مسائل سیاسی طور پر حل کرنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق پنجاب اور سندھ سے پولیس دستے اسلام آباد بھیجے جا رہے ہیں تاکہ 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے دوران سکیورٹی انتظامات میں معاونت کی جا سکے۔

مذاکرات اور احتجاج ایک ساتھ کیسے آگے بڑھیں گے؟

موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی بات اور 27 ستمبر کے احتجاج کا اعلان بیک وقت سیاسی منظرنامے میں موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کے مؤقف کے مطابق احتجاج اس کے سیاسی اور آئینی مطالبات کے اظہار کا ذریعہ ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے متعدد مواقع پر یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بھی ماضی میں مختلف اوقات میں مذاکرات کی پیشکش اور سیاسی رابطوں کی بات سامنے آتی رہی ہے، تاہم فریقین کے درمیان اعتماد اور مذاکرات کی شرائط اہم رکاوٹیں رہی ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بھی جاری

پی ٹی آئی نے حالیہ عرصے میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی سیاسی رابطے بڑھائے ہیں۔ 11 ستمبر کو بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد نے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، جس میں مشترکہ اپوزیشن پلیٹ فارم اور قومی معاملات پر مشاورت کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

ڈان کے مطابق اس دوران سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے، آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور دیگر قومی معاملات پر مشاورت کا فیصلہ بھی سامنے آیا تھا۔

20 ستمبر کو تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مجوزہ کثیر الجماعتی کانفرنس کے ایجنڈے پر مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لیے چھ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں بیرسٹر گوہر کا نام بھی شامل تھا۔

سیاسی رابطوں کی اہمیت

موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اس لیے اہم ہیں کہ احتجاج، گرفتاریوں، عدالتی معاملات اور حکومت و اپوزیشن کے اختلافات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

مذاکرات کا آغاز یا بحالی صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے فریقین کے درمیان عملی رابطوں، قابل قبول ایجنڈے اور ایسے نمائندوں کی موجودگی سے متعلق ہوگا جو اپنی اپنی سیاسی قیادت کی جانب سے بات آگے بڑھا سکیں۔

21 ستمبر کو جیو نیوز کی رپورٹ میں بھی اپوزیشن رہنما راجا ناصر عباس کے حوالے سے بتایا گیا کہ مذاکرات بامعنی ہونے چاہئیں اور ان میں ایسے افراد شامل ہوں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار ہو۔

موجودہ سیاسی کشیدگی کا پس منظر

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات میں گزشتہ عرصے کے دوران کئی معاملات شامل رہے ہیں، جن میں عمران خان کی قید، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں، احتجاج، عدالتی مقدمات اور سیاسی مذاکرات شامل ہیں۔

حالیہ دنوں میں عمران خان کی بہن علیمہ خان سمیت پارٹی سے وابستہ بعض افراد کی گرفتاریوں نے بھی سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے۔ پی ٹی آئی ان کارروائیوں پر اعتراضات اٹھا رہی ہے، جبکہ حکومتی اور انتظامی اداروں کی جانب سے احتجاج اور امن و امان کے حوالے سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان حالات میں مذاکرات کی بات سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ایک ممکنہ کوشش کے طور پر سامنے آ رہی ہے، تاہم اس کے عملی نتائج فریقین کے آئندہ اقدامات اور رابطوں پر منحصر ہوں گے۔

آگے کیا ہوسکتا ہے؟

اب سیاسی صورتحال میں 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے اور اس کے دوران ہونے والے رابطے اہم ہوں گے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو مذاکرات کے لیے کوئی نیا سیاسی فریم ورک سامنے آ سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر سیاسی اختلافات برقرار رہتے ہیں تو احتجاج، گرفتاریوں اور سکیورٹی اقدامات کے باعث کشیدگی مزید برقرار رہنے کا امکان موجود ہے۔ تاہم آئندہ صورتحال کے بارے میں حتمی اندازہ فریقین کے عملی فیصلوں اور دستیاب تازہ معلومات کی بنیاد پر ہی لگایا جا سکے گا۔

نتیجہ

بیرسٹر گوہر علی خان نے موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور مذاکرات کا راستہ بند نہ کرنے کی بات کی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی 27 ستمبر کے اسلام آباد احتجاج کی تیاری کر رہی ہے اور حکومت نے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سیاسی رابطوں، اپوزیشن جماعتوں کے باہمی مشاورتی عمل اور حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو آئندہ سیاسی پیش رفت کے اہم عوامل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!