سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کم کرنے اور اختلافات کے حل کے لیے حکومت اور سیاسی فریقین کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے تو موجودہ صورتحال میں بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی بات سنی جانی چاہیے اور ان کی شکایات کا سیاسی انداز میں ازالہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ احتجاج کے دوران عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں۔
پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان بات چیت کی ضرورت
بیرسٹر گوہر کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی ذرائع سے ہی نکالا جانا چاہیے۔ گزشتہ دنوں بھی انہوں نے کہا تھا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے ہر فریق کو کچھ نہ کچھ لچک دکھانا ہوگی اور مذاکرات کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔
ان کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اس احتجاج کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔
پی ٹی آئی کا مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا مؤقف
بیرسٹر گوہر اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت ضروری ہے، تاہم پارٹی کی جانب سے اپنے سیاسی مطالبات پر بھی مؤقف برقرار رکھا گیا ہے۔
24 ستمبر کو سامنے آنے والے ایک بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی قیادت بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے مطابق اس وقت عملی مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
لانگ مارچ کے معاملے پر حکومت سے بات چیت کا مطالبہ
حالیہ گفتگو میں پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت سے لانگ مارچ کے معاملے پر بھی مذاکرات کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے سنجیدہ سیاسی حالات میں جب ایک بڑی سیاسی جماعت احتجاج کی طرف بڑھ رہی ہو تو فریقین کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے سیاسی کارکنوں کے خلاف سخت اقدامات کے بجائے ان کی بات سننے اور شکایات کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کو مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
سیاسی رابطوں کی موجودہ صورتحال
ماضی قریب میں بیرسٹر گوہر نے حکومتی شخصیات سے رابطوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ 11 ستمبر کو انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس وقت حکومت کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات یا بیک چینل رابطے میں نہیں تھی، تاہم انہوں نے مذاکرات کو سیاسی حل کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
بعد ازاں 20 ستمبر کو ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے ہر فریق کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں، اگرچہ اس وقت سیاسی ماحول میں سرد مہری موجود ہے۔
اپوزیشن جماعتوں سے رابطے
پی ٹی آئی کی جانب سے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سیاسی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے حالیہ دنوں میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت اپوزیشن رہنماؤں سے رابطوں کا ذکر کیا ہے۔
ستمبر کے اوائل میں بیرسٹر گوہر نے آل پارٹیز کانفرنس کے امکان کا بھی ذکر کیا تھا، جس میں قانون و امن، معیشت، مہنگائی اور نئے صوبوں سمیت قومی معاملات پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی بات کی گئی تھی۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں مذاکرات کی اہمیت
موجودہ صورتحال میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کے ساتھ ساتھ احتجاج، گرفتاریوں اور سیاسی کارکنوں سے متعلق معاملات بھی زیر بحث ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی بات ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب پارٹی کی احتجاجی سرگرمیوں اور حکومت کے ردعمل کے باعث سیاسی ماحول میں کشیدگی برقرار ہے۔
بیرسٹر گوہر کے حالیہ بیانات میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سیاسی تنازعات کو مزید بڑھانے کے بجائے فریقین کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ تاہم مذاکرات کی عملی پیش رفت اور فریقین کے درمیان کسی باضابطہ اتفاق رائے کے بارے میں فی الحال مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں، اس لیے اس معاملے میں آئندہ سیاسی رابطوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف کیا ہے؟
پی ٹی آئی کے چیئرمین کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی ایک طرف اپنے سیاسی مطالبات اور احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھنے کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت سے مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کا مؤقف بھی پیش کر رہی ہے۔ 23 ستمبر کو بیرسٹر گوہر نے بھی کہا تھا کہ پارٹی نے مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔
ان بیانات میں احتجاج کو پرامن رکھنے اور سیاسی مسائل کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ تاہم لانگ مارچ کے شیڈول اور اس سے متعلق سیاسی فیصلوں میں آئندہ ہونے والی مشاورت اہم ہوگی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ سیاسی رابطہ
حالیہ بیانات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مذاکرات کا معاملہ مکمل طور پر سیاسی منظرنامے سے باہر نہیں ہوا، تاہم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی جامع یا باضابطہ معاہدے کی تصدیق موجودہ دستیاب رپورٹس میں نہیں ہوئی۔ مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کی ضرورت پر بیانات ضرور سامنے آ رہے ہیں۔
آئندہ صورتحال میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا فریقین سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کرتے ہیں یا احتجاج اور سیاسی دباؤ کا موجودہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
نتیجہ
بیرسٹر گوہر نے ایک بار پھر سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے مؤقف اور سیاسی کارکنوں کی شکایات کو سنا جائے۔ ان کا یہ مؤقف پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ اور موجودہ سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ فی الحال مذاکرات کے حوالے سے سیاسی بیانات تو موجود ہیں، تاہم عملی پیش رفت کا انحصار حکومت اور اپوزیشن کے آئندہ رابطوں اور فیصلوں پر ہوگا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!