Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ آج شروع، پاکستان کو وائٹ واش سے بچنے کا چیلنج

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ آج ایجبسٹن برمنگھم میں شروع ہوگا۔ انگلینڈ کو سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل ہے جبکہ پاکستان وائٹ واش سے بچنے کے لیے میدان میں اترے گا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ آج شروع، پاکستان کو وائٹ واش سے بچنے کا چیلنج

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ آج شروع، پاکستان کو وائٹ واش سے بچنے کا چیلنج

برمنگھم: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ آج 9 ستمبر 2026 سے برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہو رہا ہے۔ انگلینڈ نے ابتدائی دونوں ٹیسٹ جیت کر سیریز پہلے ہی اپنے نام کر لی ہے، تاہم پاکستان کے پاس آخری میچ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز کا اختتام بہتر انداز میں کرنے کا موقع موجود ہے۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہے۔ میزبان ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی انگلینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دی۔ ان دونوں شکستوں کے بعد پاکستانی ٹیم پر تیسرے ٹیسٹ میں دباؤ واضح ہے۔

ایجبسٹن میں سیریز کا آخری معرکہ

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً دوپہر 3 بجے شروع ہوگا، جبکہ مقامی وقت کے مطابق کھیل کا آغاز صبح 11 بجے ہوگا۔

یہ میچ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ٹیم پہلے ہی سیریز ہار چکی ہے اور اب اس کے پاس صرف ایک میچ باقی ہے۔ کامیابی کی صورت میں پاکستان نہ صرف وائٹ واش سے بچ جائے گا بلکہ مشکل دورے کا اختتام کچھ اعتماد کے ساتھ کرنے میں بھی کامیاب ہوگا۔

دوسری جانب انگلینڈ کی نظریں سیریز میں 3-0 کی مکمل فتح پر مرکوز ہیں۔ میزبان ٹیم پہلے ہی دونوں میچ جیت کر اپنی برتری ثابت کر چکی ہے اور اب وہ آخری ٹیسٹ بھی جیت کر پاکستان کے خلاف کلین سویپ مکمل کرنے کی کوشش کرے گی۔

بابر اعظم کا ٹیم کو دباؤ سے آزاد ہو کر کھیلنے کا پیغام

پاکستانی کپتان بابر اعظم نے تیسرے ٹیسٹ سے قبل ٹیم کو واضح پیغام دیا ہے کہ سیریز ہاتھ سے نکل چکی ہے، اس لیے اب کھلاڑیوں کو دباؤ کے بغیر مثبت اور آزادانہ انداز میں کرکٹ کھیلنی چاہیے۔ بابر اعظم کے مطابق ٹیم کے پاس اس میچ میں کھونے کے لیے بہت کم ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں دکھانے کا یہ ایک اہم موقع ہے۔

بابر اعظم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم ایک ایسے وقت میں میدان میں اتر رہی ہے جب دورہ انگلینڈ کے دوران اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سیریز کے دوران سات کھلاڑیوں کو واپس پاکستان بھیجا گیا جبکہ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں ہوئیں۔ اس صورتحال نے ٹیم کے اندر استحکام اور تیاری کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔

پاکستان کے اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں

تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا گیا ہے۔ سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کے فیصلے کے بعد متعدد نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

ان تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے ممکنہ اسکواڈ میں کئی ایسے کھلاڑی شامل ہیں جنہیں انگلینڈ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا اہم موقع مل سکتا ہے۔ نوجوان فاسٹ بولرز عبید شاہ اور رضا اللہ سمیت نئے کھلاڑیوں سے اچھی کارکردگی کی امید کی جا رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج انگلینڈ کی مضبوط بیٹنگ اور فاسٹ بولنگ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ پہلے دونوں ٹیسٹ میں انگلش بولرز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور پاکستان بڑے اسکور کرنے میں ناکام رہا۔

انگلینڈ سیریز میں کلین سویپ کے لیے پرعزم

انگلینڈ نے پہلے دونوں ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ میزبان ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

اب انگلینڈ تیسرے ٹیسٹ میں بھی کامیابی حاصل کرکے سیریز 3-0 سے جیتنے کا خواہشمند ہے۔ انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کا دفاع بھی کیا اور کہا کہ یہ کہنا مناسب نہیں کہ پاکستان نے سیریز میں مقابلہ نہیں کیا۔

انگلینڈ کے لیے یہ ٹیسٹ اپنے ٹیسٹ سمر کا اختتام بھی ہے اور ٹیم اپنی مہم کا اختتام ایک اور کامیابی کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔ ایجبسٹن میں ستمبر کے مہینے میں ہونے والا یہ ٹیسٹ دونوں ٹیموں کے لیے مختلف چیلنجز لے کر آیا ہے، خصوصاً موسم اور گیند کی سوئنگ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے بیٹنگ سب سے بڑا امتحان

پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی تشویش بیٹنگ لائن کی کارکردگی ہے۔ پہلے دو ٹیسٹ میں پاکستانی بلے باز انگلش فاسٹ بولنگ کا بھرپور مقابلہ نہیں کر سکے۔

ایجبسٹن میں بھی پاکستانی اوپنرز اور ٹاپ آرڈر کو ابتدائی اوورز میں محتاط بیٹنگ کرنا ہوگی۔ انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نئی گیند کے ساتھ سوئنگ حاصل کرسکتے ہیں، اس لیے پاکستان کے بلے بازوں کے لیے ابتدائی سیشن انتہائی اہم ہوگا۔

بابر اعظم پر بھی خاص توجہ ہوگی۔ پاکستانی کپتان سے شائقین کو امید ہے کہ وہ اپنی بیٹنگ سے ٹیم کی قیادت کریں گے اور اہم اننگز کھیل کر پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں لانے میں کردار ادا کریں گے۔

نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بڑا موقع

پاکستان کے موجودہ اسکواڈ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایجبسٹن ٹیسٹ ایک بڑا موقع ہے۔ انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف کھیل کر نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر ثابت کرسکتے ہیں۔

خصوصاً پاکستان کی فاسٹ بولنگ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ انگلش بیٹنگ کو مشکلات سے دوچار کریں گے۔ اگر پاکستانی بولرز ابتدائی سیشن میں وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو میچ میں پاکستان کی واپسی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

انگلینڈ کی ممکنہ ٹیم

انگلینڈ نے تیسرے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ ممکنہ ٹیم میں ایمیلیو گے، بین ڈکٹ، جارڈن کاکس، جو روٹ، ہیری بروک، ڈین لارنس، جیمی اسمتھ، گس اٹکنسن، جوفرا آرچر، اولی رابنسن اور جوش ٹونگ جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔

انگلینڈ کے لیے جو روٹ اور ہیری بروک جیسے تجربہ کار بلے باز پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ جوفرا آرچر، اولی رابنسن اور دیگر فاسٹ بولرز پاکستانی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کریں گے۔

سیریز کا موجودہ صورتحال

سیریز کا پہلا ٹیسٹ انگلینڈ نے ایک اننگز اور 103 رنز سے جیتا تھا، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ یوں انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرلی ہے۔

پاکستان اب آخری ٹیسٹ جیت کر سیریز کا فرق 2-1 کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر انگلینڈ کامیاب رہا تو سیریز 3-0 سے انگلینڈ کے نام ہوجائے گی۔

شائقین کی نظریں بابر اعظم اور نوجوان کھلاڑیوں پر

پاکستانی شائقین کی نظریں ایک مرتبہ پھر بابر اعظم پر مرکوز ہیں۔ کپتان سے توقع ہے کہ وہ ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے میدان میں مثال قائم کریں گے۔

اس کے ساتھ نوجوان کھلاڑی بھی شائقین کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ چونکہ ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، اس لیے نئے کھلاڑیوں کے لیے یہ میچ اپنے بین الاقوامی کیریئر میں اہم مقام حاصل کرسکتا ہے۔

میچ کا ممکنہ منظرنامہ

ایجبسٹن کی کنڈیشنز میں ٹاس اور ابتدائی سیشن اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر موسم سازگار رہا اور گیند سوئنگ ہوئی تو فاسٹ بولرز کو مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے سیشن میں وکٹیں محفوظ رکھے اور انگلینڈ کے بولرز کو مسلسل دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرے۔

دوسری جانب انگلینڈ اپنی موجودہ فارم اور سیریز میں حاصل اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ میزبان ٹیم کی کوشش ہوگی کہ پاکستان کو دوبارہ دباؤ میں لاکر میچ کے آغاز ہی سے اپنی گرفت مضبوط کرلی جائے۔

پاکستان کے لیے آخری موقع

یہ ٹیسٹ پاکستانی ٹیم کے لیے صرف سیریز کا آخری میچ نہیں بلکہ ایک مشکل دورے کے اختتام کا موقع بھی ہے۔ پہلے دو میچوں میں شکست، اسکواڈ میں تبدیلیاں اور انتظامی معاملات نے ٹیم کے لیے صورتحال مشکل بنائی، لیکن اب کھلاڑیوں کے پاس میدان میں کارکردگی دکھا کر جواب دینے کا موقع موجود ہے۔

اگر پاکستان ایجبسٹن میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو نہ صرف وائٹ واش سے بچ جائے گا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کا اعتماد بھی بحال ہوسکتا ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ آج سے شروع ہوگا اور 13 ستمبر تک جاری رہے گا۔ پاکستانی شائقین امید کریں گے کہ قومی ٹیم سیریز کے آخری میچ میں بھرپور مزاحمت کرے گی اور انگلینڈ کو 3-0 کی کامیابی حاصل کرنے سے روک دے گی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!