تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان مشکل صورتحال سے دوچار
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آخری میچ ایجبسٹن، برمنگھم میں جاری ہے، جہاں پاکستانی ٹیم ایک بار پھر مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ سیریز کے پہلے دونوں ٹیسٹ ہارنے کے بعد پاکستان کے لیے تیسرے ٹیسٹ میں واپسی پہلے ہی اہم تھی، تاہم ابتدائی دو دن کے کھیل کے بعد انگلینڈ نے میچ پر مضبوط گرفت قائم کرلی ہے۔
پاکستان پہلی اننگز میں صرف 133 رنز پر ڈھیر ہوگیا، جس کے جواب میں انگلینڈ نے 453 رنز بنائے اور 320 رنز کی بھاری برتری حاصل کرلی۔ دوسری اننگز میں بھی پاکستان کو ابتدا میں ہی دو وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بارش کے باعث دوسرے دن کا کھیل قبل از وقت ختم ہوا تو پاکستان نے 52 رنز بنائے تھے۔
پاکستان پہلی اننگز میں صرف 133 رنز بنا سکا
تیسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، لیکن پاکستانی بلے باز انگلش فاسٹ باؤلنگ کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے۔
پاکستان نے صرف 26 رنز پر اپنی ابتدائی چار وکٹیں گنوا دی تھیں۔ سائم ایوب، اذان اویس، عبداللہ شفیق اور شان مسعود بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔
سعود شکیل نے 43 رنز کے ساتھ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ اسکور کیا، جبکہ محمد عباس نے 21 رنز بنائے۔ پوری ٹیم 33.5 اوورز میں 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
انگلینڈ کے فاسٹ باؤلرز کی شاندار کارکردگی
انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹنگ نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں۔ اولی رابنسن نے تین جبکہ جوفرا آرچر نے بھی تین پاکستانی بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
انگلش باؤلرز نے ابتدا ہی سے پاکستانی بلے بازوں پر دباؤ قائم رکھا اور سوئنگ اور سیم موومنٹ سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پاکستان کی بیٹنگ ایک مرتبہ پھر انگلش حالات میں مشکلات کا شکار نظر آئی۔
انگلینڈ نے 453 رنز بنا کر بڑی برتری حاصل کی
پاکستان کو 133 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا۔ میزبان ٹیم نے ابتدائی مشکلات کے باوجود ایک بڑا مجموعہ کھڑا کردیا۔
ہیری بروک نے 75، ڈین لارنس نے 65، جیمی اسمتھ نے 69 اور ایمیلیو گے نے 60 رنز بنائے۔ اولی رابنسن نے بھی نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے اہم 50 رنز اسکور کیے۔
انگلینڈ کی پوری ٹیم 89 اوورز میں 453 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور اسے پاکستان کے خلاف 320 رنز کی بڑی برتری حاصل ہوگئی۔
ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ کی متاثر کن کارکردگی
پاکستان کے لیے تیسرے ٹیسٹ میں ایک مثبت پہلو نوجوان فاسٹ باؤلر رضا اللہ کی شاندار کارکردگی رہی۔
اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے رضا اللہ نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ایمیلیو گے، جو روٹ، جیمی اسمتھ اور اولی رابنسن کو آؤٹ کیا۔
رضا اللہ نے 23 اوورز میں 148 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ اگرچہ ان کے رنز مہنگے ثابت ہوئے، لیکن ڈیبیو پر چار وکٹیں حاصل کرنا پاکستان کے لیے ایک اہم مثبت پہلو رہا۔
دوسری اننگز میں بھی پاکستان کو ابتدائی نقصان
320 رنز کے خسارے کے بعد پاکستان نے دوسری اننگز شروع کی تو مشکلات نے ایک بار پھر قومی ٹیم کا پیچھا کیا۔
اولی رابنسن نے اننگز کے آغاز ہی میں سائم ایوب اور عبداللہ شفیق کو آؤٹ کردیا۔ یوں پاکستان نے بغیر کوئی رن بنائے دو اہم وکٹیں گنوا دیں۔
اس کے بعد اذان اویس اور شان مسعود نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا۔ دوسرے دن کھیل ختم ہونے تک اذان اویس 29 اور شان مسعود 21 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔
پاکستان کو مزید 268 رنز درکار
بارش کے باعث دوسرے دن کا کھیل وقت سے پہلے ختم ہونے کے وقت پاکستان کا اسکور 52 رنز پر دو وکٹیں تھا۔
پاکستان اب بھی انگلینڈ کی پہلی اننگز کے اسکور سے 268 رنز پیچھے ہے۔ قومی ٹیم کے پاس دوسری اننگز میں آٹھ وکٹیں موجود ہیں اور اسے سب سے پہلے انگلینڈ کو دوبارہ بیٹنگ پر مجبور کرنے کے لیے یہ خسارہ ختم کرنا ہوگا۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے انتہائی مشکل ہے، کیونکہ انگلینڈ کی باؤلنگ لائن پہلے ہی میچ میں شاندار فارم دکھا رہی ہے۔
اولی رابنسن پاکستان کے لیے بڑا خطرہ
اولی رابنسن اس پوری سیریز میں پاکستان کے بلے بازوں کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
تیسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن انہوں نے انگلینڈ کی بیٹنگ میں نصف سنچری بنانے کے بعد پاکستان کی دوسری اننگز میں بھی ابتدائی دو وکٹیں حاصل کیں۔ اس ٹیسٹ میں ان کی مجموعی کارکردگی نے انگلینڈ کی پوزیشن مزید مضبوط کردی ہے۔
رابنسن نے سیریز میں اپنی وکٹوں کی تعداد بھی نمایاں سطح تک پہنچا دی ہے اور پاکستانی بیٹنگ لائن کے خلاف ان کی مستقل کامیابی انگلینڈ کے لیے اہم ہتھیار بن چکی ہے۔
پاکستانی بیٹنگ مسلسل دباؤ میں
پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی پریشانی اس دورے میں بیٹنگ رہی ہے۔ تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 133 رنز پر آؤٹ ہونے سے قبل بھی قومی ٹیم سیریز کے دوران متعدد مرتبہ 200 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سعود شکیل نے کہا ہے کہ انگلینڈ میں موجودہ حالات میں گیند کو خاصی لیٹرل موومنٹ مل رہی ہے، جس سے پاکستانی بلے بازوں کے لیے بیٹنگ مشکل ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بار بار کی بیٹنگ ناکامیوں کی ذمہ داری بلے بازوں کو قبول کرنا ہوگی۔
سیریز پہلے ہی انگلینڈ کے نام
تیسرے ٹیسٹ سے قبل انگلینڈ تین میچوں کی سیریز میں دو صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کرچکا ہے۔
انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز اور 103 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ اس طرح تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کا مقصد کم از کم سیریز میں ایک کامیابی حاصل کرنا تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں انگلینڈ سیریز میں کلین سوئپ کے قریب پہنچ چکا ہے۔
پاکستان کے لیے نوجوان کھلاڑی امید کی کرن
مشکل صورتحال کے باوجود پاکستانی ٹیم میں چند نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی مستقبل کے لیے امید پیدا کر رہی ہے۔
رضا اللہ نے ڈیبیو پر چار وکٹیں حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ اذان اویس نے دوسری اننگز میں محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ناٹ آؤٹ 29 رنز بنائے۔
پاکستانی ٹیم کے لیے ضروری ہوگا کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کو مناسب مواقع اور مستقل اعتماد فراہم کیا جائے تاکہ مستقبل کی ٹیسٹ ٹیم کو مضبوط بنایا جاسکے۔
بارش سے پاکستان کو کچھ وقت ملا
دوسرے دن بارش نے کھیل کو متاثر کیا اور پاکستان کو مزید نقصان سے وقتی طور پر بچنے کا موقع ملا۔
پاکستان 52 رنز پر دو وکٹوں کے ساتھ کریز پر موجود تھا جب مسلسل بارش کے باعث کھیل ختم کردیا گیا۔ تیسرے دن پاکستانی بلے بازوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج انگلش باؤلرز کا سامنا کرنا اور 268 رنز کا خسارہ ختم کرنا ہوگا۔
تیسرے دن کا کھیل فیصلہ کن ہوسکتا ہے
تیسرے دن کا آغاز پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ اذان اویس اور شان مسعود کی شراکت اگر لمبی ہوتی ہے تو پاکستان میچ میں کسی حد تک واپسی کی کوشش کرسکتا ہے۔
تاہم اگر انگلینڈ نے ابتدائی سیشن میں مزید وکٹیں حاصل کرلیں تو پاکستان پر اننگز کی شکست کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔
پاکستان کو نہ صرف محتاط بیٹنگ کرنا ہوگی بلکہ انگلینڈ کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے طویل وقت تک کریز پر رہنا ہوگا۔
نتیجہ
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میں قومی ٹیم اس وقت انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ پاکستان پہلی اننگز میں صرف 133 رنز بنا سکا، جبکہ انگلینڈ نے 453 رنز بنا کر 320 رنز کی بڑی برتری حاصل کرلی۔
پاکستان نے دوسری اننگز میں 52 رنز بنائے ہیں اور اس کی دو وکٹیں گر چکی ہیں۔ قومی ٹیم کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 268 رنز درکار ہیں۔
بارش نے دوسرے دن پاکستان کو مزید نقصان سے وقتی طور پر بچا لیا، لیکن تیسرے دن کا کھیل قومی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ اگر پاکستانی بلے باز لمبی شراکتیں قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو انگلینڈ کے لیے سیریز تین صفر سے جیتنے کا راستہ مزید آسان ہوجائے گا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!