Friday, September 18, 2026
FB
تازہ ترین

پمز میں نوزائیدہ بچوں کی اموات، 8 افسران معطل، فوجداری تحقیقات جاری

پمز میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کے بعد 8 افسران معطل کر دیے گئے، جبکہ پولیس نے واقعے کی فوجداری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پمز میں نوزائیدہ بچوں کی اموات، 8 افسران معطل، فوجداری تحقیقات جاری

پمز میں نوزائیدہ بچوں کی اموات، 8 افسران معطل، فوجداری تحقیقات جاری

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے نے ملک میں ہسپتالوں کی ایمرجنسی تیاری، فائر سیفٹی اور مریضوں کے تحفظ کے نظام پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے 8 افسران کو معطل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پمز کے واقعے نے صحت کے نظام پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد کے بڑے سرکاری تدریسی ہسپتال پمز میں پیش آنے والے واقعے میں 14 نوزائیدہ بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کہاں ناکام ہوئے اور آیا متعلقہ حکام نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی تھیں یا نہیں۔

ابتدائی انکوائری میں ہسپتال کے فائر سیفٹی پروٹوکولز اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اسی بنیاد پر حکام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ سامنے آیا۔

8 افسران کو معطل کرنے کا حکم

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کے بعد پمز کے 8 افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ معطل کیے جانے والے افسران میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت دیگر انتظامی عہدیدار شامل تھے۔

حکومتی کارروائی کا مقصد صرف انتظامی ذمہ داری کا تعین کرنا نہیں بلکہ یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ واقعے سے قبل ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کس سطح پر موجود تھے اور ہنگامی صورتحال کے دوران متعلقہ اداروں نے کس طرح کام کیا۔

پولیس کی فوجداری تحقیقات بھی جاری

معاملے نے انتظامی انکوائری سے آگے بڑھ کر قانونی تحقیقات کی شکل بھی اختیار کر لی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے واقعے سے متعلق فوجداری تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور معطل کیے گئے پمز حکام کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

تحقیقات کا بنیادی مقصد ذمہ داری کا تعین کرنا اور یہ جاننا ہے کہ کیا کسی انتظامی غفلت، حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی یا کسی دوسری کوتاہی نے اس سانحے میں کردار ادا کیا۔

فائر سیفٹی انتظامات پر توجہ

اس واقعے کے بعد ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ بڑے ہسپتالوں میں خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کے وارڈز انتہائی حساس ہوتے ہیں کیونکہ وہاں موجود مریض خود سے نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔

ایسے وارڈز میں آگ لگنے، دھوئیں یا بجلی کے کسی بڑے مسئلے کی صورت میں فوری انخلا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے فائر الارم، دھواں محسوس کرنے والے آلات، ہنگامی راستوں، بجلی کے نظام اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی کو بنیادی حفاظتی تقاضوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ابتدائی انکوائری میں پمز کے واقعے کے حوالے سے فائر سیفٹی پروٹوکولز کی کمی کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد حکام کی ذمہ داری کا معاملہ مزید اہم ہو گیا۔

نوزائیدہ بچوں کے وارڈز میں اضافی احتیاط کیوں ضروری ہے؟

نوزائیدہ بچوں کے وارڈ عام ہسپتال کے دیگر حصوں سے مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہاں ایسے بچے زیر علاج ہوتے ہیں جنہیں مسلسل طبی نگرانی، آکسیجن، وینٹیلیشن یا دیگر طبی سہولیات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

کسی بھی ہنگامی صورتحال میں طبی عملے کو بیک وقت متعدد بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ایسے وارڈز میں ہنگامی مشقیں، فائر سیفٹی تربیت اور متبادل راستوں کا فعال ہونا انتہائی اہم ہے۔

پمز کے واقعے نے اس ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ ملک کے تمام بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں حفاظتی نظام کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔

ذمہ داروں کا تعین کیوں اہم ہے؟

صحت کے شعبے میں کسی بھی بڑے حادثے کے بعد صرف فوری انتظامی کارروائی کافی نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ مکمل تحقیقات کے ذریعے واقعے کی بنیادی وجہ سامنے لائی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ مستقبل میں ایسے حادثے کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے افسران کی معطلی اور فوجداری تحقیقات کا آغاز اسی عمل کا حصہ ہے۔ اگر تحقیقات میں کسی فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب تحقیقات کے دوران یہ بھی ضروری ہے کہ حتمی ذمہ داری کا تعین شواہد اور مکمل تحقیقات کی بنیاد پر کیا جائے۔

ہسپتالوں میں سیفٹی آڈٹ کی ضرورت

پمز جیسے بڑے سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ملک کے دیگر ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں صرف جدید طبی آلات اور ڈاکٹرز کی دستیابی کافی نہیں بلکہ مریضوں کی حفاظت کے لیے عمارت، بجلی، فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور عملے کی تربیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

خاص طور پر نوزائیدہ بچوں، انتہائی نگہداشت کے مریضوں اور ایسے افراد کے لیے حفاظتی انتظامات مزید مضبوط ہونے چاہئیں جو خود ہسپتال کے اندر کسی ہنگامی صورتحال سے نکلنے کے قابل نہیں ہوتے۔

حکومت کے لیے بڑا چیلنج

پمز کا واقعہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے کیونکہ یہ ملک کے اہم ترین سرکاری طبی اداروں میں سے ایک ہے۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح حاصل ہو۔

واقعے کی تحقیقات کے نتائج مستقبل میں ہسپتالوں کے انتظامی اور حفاظتی نظام میں اصلاحات کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

واقعے سے حاصل ہونے والا سبق

اس افسوسناک واقعے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور فائر سیفٹی کو معمول کی انتظامی کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک چھوٹی سی حفاظتی کوتاہی بھی انتہائی حساس مریضوں کے لیے بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام، ایمرجنسی ایگزٹ، الارم سسٹم، بجلی کی تنصیبات اور عملے کی تربیت کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے۔

نتیجہ

پمز میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کا واقعہ پاکستان کے صحت کے نظام کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ یاد دہانی ہے۔ 8 افسران کی معطلی اور فوجداری تحقیقات سے یہ واضح ہے کہ حکومت نے معاملے کو محض ایک انتظامی واقعہ سمجھنے کے بجائے ذمہ داری کا تعین کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

اب اصل توجہ تحقیقات کے حتمی نتائج، ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام پر ہونی چاہیے۔ اگر اس سانحے کے بعد ہسپتالوں کے حفاظتی نظام کو مؤثر انداز میں بہتر بنایا جاتا ہے تو یہ کارروائی مستقبل میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!