Thursday, September 17, 2026
FB
تازہ ترین

ایران جنگ ختم ہونے کی امید، یمن میں حوثیوں اور سعودی فورسز کی جھڑپیں تیز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم اسی دوران یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملوں جبکہ سعودی طیاروں کی جانب سے یمن میں حوثی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایران جنگ ختم ہونے کی امید، یمن میں حوثیوں اور سعودی فورسز کی جھڑپیں تیز

ایران جنگ کے خاتمے کی امید کے ساتھ یمن میں کشیدگی بڑھ گئی

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کیے جانے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے ایک نئے محاذ پر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 16 ستمبر کو کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اختتامی مرحلے کے قریب ہے۔ تاہم اسی دوران یمن میں سعودی طیاروں اور حوثی فورسز کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

یمن میں لڑائی کیوں بڑھی؟

یمن میں حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھی ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ نے پورے خطے میں سکیورٹی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی اور بحیرہ احمر کے قریب اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھایا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی میں بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اہم علاقوں پر قبضہ بھی شامل ہے، جس سے سعودی عرب کے لیے سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

یمن میں 2022 کے بعد کئی محاذ نسبتاً پُرسکون رہے تھے، لیکن حالیہ پیش رفت نے دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

سعودی طیاروں کی کارروائیاں

تازہ اطلاعات کے مطابق سعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یمنی حکومت کی فورسز نے کہا کہ اتحادی طیاروں نے مغربی ساحلی شہر المخا کے اطراف حوثی ٹھکانوں اور عسکری سازوسامان پر حملے کیے۔

یمنی حکومتی فورسز کے مطابق صوبہ مارب کے شمالی حصے میں بھی حوثیوں کے خلاف ڈرون کارروائیاں کی گئیں۔ دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز، مارب اور حدیدہ سمیت مختلف علاقوں میں 40 فضائی حملے کیے۔ اس دعوے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔

حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے

حوثیوں کی جانب سے بھی سعودی عرب کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گروپ نے سعودی عرب کے اندر فوجی اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

حوثیوں نے خمیس مشیط کے ایک فوجی اڈے اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں ایک تیل کی تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ان دعوؤں کی تفصیلات میں مختلف ذرائع سے مکمل آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں دستیاب نہیں ہے۔

اس کے علاوہ حوثیوں نے مارب کے علاقے میں سعودی ایف-15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے فی الحال دعوے کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے فضائی دفاع کے لیے مدد مانگ لی

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں اپنے اتحادیوں اور بعض مغربی ممالک سے فضائی دفاعی مدد طلب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے دفاعی تعاون کی درخواست کی ہے، تاہم کسی ملک کی جانب سے فوجی مدد فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

رپورٹس کے مطابق طویل عرصے سے جاری علاقائی جنگ کے باعث میزائل دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ امریکہ کے پاس موجود بعض دفاعی ذخائر بھی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث کم ہوئے ہیں۔

امریکہ کا محتاط کردار

امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم واشنگٹن نے حوثیوں کے خلاف براہ راست بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکی حکام نے حوثی نمائندوں کے ساتھ عمان میں براہ راست بات چیت بھی کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں حوثیوں نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔

امریکی حکام نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے حمایت بھی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران جنگ کے خاتمے کی امید

خطے میں یمن کے محاذ پر کشیدگی کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے امکانات کے بارے میں امید ظاہر کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی معاہدے کا خواہاں ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔

اس لیے ایران جنگ کے خاتمے کی امید کو موجودہ مرحلے پر ایک سیاسی بیان یا امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ جنگ کے خاتمے کی تصدیق شدہ خبر کے طور پر۔

بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت

یمن میں حالیہ لڑائی کا ایک اہم پہلو بحیرہ احمر اور باب المندب آبنائے سے متعلق ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے باب المندب کے قریب صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ اس کے باعث پہلے سے متاثرہ عالمی توانائی اور بحری تجارت کے راستوں پر مزید دباؤ کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔

بحیرہ احمر میں کسی بھی بڑے پیمانے کی سکیورٹی خرابی سے تجارتی جہازوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور عالمی سطح پر شپنگ اور توانائی کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات

ایران جنگ اور یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی توانائی تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے تیل کی عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھائے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنز کو لاحق خطرات کے باعث عالمی تیل سپلائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اگر بحیرہ احمر، باب المندب یا خلیج کے اہم تجارتی راستوں میں طویل عرصے تک رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، شپنگ اخراجات اور توانائی کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

یمن کے شہریوں کے لیے نئی مشکلات

یمن پہلے ہی کئی سال سے جاری جنگ اور انسانی بحران سے متاثر ہے۔ حالیہ لڑائی میں اضافے نے شہری آبادی کے لیے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حالیہ حوثی پیش قدمی کے بعد ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی بھی بتائی گئی ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

اس صورتحال میں عالمی توجہ صرف علاقائی طاقتوں کے فوجی مقابلے تک محدود رکھنے کے بجائے شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی ضرورت پر بھی مرکوز ہے۔

پاکستان کے لیے کیا اہمیت ہے؟

یمن اور سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی برادرانہ اور معاشی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں توانائی کی قیمتوں اور سمندری تجارت میں پیدا ہونے والی کسی بڑی رکاوٹ کے اثرات پاکستان سمیت دیگر درآمدی ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔

سعودی عرب نے فضائی دفاعی تعاون کے لیے پاکستان سمیت بعض ممالک سے رابطہ کیا ہے، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق ابھی کسی ملک کی جانب سے فوجی مدد فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کے لیے صورتحال کا ایک اور اہم پہلو خلیج اور بحیرہ احمر کے ذریعے تجارت اور توانائی کی ترسیل ہے۔ خطے میں طویل کشیدگی شپنگ اور درآمدی لاگت کو متاثر کر سکتی ہے۔

آئندہ صورتحال کیا ہوسکتی ہے؟

آنے والے دنوں میں صورتحال کا انحصار ایران جنگ کے سفارتی امکانات، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان فوجی کارروائیوں، یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پوزیشن اور بحیرہ احمر کے سکیورٹی حالات پر ہوگا۔

ایک طرف ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب یمن میں لڑائی کا پھیلاؤ علاقائی کشیدگی کو ایک نئے محاذ تک لے گیا ہے۔ اس لیے کسی حتمی پیش رفت سے قبل زمینی صورتحال اور سفارتی رابطوں کی نگرانی اہم رہے گی۔

نتیجہ

ایران جنگ کے خاتمے کی امید کے باوجود یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ سعودی طیاروں کی کارروائیوں اور حوثیوں کے سعودی علاقوں پر ڈرون و میزائل حملوں نے خطے میں ایک نئے خطرناک محاذ کو نمایاں کر دیا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کے اختتام کے امکانات کے بارے میں امریکی صدر کی امید ایک سفارتی راستے کی طرف اشارہ کرتی ہے، لیکن فی الحال اس جنگ کے خاتمے کا کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ یمن میں بڑھتی کشیدگی کے باعث علاقائی سلامتی، عالمی توانائی سپلائی، بحری تجارت اور سب سے بڑھ کر عام شہریوں کی صورتحال بدستور تشویش کا باعث ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!