پی ٹی آئی مارچ کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر پابندیاں
پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت اور اس سے منسلک علاقوں میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے خیبر پختونخوا اور پنجاب سے اسلام آباد آنے والی اہم شاہراہوں پر ٹریفک محدود کرنے کے ساتھ بعض راستے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق موٹروے ایم ون، ایم 14 اور جی ٹی روڈ کے مخصوص حصوں میں دونوں اطراف سے ٹریفک بند کی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد کے داخلی راستوں اور حساس مقامات پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں نصب کی جا رہی ہیں۔
موٹروے ایم ون کہاں بند ہے؟
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم ون کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے بند کیا گیا ہے۔
اس بندش کے باعث اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ، ترنول، سنگجانی، براہمہ باہتر، برہان، ہزارہ موٹروے اور چھچھ سمیت متعلقہ انٹرچینجز سے داخلے اور اخراج پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے پہلے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ٹریفک صورتحال ضرور دیکھیں۔
ایم 14 موٹروے بھی بند
اسلام آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان کو ملانے والی موٹروے ایم 14 کے ہکلہ سے کنڈل تک حصے کو بھی دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہکلہ، فتح جنگ، پنڈی گھیب، کھڑپہ، تراپ، داؤد خیل، کوٹ بیلیاں، عیسیٰ خیل اور کنڈل سمیت متعلقہ انٹرچینجز پر بھی آمدورفت محدود کی گئی ہے۔
یہ اقدامات مارچ کے شرکا کی ممکنہ آمدورفت اور امن و امان سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
جی ٹی روڈ پر بھی ٹریفک معطل
جی ٹی روڈ این فائیو کو اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے بند کیا گیا ہے۔ یہ راستہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان اہم رابطہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے بندش سے اس روٹ پر سفر کرنے والے افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر بھی نگرانی بڑھائی گئی ہے تاکہ مارچ کے شرکا کی بڑی تعداد کی ممکنہ نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں کنٹینرز اور اضافی نفری
اسلام آباد میں سکیورٹی پلان کے تحت اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور حساس مقامات پر بڑی تعداد میں کنٹینرز منتقل کیے گئے ہیں۔
پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور اٹک کے اہم مقامات پر 2 ہزار سے زیادہ کنٹینرز منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پولیس نے پنجاب اور سندھ سے اضافی نفری اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کا سامان بھی طلب کیا ہے۔
دیگر رپورٹس میں بھی وفاقی دارالحکومت میں اضافی سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور ریڈ زون کے اطراف رکاوٹیں بڑھانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسلام آباد میں دفعہ 144
پی ٹی آئی کے ممکنہ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد میں اجتماعات پر پابندی سے متعلق دفعہ 144 نافذ کیے جانے کی بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے اور حساس مقامات کے تحفظ کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس صورتحال میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے مقررہ پابندیوں اور ٹریفک ہدایات کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔
مارچ کے حوالے سے سکیورٹی پلان
اسلام آباد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 27 ستمبر کے ممکنہ اجتماع کے لیے تفصیلی سکیورٹی پلان مرتب کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پنجاب اور سندھ سے اضافی پولیس اہلکار طلب کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں اہم مقامات کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے مختلف ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
ٹیکسلا، مارگلہ چیک پوسٹ، 26 نمبر چونگی، ترنول، اٹک اور دیگر اہم راستوں پر بھی سکیورٹی نگرانی بڑھانے کی اطلاعات ہیں۔
موبائل اور انٹرنیٹ سروس سے متعلق صورتحال
27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس محدود یا معطل کیے جانے سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق حکام نے 26 اور 27 ستمبر کو بعض علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، تاہم دیگر رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بعض اقدامات کے بارے میں حتمی سرکاری نوٹیفکیشن کا انتظار ہے۔
اس لیے شہریوں کو سروس کی حتمی صورتحال کے لیے متعلقہ حکام کے سرکاری اعلانات پر انحصار کرنا چاہیے۔
شہریوں کے لیے کیا اہم ہے؟
اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک اور خیبر پختونخوا کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر ایم ون، ایم 14 اور جی ٹی روڈ کے متاثرہ حصوں سے سفر کرنے والوں کو روانگی سے پہلے راستے کی تازہ صورتحال معلوم کرنا ضروری ہے۔ غیر ضروری سفر مؤخر کرنا بھی موجودہ صورتحال میں انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی عمومی احتیاطی ہدایات کے مطابق ہے۔
سیاسی پس منظر
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے مارچ کو اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاجی سرگرمی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے امن و امان اور حساس مقامات کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات شروع کیے ہیں۔
دونوں جانب کے سیاسی مؤقف اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم سڑکوں کی بندش اور سکیورٹی پابندیوں کا فوری اثر عام شہریوں اور مسافروں کی آمدورفت پر پڑ رہا ہے۔
آئندہ صورتحال
27 ستمبر کے قریب آتے ہی اسلام آباد اور گردونواح میں سکیورٹی اور ٹریفک سے متعلق مزید فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اہم شاہراہوں کی بندش کا دورانیہ بھی انتظامیہ اور سکیورٹی صورتحال کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔
موجودہ رپورٹس میں بعض مقامات پر موبائل سروس، اضافی نفری اور مزید راستوں کی ممکنہ بندش سے متعلق بھی اطلاعات ہیں، تاہم ہر اقدام کے لیے متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کو حتمی بنیاد سمجھنا ضروری ہوگا۔
نتیجہ
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ ایم ون، ایم 14 اور جی ٹی روڈ کے اہم حصوں پر ٹریفک بندش، کنٹینرز کی تنصیب اور اضافی سکیورٹی نفری کی تعیناتی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
صورتحال کے باعث شہریوں، مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر سے پہلے متعلقہ حکام کی تازہ ٹریفک ہدایات اور راستوں کی دستیابی چیک کریں، کیونکہ 27 ستمبر تک سکیورٹی صورتحال کے مطابق مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!