پی ٹی آئی لانگ مارچ سے قبل مذاکرات کی امید
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل سیاسی کشیدگی کم کرنے اور معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے اب بھی وقت موجود ہے۔
24 ستمبر کو جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ 27 ستمبر سے پہلے صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹے سیاسی رابطوں کے حوالے سے اہم ہو سکتے ہیں۔
وزیر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی صورت میں حکومت اور احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کے درمیان براہ راست تصادم یا تشدد کی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
بات چیت کو سیاسی راستہ قرار دیا
طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کے نزدیک سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کا راستہ مذاکرات سے نکل سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے ذریعے مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہوگی۔
انہوں نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے کہا کہ اگر پارٹی کے کسی ایسے آئینی یا قانونی حق کی نشاندہی کی جائے جو اسے حاصل نہیں، تو اس معاملے کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایسے معاملات پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے پروگرام کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے تصادم سے بچنے پر زور
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ حکومت کم سے کم طاقت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ صورتحال کسی تصادم تک نہ پہنچے۔
انہوں نے گزشتہ احتجاج کے دوران پیش آنے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات مناسب انداز میں منظم نہیں ہو سکے تھے، تاہم اس مرتبہ حکومت کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق پرامن سیاسی سرگرمی اور قانون کی پابندی کے درمیان فرق برقرار رکھتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
پی ٹی آئی کا مذاکرات سے متعلق مؤقف
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی حکومت سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ انہوں نے 25 ستمبر کو کہا کہ جب ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ کرنے جا رہی ہو تو ایسے حالات میں بات چیت ہونی چاہیے اور سیاسی کارکنوں کی شکایات کو سنا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے سیاسی اختلافات کو مذاکرات، انصاف اور شکایات کے ازالے کے ذریعے حل کرنے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لانے کے بجائے سیاسی مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
یوں موجودہ صورتحال میں حکومت اور پی ٹی آئی کے بعض بیانات میں مذاکرات کی ضرورت کا ذکر سامنے آ رہا ہے، تاہم لانگ مارچ کے حوالے سے دونوں جانب کے مؤقف میں اب بھی فرق موجود ہے۔
حکومت کے دیگر رابطوں کا مؤقف
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی 24 ستمبر کو کہا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ بیک ڈور رابطے موجود ہیں، تاہم ان کے مطابق باضابطہ مذاکرات اس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک پی ٹی آئی لانگ مارچ مؤخر نہ کرے۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کے حوالے سے مختلف سطحوں پر بات چیت کی اطلاعات موجود ہیں، لیکن باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے لیے لانگ مارچ کا معاملہ ایک اہم رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کا مؤقف
پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاجی پروگرام کو جاری رکھنے کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ پارٹی کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا اور کارکنوں کو ڈنڈے، غلیل یا کسی بھی قسم کا اسلحہ ساتھ نہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی احتجاج کے دوران سیاسی کارکنوں کی بات سننے اور ان کی شکایات کے حل پر زور دیا ہے۔
دوسری طرف حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات
لانگ مارچ کے تناظر میں اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں سکیورٹی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد، اٹک، جہلم، چکوال اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت کے اہم داخلی راستوں پر بھی سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی مسلسل پرامن احتجاج کے حق پر زور دے رہی ہے۔
آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اہم
طلال چوہدری کے مطابق آئندہ ایک سے دو دن میں سیاسی صورتحال کے حوالے سے پیش رفت کی امید موجود ہے۔ ان کے بیان میں اس امکان کا ذکر کیا گیا کہ اگر بات چیت کے ذریعے کوئی معاملہ طے پا گیا تو لانگ مارچ کی نوبت نہ آئے۔
تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق اس وقت تک حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی حتمی معاہدے یا لانگ مارچ کے مؤخر ہونے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سیاسی صورتحال میں یہ بھی اہم ہے کہ حکومت مذاکرات کو لانگ مارچ سے پہلے ہونے والی پیش رفت سے جوڑ رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنے احتجاجی پروگرام اور سیاسی مطالبات کے حوالے سے مختلف رہنماؤں کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کر رہی ہے۔
سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش
موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے مذاکرات اور سیاسی حل کا ذکر سامنے آنا اہم پیش رفت ہے، تاہم عملی مذاکرات کی شکل اور شرائط ابھی واضح نہیں ہیں۔
ایک طرف حکومتی نمائندے کہہ رہے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کے بعض عہدیدار یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ لانگ مارچ مؤخر کیے بغیر باضابطہ مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔
اس اختلاف کے باوجود آئندہ 24 سے 48 گھنٹے سیاسی رابطوں کے حوالے سے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
نتیجہ
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے پہلے مذاکرات کے لیے وقت باقی ہونے کی بات کی ہے اور آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی بھی سیاسی اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دے رہی ہے، تاہم لانگ مارچ مؤخر کرنے اور مذاکرات شروع کرنے کے معاملے پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں فرق برقرار ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!