Friday, September 18, 2026
FB
تازہ ترین

یمن میں لڑائی تیز، ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد بے گھر

یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں جاری شدید لڑائی کے باعث حالیہ دنوں میں ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان تعز اور لحج سمیت مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد سمندری راستے سے جبوتی بھی پہنچ رہے ہیں۔

یمن میں لڑائی تیز، ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد بے گھر

یمن میں مغربی ساحلی علاقوں میں حکومت نواز فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور یمنی حکام کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ مزید خاندان محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔

یمن میں تازہ لڑائی کی صورتحال

یمن کے مغربی ساحلی خطے میں حالیہ ہفتوں کے دوران مسلح جھڑپوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حوثی فورسز کی پیش قدمی اور حکومتی و اتحادی فورسز کی جوابی کارروائیوں نے کئی علاقوں میں شہری آبادی کو متاثر کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق 18 ستمبر تک گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 112,000 افراد یمن کے اندر بے گھر ہوئے، جبکہ تقریباً 3,000 افراد سمندری راستے سے جبوتی پہنچے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب یمن پہلے ہی کئی برس سے جاری جنگ، معاشی بحران اور انسانی امداد کی شدید ضرورت سے دوچار ہے۔

ایک لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور

اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کے مطابق یکم سے 15 ستمبر کے دوران تقریباً 101,208 افراد کے بے گھر ہونے کا ریکارڈ درج کیا گیا، جبکہ جون میں شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد مجموعی تعداد 104,796 تک پہنچ گئی تھی۔

دوسری جانب یمن کی بے گھر افراد کے کیمپوں سے متعلق انتظامی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق یکم سے 15 ستمبر کے دوران 122,297 افراد پر مشتمل 17,852 خاندانوں کی نقل مکانی ریکارڈ کی گئی۔ مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں فرق کی وجہ ان کے ریکارڈنگ کے طریقہ کار، رپورٹنگ کی مدت اور جغرافیائی کوریج کا مختلف ہونا ہے۔

تعز اور لحج سب سے زیادہ متاثر

IOM کے مطابق حالیہ نقل مکانی کا سب سے بڑا بوجھ تعز گورنریٹ نے برداشت کیا، جہاں 15 ستمبر تک تقریباً 63,624 بے گھر افراد کی میزبانی کی جا رہی تھی۔ اس کے بعد لحج میں 26,364 افراد، الحدیدہ میں 8,148، عدن میں 3,570 اور ابین میں 2,532 افراد کی نقل مکانی ریکارڈ کی گئی۔

یمنی حکام کے مطابق بھی تعز اور لحج میں بے گھر خاندانوں کی تعداد نمایاں رہی ہے۔ بعض خاندان ایسے بھی ہیں جو پہلے جنگ کے باعث نقل مکانی کر چکے تھے اور تازہ لڑائی کے بعد دوبارہ اپنا ٹھکانہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

شہریوں کے لیے انسانی بحران مزید سنگین

حالیہ لڑائی نے یمن کے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو رہائش، خوراک، صاف پانی، طبی سہولت اور تحفظ سمیت بنیادی ضروریات کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نقل مکانی میں مسلسل اضافے سے مقامی آبادیوں اور عارضی پناہ گاہوں پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ UNHCR نے اندرون ملک متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی مالی وسائل کی ضرورت بھی ظاہر کی ہے۔

بچوں پر جنگ کے اثرات

یونیسف کے مطابق تازہ لڑائی نے لاکھوں یمنی بچوں کے لیے پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ادارے کے مطابق حالیہ دو ہفتوں کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

یونیسف نے یہ بھی بتایا کہ لڑائی کے باعث متعدد صحت مراکز اور سیکڑوں تعلیمی اداروں کی خدمات متاثر ہوئی ہیں، جس سے بچوں کی تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولتوں تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

یہ صورتحال ایسے ملک میں سامنے آ رہی ہے جہاں جنگ سے پہلے ہی لاکھوں بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت تھی اور غذائی قلت سمیت متعدد مسائل موجود تھے۔

ہزاروں افراد جبوتی پہنچ گئے

یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث کچھ خاندان بحیرہ احمر عبور کرکے جبوتی پہنچ رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 3,000 افراد یمن سے سمندری راستے سے جبوتی پہنچے ہیں۔

یہ سفر بھی خطرات سے خالی نہیں۔ پناہ گزینوں میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں اور کئی افراد انتہائی محدود سامان کے ساتھ یمن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

جبوتی حکومت نے مزید مہاجرین کی آمد کے لیے تیاری شروع کر دی ہے، تاہم بڑی تعداد میں نئے افراد کی آمد سے وہاں صحت، تعلیم، رہائش اور دیگر بنیادی خدمات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

باب المندب کی اہمیت

یمن کی موجودہ لڑائی صرف مقامی انسانی بحران تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک اہم عالمی بحری راستے سے بھی ہے۔ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری گزرگاہ شمار ہوتی ہے۔

مغربی ساحل پر لڑائی میں اضافہ اور باب المندب کے قریب فوجی سرگرمیوں نے عالمی جہاز رانی اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ حالیہ پیش رفت نے سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے۔

پاکستان کے لیے کیا اہمیت ہے؟

یمن کی صورتحال پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کا اثر علاقائی امن، سمندری تجارت اور توانائی کی عالمی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

پاکستانی شہریوں کے لیے خلیجی ممالک سے متعلق سفری اور روزگار کے معاملات بھی خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال سے جڑے ہوتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات کے پاکستان پر براہ راست معاشی یا سکیورٹی اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید پیش رفت اور قابل اعتماد اعداد و شمار کا انتظار ضروری ہے۔

انسانی امداد کی فوری ضرورت

اقوام متحدہ اور دیگر انسانی اداروں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے خوراک، پانی، رہائش، صحت اور تحفظ کی سہولتیں فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

مسلسل نقل مکانی کے باعث امدادی اداروں کے لیے بھی متاثرہ علاقوں تک رسائی اور نئی آبادیوں کی ضروریات کا اندازہ لگانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ IOM کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ستمبر کے دوران بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

نتیجہ

یمن میں تازہ لڑائی نے ایک بار پھر شہری آبادی کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد افراد کی حالیہ نقل مکانی، ہزاروں افراد کا جبوتی کی جانب فرار اور بچوں کی تعلیم و صحت پر پڑنے والے اثرات صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں فرق موجود ہے، تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ مغربی یمن میں جاری کشیدگی نے بڑے پیمانے پر نئی نقل مکانی پیدا کی ہے اور فوری انسانی امداد کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!