Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

سندھ طاس معاہدہ: بھارت کو بڑا دھچکا، عالمی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کر دی

سندھ طاس معاہدے پر ہیگ کی عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے معاہدہ برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا، بھارت نے فیصلے کو مسترد کر دیا۔

سندھ طاس معاہدہ: بھارت کو بڑا دھچکا، عالمی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کر دی

سندھ طاس معاہدہ: بھارت کو بڑا دھچکا، عالمی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کر دی

اسلام آباد: سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ تازہ فیصلے کو پاکستان کے لیے اہم قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی ثالثی عدالت کے مطابق بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش قانونی طور پر قابلِ قبول بنیاد فراہم نہیں کرتی۔ عدالت نے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ کسی دہشت گرد حملے یا تبدیل شدہ حالات کی بنیاد پر ایک فریق معاہدے کی ذمہ داریوں سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو سکتا ہے۔

فیصلے میں بھارت کے رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق بھی اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عدالت نے منصوبے کے بعض حصوں پر عارضی پابندیاں برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ منصوبے کی معاہدے کے تحت مطابقت کا جائزہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کے ذریعے لیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارت کا مؤقف تھا کہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ اس وقت تک معمول کی صورت میں فعال نہیں ہو سکتا جب تک اس کی جانب سے مبینہ سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر پیش رفت نہیں ہوتی۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر بھی بھارت کے اقدام پر اعتراض اٹھایا اور معاہدے کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔

1960 میں عالمی بینک کی معاونت سے طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کے بنیادی حقوق تسلیم کیے گئے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی بھارت کے لیے مختص کیے گئے تھے۔

تازہ عدالتی فیصلے کے بعد بھارت کو ایک اہم قانونی اور سفارتی چیلنج کا سامنا ہے۔ تاہم بھارت نے ثالثی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کی تشکیل اور کارروائی قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں اور اس کا فیصلہ بھارتی خودمختار فیصلوں یا جاری منصوبوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب پاکستان کے لیے یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ عالمی ثالثی فورم نے معاہدے کی قانونی حیثیت برقرار رہنے کی تصدیق کی ہے۔ اس سے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی ذمہ داریوں سے کوئی بھی فریق اپنی مرضی سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔

ماہرین کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق قانونی تنازع اب صرف پانی کی تقسیم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل کے سفارتی تعلقات، پن بجلی منصوبوں اور جنوبی ایشیا کی علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تازہ پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کا مسئلہ انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کے لیے دریاؤں کے پانی کا مسلسل اور قابلِ پیش گوئی بہاؤ زرعی معیشت، غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کے روزگار سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

دوسری طرف بھارت نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ معاہدے سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ یوں عدالتی فیصلے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کی تشریح اور عمل درآمد کا تنازع بدستور برقرار ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ عدالت کا فیصلہ معاہدے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار بھارت کے آئندہ اقدامات اور دونوں ممالک کے درمیان جاری قانونی و سفارتی کشیدگی پر ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!