پاکستان نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی گروپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے میں کردار ادا کرے۔ یہ اہم سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کا یہ پیغام صرف ایک معمول کی سفارتی اپیل نہیں بلکہ موجودہ علاقائی صورتحال میں اسلام آباد کی مشکل سفارتی پوزیشن کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ اور ہمسایہ تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ سیاسی، معاشی، دفاعی اور عوامی روابط موجود ہیں۔ ایسے حالات میں اسلام آباد کی کوشش دکھائی دیتی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے خلاف براہ راست محاذ آرائی کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی راہ نکالے۔
حالیہ صورتحال اس وقت مزید حساس ہوگئی جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں مختلف اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم مقامات متاثر ہوئے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق 8 ستمبر کو ہونے والے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ بعض توانائی تنصیبات میں عارضی طور پر کام بھی متاثر ہوا۔
پاکستان نے ایران سے کیا کہا؟
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران تک یہ پیغام پہنچایا کہ تہران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف حملوں کو رکوانے کی کوشش کرے۔ رپورٹ میں سعودی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد اس معاملے میں سفارتی رابطے کو اہمیت دے رہا ہے۔
پاکستان کی طرف سے یہ پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خلیجی خطے کے امن و استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔
اسلام آباد کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں پاکستان کے لیے اہم ممالک ہیں۔ پاکستان ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور تجارتی روابط موجود ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب پاکستان کا اہم دوست ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
اسی وجہ سے پاکستان کا موجودہ سفارتی کردار ایک محتاط توازن کی مثال بن رہا ہے۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں کیا ہوا؟
حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ رپورٹس کے مطابق حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں میں سعودی عرب کی توانائی سے متعلق تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔ سعودی حکام نے صورتحال کو خطرناک قرار دیا جبکہ حملوں کے نتیجے میں 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ حملوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ دوسری جانب سعودی قیادت نے اپنی سرزمین، شہریوں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔
اس کے بعد سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ یوں صورتحال ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں ایک حملے کے بعد دوسرا حملہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔
10 ستمبر کو بھی حملوں کی اطلاعات
صورتحال صرف گزشتہ حملوں تک محدود نہیں رہی۔ 10 ستمبر کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب مزید بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے۔ فوری طور پر ان حملوں سے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
یمن کے حوثیوں کی جانب سے بھی سعودی جوابی کارروائیوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یمن کا تنازع ایک مرتبہ پھر وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں پاکستان نے ایران سے رابطہ کیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف: سعودی عرب کی سلامتی اہم ہے
پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی واضح مذمت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے حملے بے گناہ انسانی جانوں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستانی حکومت نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ دفتر خارجہ نے بھی حملوں کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اس مؤقف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سرزمین پر ہونے والے حملوں کو معمولی معاملہ نہیں سمجھتا۔
تاہم اسلام آباد کے پیغام کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے ایران کے ذریعے حوثیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کا حوثیوں کے بارے میں مؤقف کیا ہے؟
ایران اور حوثیوں کے تعلقات اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو ہیں۔ حوثی گروپ یمن کے ایک بڑے حصے پر اثر رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے سیاسی اور عسکری روابط کے حوالے سے طویل عرصے سے بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع نے پاکستان کے پیغام کی ترسیل کی تصدیق کی، تاہم ایرانی مؤقف یہ رہا ہے کہ تہران حوثیوں کو براہ راست کنٹرول نہیں کرتا۔ دوسری جانب امریکی اور دیگر مغربی حکام حوثیوں اور ایران کے درمیان تعاون اور حمایت کو علاقائی تنازعات میں ایک اہم عنصر قرار دیتے رہے ہیں۔
یہی اختلاف پاکستان کے لیے سفارتی چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگر ایران یہ مؤقف برقرار رکھتا ہے کہ حوثی اس کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہیں تو تہران کے لیے حملے رکوانا یا حوثیوں کو محدود کرنا بھی ایک پیچیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔
اس کے باوجود پاکستان کا خیال ہے کہ ایران کے پاس حوثیوں کے ساتھ اپنے روابط کی وجہ سے صورتحال پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔
پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے معاملے میں کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں دفاعی تعاون کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا انتظام بھی اسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ اگر یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیلتا ہے اور سعودی سرزمین کے خلاف جارحیت جاری رہتی ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق اس معاہدے کے تحت ایک رکن پر جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور اجتماعی تحفظ کے اصول پر مبنی ہے۔
یہ بیان موجودہ صورتحال میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
پاکستان براہ راست جنگ کا حصہ بننا نہیں چاہتا
اس پوری صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اب تک اپنی پوزیشن کو دفاعی اور سفارتی نوعیت تک محدود رکھنے پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد کے لیے یہ ضروری ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی وعدوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ کشیدگی سے بھی بچا جائے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن بھی اسے اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد ہے اور سرحدی علاقوں میں امن پاکستان کی داخلی سلامتی اور تجارت کے لیے بھی اہم ہے۔
اگر پاکستان اور ایران کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات سرحدی تجارت، سکیورٹی، توانائی اور علاقائی تعاون پر پڑ سکتے ہیں۔
اسی لیے اسلام آباد کا موجودہ راستہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بھی جاری رکھا جائے۔
خلیج میں بڑھتی کشیدگی پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
خلیجی خطہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کرتے ہیں اور ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پاکستانی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سعودی عرب میں کوئی بڑا سکیورٹی بحران صرف سعودی عوام یا حکومت کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ اس کے اثرات وہاں مقیم پاکستانی کارکنوں، کاروباری سرگرمیوں اور پاکستان کو آنے والی ترسیلات زر تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ خلیجی خطے میں جنگ یا شدید کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ پاکستانی معیشت اور عام صارف دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچنے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی اور خطے میں بحری حملوں نے عالمی توانائی کی سپلائی کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کا مسئلہ
مشرق وسطیٰ میں موجودہ بحران صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی صورتحال انتہائی حساس ہے۔
یہ آبی راستہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے تو دنیا بھر میں تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں، اس قسم کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوسکتے ہیں۔
اس لیے اسلام آباد کے لیے مشرق وسطیٰ میں امن صرف سفارتی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔
پاکستان کا سفارتی کردار کیوں اہم ہوسکتا ہے؟
پاکستان کے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی مقام فراہم کرتے ہیں۔
ماضی میں بھی پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے متوازن سفارتی زبان استعمال کی ہے۔ پاکستان کسی ایسے تنازع میں براہ راست فریق بننے سے گریز کرتا رہا ہے جس سے خطے میں مسلم ممالک کے درمیان تقسیم مزید گہری ہو۔
موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کا پیغام یہی معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین پر حملے رکنے چاہئیں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جانا چاہیے۔
یہ ایک ایسا مؤقف ہے جس میں پاکستان ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کا تاریخی پس منظر
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر بھی مضبوط روابط موجود ہیں۔
سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری کام کرتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے سعودی عرب سے آنے والی ترسیلات زر اہم ہیں۔
دفاعی میدان میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ پاکستانی فوجی اہلکار مختلف ادوار میں سعودی عرب میں تربیت اور دفاعی تعاون کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
اسی وجہ سے سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے ایک حساس معاملہ ہے۔
تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی خراب نہ ہونے دے۔
حوثی حملوں کے علاقائی اثرات
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی یمن کے اندر جاری بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
یمن پہلے ہی کئی برسوں سے جنگ، سیاسی تقسیم اور انسانی بحران کا شکار رہا ہے۔ 2022 میں جنگ بندی کے بعد صورتحال میں نسبتاً سکون آیا تھا، لیکن حالیہ حملوں نے اس امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اگر میزائل حملے، ڈرون حملے اور جوابی فضائی کارروائیاں مسلسل جاری رہتی ہیں تو نہ صرف یمن بلکہ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور عالمی تجارتی راستے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
Dawn کی رپورٹ کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد سعودی قیادت میں اتحاد کی جانب سے یمن کے مختلف علاقوں میں جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پاکستان کے سامنے تین بڑے چیلنجز
موجودہ صورتحال میں پاکستان کو کم از کم تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
پہلا چیلنج سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے دفاعی وعدوں کو پورا کرنا ہے۔
دوسرا چیلنج ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ پاکستان خود کسی ایسی جنگ میں نہ الجھے جو اس کی معیشت اور داخلی سلامتی پر دباؤ ڈال سکے۔
پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہوسکتا ہے کہ وہ سفارتی رابطے بڑھائے، تمام فریقوں کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کرے اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح رکھے۔
کیا پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کرسکتا ہے؟
موجودہ صورتحال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار حاصل کرلے گا، لیکن اسلام آباد کے پاس سفارتی رابطے کے لیے ایک اہم موقع ضرور موجود ہے۔
پاکستان کے ایران کے ساتھ براہ راست تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی اس کے انتہائی قریبی روابط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے دیا جانے والا پیغام دوسرے کئی ممالک کے مقابلے میں مختلف اہمیت رکھ سکتا ہے۔
اگر اسلام آباد تہران کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ سعودی عرب پر مسلسل حملے خطے میں بڑے تنازع کا سبب بن سکتے ہیں تو ممکن ہے کہ سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔
تاہم اس کے لیے صرف پاکستان کی کوشش کافی نہیں ہوگی۔ ایران، حوثیوں، سعودی عرب اور یمن کے دیگر فریقوں سمیت بڑے عالمی کھلاڑیوں کو بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاکستان کی موجودہ پالیسی کا بنیادی مقصد
موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو پاکستان کی پالیسی کے تین اہم مقاصد نظر آتے ہیں۔
پہلا مقصد سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت ہے۔
دوسرا مقصد ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ہے۔
تیسرا مقصد یہ ہے کہ موجودہ تنازع پورے خطے میں وسیع جنگ کی شکل اختیار نہ کرے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ صورتحال قابو میں آئے گی اور تنازع مزید نہیں پھیلے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دفاعی معاہدے کی شرائط کی پابندی کرے گا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان خود سے جارحانہ کارروائی کا آغاز کرے گا۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
اب سب کی نظریں ایران کے ردعمل، حوثیوں کے آئندہ اقدامات اور سعودی عرب کی جوابی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔
اگر حملے رک جاتے ہیں تو سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا موقع پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر سعودی عرب کے اہم شہروں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے جاری رہتے ہیں تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم سفارتی امتحان ہوگا۔ اسلام آباد کو ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی وعدوں کو دیکھنا ہوگا اور دوسری طرف ایران کے ساتھ سرحدی و سفارتی تعلقات کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
اس کے ساتھ پاکستان کو اپنی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو بھی نظر میں رکھنا ہوگا کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور توانائی کی درآمدات کو متاثر کرسکتی ہے۔
نتیجہ
پاکستان کی جانب سے ایران کو سعودی عرب پر حوثی حملے روکنے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرنے کا پیغام موجودہ مشرق وسطیٰ بحران میں ایک اہم سفارتی قدم ہے۔
اسلام آباد نے واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف حملے قابل قبول نہیں، تاہم پاکستان اس مسئلے کو وسیع جنگ میں تبدیل ہوتے دیکھنا بھی نہیں چاہتا۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی اور دفاعی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی قائم رکھے۔ اسی توازن کے ذریعے اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
اگرچہ موجودہ حالات انتہائی پیچیدہ ہیں، لیکن پاکستان کے پاس ایک ایسا سفارتی مقام موجود ہے جہاں وہ براہ راست جنگ کا حصہ بننے کے بجائے مذاکرات، رابطے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو آگے بڑھا سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں آنے والے دن انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر حوثیوں کے حملے اور سعودی جوابی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو بحران کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے، جبکہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کا موقع پیدا ہوسکتا ہے۔
پاکستان کا موجودہ پیغام اسی کوشش کی طرف اشارہ کرتا ہے: سعودی عرب کی سلامتی کا دفاع، ایران کے ساتھ رابطہ اور پورے خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی کوشش۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!