Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

المکہ ایئرپورٹ پر ہمارا قبضہ ہے، مزاحمت کرنیوالوں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں، حوثیوں کا دعویٰ

حوثیوں سے منسوب ایک دعوے میں مکہ ایئرپورٹ پر قبضے اور مزاحمت کرنے والوں کے ہتھیار ڈالنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ سعودی سرکاری ذرائع مکہ کے لیے جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو اہم فضائی مرکز قرار دیتے ہیں۔

المکہ ایئرپورٹ پر ہمارا قبضہ ہے، مزاحمت کرنیوالوں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں، حوثیوں کا دعویٰ

حوثیوں کا مکہ ایئرپورٹ پر قبضے کا دعویٰ

مکہ مکرمہ: یمن کے حوثی گروپ سے منسوب ایک دعوے میں کہا گیا ہے کہ مکہ ایئرپورٹ پر ان کا قبضہ ہو گیا ہے اور مزاحمت کرنے والوں نے مبینہ طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ اور معتبر ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے درمیان لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے اور سعودی عرب کو بھی حوثیوں کی جانب سے حملوں کے خطرے کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے میں کشیدگی میں اضافے کے باعث سعودی عرب کی سیکیورٹی صورتحال بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

دعوے میں کیا کہا گیا؟

حوثیوں سے منسوب بیان میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ مکہ ایئرپورٹ ان کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ دعوے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہاں موجود مزاحمت کرنے والوں نے مقابلہ ختم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔

تاہم دستیاب معتبر رپورٹس میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ نہ ہی ایسی قابل اعتماد معلومات دستیاب ہیں جن کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر کہا جا سکے کہ سعودی عرب کے کسی ایئرپورٹ پر حوثیوں نے زمینی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

مکہ کے ہوائی اڈے سے متعلق اہم وضاحت

اس دعوے کے حوالے سے ایک اہم جغرافیائی اور انتظامی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری ذرائع مکہ مکرمہ کی فضائی آمدورفت کے حوالے سے جدہ میں واقع کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو اہم مرکز کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ جدہ میں واقع ہے اور مکہ ریجن کی ضروریات اور حج و عمرہ کے مسافروں کی بڑی تعداد کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ اگست 2026 میں مکہ ریجن کے نائب گورنر نے بھی اسی ایئرپورٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا۔

سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن بھی حج کے لیے استعمال ہونے والے اہم ہوائی اڈوں میں جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، مدینہ، طائف، ریاض، دمام اور ینبع کے ہوائی اڈوں کا ذکر کرتی ہے۔

اس لیے حوثیوں کے بیان میں استعمال ہونے والی "مکہ ایئرپورٹ" کی اصطلاح کے بارے میں مزید وضاحت اور تصدیق ضروری ہے۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ معتبر بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملے کیے گئے ہیں جبکہ سعودی عرب نے بھی یمن میں حوثی اہداف کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

الجزیرہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے بعد سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی الرٹس بھی جاری ہوئے، جبکہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی حالیہ دنوں میں خبردار کیا کہ سعودی عرب پر حملہ یا یمن کی صورتحال کا سعودی عرب تک پھیلاؤ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو فعال کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گزشتہ ماہ طے پایا تھا۔

سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کی صورتحال

سعودی سرکاری معلومات کے مطابق کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ جدہ سعودی عرب کے اہم ترین فضائی مراکز میں شامل ہے اور حج و عمرہ کے مسافروں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ستمبر 2026 کے آغاز میں کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بین الاقوامی ایئرپورٹس کونسل کی جانب سے مسافروں کے تجربے اور صحت و سلامتی سے متعلق دو بین الاقوامی اعزازات بھی ملے۔

اس پس منظر میں کسی بڑے ایئرپورٹ پر قبضے کی خبر کی تصدیق کے لیے سعودی حکومت، جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن، ایئرپورٹ انتظامیہ اور معتبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس انتہائی اہم ہوں گی۔

دعوے کی آزادانہ تصدیق کیوں ضروری ہے؟

عسکری تنازعات کے دوران مختلف فریق اپنی کارروائیوں کو کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی ایک فریق کے بیان کو فوری طور پر حتمی حقیقت سمجھنا صحافتی طور پر درست نہیں ہوتا۔

خصوصاً کسی ایسے مقام کے بارے میں جس کی مذہبی، سیاسی اور سیکیورٹی اہمیت غیر معمولی ہو، تصدیق کے متعدد ذرائع ضروری ہوتے ہیں۔

مکہ مکرمہ مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر ہے اور اس سے متعلق کسی بھی عسکری پیش رفت کی خبر پوری دنیا میں انتہائی حساس سمجھی جائے گی۔ اسی وجہ سے اس دعوے کو فی الحال حوثیوں کے مؤقف یا دعوے کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

سعودی حکام کے مؤقف کی اہمیت

اگر حوثیوں کا دعویٰ درست ہے تو سعودی حکام کی جانب سے اس کی تصدیق یا وضاحت سامنے آنا اہم ہوگا۔ دوسری جانب اگر دعویٰ غلط یا گمراہ کن ہے تو سعودی حکام کی تردید بھی صورتحال واضح کرنے میں مدد دے گی۔

اس وقت دستیاب سرکاری سعودی معلومات میں جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی معمول کی سرگرمیوں اور اس کی انتظامی کارکردگی سے متعلق معلومات موجود ہیں، لیکن حوثیوں کے قبضے کی تصدیق موجود نہیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے اس خبر کی اہمیت

سعودی عرب میں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی سیکیورٹی صورتحال پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، جبکہ ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی شہری حج اور عمرہ کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کے باعث یمن اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان میں بھی خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب پر بلااشتعال حملے یا یمن کی جنگ کے سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر غیرمصدقہ اطلاعات سے احتیاط

ایسی حساس صورتحال میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز، تصاویر اور دعوے تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ تاہم ہر ویڈیو یا پوسٹ کو موجودہ واقعے کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

خبر کی تصدیق کے لیے ویڈیو کی تاریخ، مقام، اصل ماخذ اور دیگر آزاد ذرائع سے موازنہ ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور پر جنگی حالات میں پرانی فوٹیج کو نئے واقعات سے جوڑ کر پیش کیے جانے کا امکان موجود رہتا ہے۔

آئندہ صورتحال کیا ہو سکتی ہے؟

اگر حوثیوں کے دعوے کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آتی ہیں تو سب سے اہم پیش رفت سعودی حکام یا متعلقہ سیکیورٹی اداروں کا بیان ہوگا۔

اسی طرح ایئرپورٹ کی پروازوں کی صورتحال، فضائی حدود، مسافروں کی آمدورفت اور ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی معلومات بھی دعوے کی حقیقت جانچنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

دوسری جانب یمن میں جاری لڑائی کے مزید پھیلنے کی صورت میں سعودی عرب کے خلاف حملوں اور خطے میں سیکیورٹی کشیدگی میں اضافے کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی سطح پر بھی یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

نتیجہ

حوثیوں سے منسوب دعوے میں مکہ ایئرپورٹ پر قبضے اور مزاحمت کرنے والوں کے ہتھیار ڈالنے کی بات کی گئی ہے، لیکن اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

سعودی سرکاری ذرائع مکہ مکرمہ کی فضائی آمدورفت کے حوالے سے جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو اہم فضائی مرکز کے طور پر بیان کرتے ہیں، اس لیے دعوے میں استعمال ہونے والی "مکہ ایئرپورٹ" کی اصطلاح بھی وضاحت طلب ہے۔

ThePakGlobal اس خبر کو حوثیوں کے دعوے کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے۔ جب تک سعودی حکام یا معتبر آزاد ذرائع سے مزید تصدیق سامنے نہیں آتی، اس دعوے کو مصدقہ واقعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!