Monday, September 14, 2026
تازہ ترین

حوثیوں کی یمن میں پیش قدمی، بحیرۂ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہوں پر خطرات مزید بڑھ گئے

یمن میں حوثیوں کی تیز پیش قدمی نے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں عالمی تجارتی جہاز رانی کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ حوثی فورسز نے مغربی ساحلی علاقوں میں اہم مقامات تک رسائی حاصل کرلی ہے، جبکہ پیرم جزیرے اور باب المندب کے قریب پیش قدمی نے تیل اور عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے کے مستقبل پر تشویش پیدا کردی ہے۔

حوثیوں کی یمن میں پیش قدمی، بحیرۂ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہوں پر خطرات مزید بڑھ گئے

یمن میں حوثیوں کی تیز پیش قدمی

یمن میں ایران سے منسلک حوثی فورسز کی حالیہ تیز پیش قدمی نے مشرق وسطیٰ کے بحران کو ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں کئی اہم مقامات کی جانب پیش قدمی کی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے باب المندب کے قریب عالمی بحری تجارت کے لیے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

حالیہ پیش قدمی کے دوران حوثی فورسز نے اہم ساحلی شہر موخا اور اس کے اطراف میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا، جبکہ پیرم جزیرے تک بھی ان کی رسائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ پیرم جزیرہ آبنائے باب المندب کے انتہائی قریب واقع ہے اور اس سمندری راستے پر نظر رکھنے کے لیے اس کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

باب المندب کیوں اہم ہے؟

آبنائے باب المندب یمن اور افریقہ کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔

ایشیا سے یورپ جانے والے بحری جہازوں کے لیے یہ راستہ نہایت اہم ہے کیونکہ بحیرۂ احمر کے ذریعے جہاز نہر سویز تک پہنچتے ہیں۔ نہر سویز کے راستے یورپ جانے والی تجارت کے لیے باب المندب ایک بنیادی داخلی راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق باب المندب تقریباً 18 میل چوڑی گزرگاہ ہے اور عالمی تجارت، خصوصاً تیل اور دیگر اجناس کی نقل و حرکت کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی مسلح گروپ کی بڑھتی ہوئی موجودگی عالمی شپنگ کمپنیوں، توانائی کی منڈیوں اور بڑے تجارتی ممالک کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

موخا پر پیش قدمی نے تشویش کیوں بڑھائی؟

موخا بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم یمنی بندرگاہی شہر ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اس علاقے میں پیش قدمی نے انہیں باب المندب کے مزید قریب پہنچا دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے موخا پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد بحیرۂ احمر کے ہانش جزائر کی جانب بھی پیش قدمی کی، جس سے انہیں اہم بحری راستے کے قریب مزید اسٹریٹجک پوزیشن حاصل ہوگئی۔

اس صورتحال کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی بحری راستہ لازماً بند ہوچکا ہے، لیکن حوثیوں کی جغرافیائی پوزیشن مضبوط ہونے سے مستقبل میں جہاز رانی کو خطرہ پیدا کرنے کی ان کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔

پیرم جزیرے کی اہمیت

حالیہ بحران میں پیرم جزیرہ خاص طور پر اہم ہوگیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثی فورسز جمعہ کے روز باب المندب کے اندر واقع اس اہم جزیرے تک پہنچ گئیں۔ جزیرے کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ وہاں موجودگی آبنائے سے گزرنے والی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے یا انہیں خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت بڑھا سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی کو محض یمن کی اندرونی جنگ کے تناظر میں نہیں دیکھا جارہا بلکہ اس کے عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات بھی زیر بحث ہیں۔

کیا باب المندب مکمل طور پر بند ہوگیا ہے؟

اس معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔

حوثیوں سے منسلک ذرائع کی جانب سے باب المندب پر مکمل کنٹرول کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم مختلف بین الاقوامی رپورٹس بنیادی طور پر یہ بتاتی ہیں کہ حوثی فورسز آبنائے کے قریب اہم علاقوں تک پہنچ گئی ہیں اور اس گزرگاہ کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے۔

لہٰذا موجودہ صورتحال کو فوری طور پر عالمی بحری راستے کی مکمل بندش قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اصل تشویش یہ ہے کہ حوثیوں کی نئی پوزیشن مستقبل میں جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

عالمی تجارت کے لیے خطرہ

بحیرۂ احمر اور باب المندب عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان جانے والے متعدد تجارتی جہاز اس خطے سے گزرتے ہیں۔

اگر اس راستے پر حملوں یا سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوتا ہے تو شپنگ کمپنیاں اپنے جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستے سے گزارنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔

ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے۔ ماضی میں حوثیوں کے حملوں کے باعث متعدد شپنگ اور آئل کمپنیوں نے بحیرۂ احمر سے گریز کرتے ہوئے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے کا انتخاب کیا تھا، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن اور دیگر اخراجات بڑھ گئے تھے۔

تیل کی عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات

بحیرۂ احمر کی صورتحال صرف کنٹینر شپنگ تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق عالمی توانائی کی سپلائی سے بھی ہے۔

باب المندب کے ذریعے خلیجی خطے سے یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی نقل و حرکت متاثر ہوسکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اگر بحیرۂ احمر کے راستے میں خطرات مزید بڑھتے ہیں تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور شپنگ انشورنس کے اخراجات پر اضافی دباؤ آسکتا ہے۔

سعودی عرب کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

حوثیوں کی پیش قدمی سعودی عرب کے لیے بھی اہم سکیورٹی چیلنج بن رہی ہے۔

یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی موجودگی سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے ساحلی مفادات اور تیل کی برآمدی تنصیبات کے حوالے سے اضافی خدشات پیدا کرتی ہے۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد ریاض اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعلقات رکھنے والے ممالک مشرق وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی کے اثرات سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتے۔

یمن میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خدشہ

یمن میں کئی برس کی شدید لڑائی کے بعد 2022 میں نسبتاً طویل جنگ بندی نے صورتحال کو کچھ حد تک مستحکم کیا تھا۔

اب حوثیوں کی جنوبی اور مغربی علاقوں میں تیز پیش قدمی نے دوبارہ وسیع جنگ کے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

دی گارڈین کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے باعث مغربی یمن سے تقریباً 50 ہزار شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کے اثرات صرف سمندری تجارت تک محدود نہیں بلکہ عام یمنی شہری بھی اس کے براہ راست متاثرین بن رہے ہیں۔

بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا مستقبل

اگر حوثی فورسز باب المندب کے قریب اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو عالمی شپنگ کمپنیوں کے لیے سکیورٹی خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں کمپنیوں کو تین بنیادی راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑسکتا ہے: موجودہ راستے سے خطرہ مول لے کر سفر جاری رکھنا، اضافی سکیورٹی انتظامات کرنا، یا افریقہ کے گرد طویل راستے کا استعمال کرنا۔

تیسرا راستہ نسبتاً محفوظ ہوسکتا ہے لیکن اس میں زیادہ وقت اور زیادہ اخراجات آتے ہیں۔

اس کا اثر بالآخر عالمی صارفین تک بھی پہنچ سکتا ہے کیونکہ طویل شپنگ روٹس سے درآمدی مصنوعات کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔

نہر سویز پر بھی اثرات

باب المندب کی صورتحال کا ایک اہم پہلو نہر سویز ہے۔

بحیرۂ احمر سے گزرنے والے جہاز باب المندب عبور کرنے کے بعد نہر سویز کے ذریعے بحیرۂ روم تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر باب المندب میں مسلسل خطرات رہتے ہیں تو نہر سویز کے ذریعے ہونے والی عالمی تجارت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یمن کے ساحل پر ہونے والی عسکری پیش رفت کا اثر ہزاروں کلومیٹر دور یورپ اور ایشیا کی تجارت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ایران کا کردار

حوثیوں کو ایران سے منسلک یا ایران نواز گروپ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور ان کی حالیہ پیش قدمی نے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ سے متعلق بحث کو بھی دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

تاہم حوثیوں کے ہر فیصلے کو براہ راست ایرانی حکم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ حالیہ بحران میں ایرانی حکام کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ حوثیوں کے فیصلے آزادانہ ہیں۔

اس لیے صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایران اور حوثیوں کے تعلقات کو سیاسی، عسکری اور علاقائی تناظر میں الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

امریکا اور مغربی ممالک کے لیے چیلنج

باب المندب میں بڑھتا ہوا خطرہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔

عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے کی آزادی برقرار رکھنا مغربی ممالک کے لیے ایک بنیادی سکیورٹی ترجیح ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی نے امریکی پالیسی سازوں کے لیے نئی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں کیونکہ باب المندب کی صورتحال پہلے سے جاری علاقائی بحران اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے ساتھ جڑ رہی ہے۔

پاکستان پر ممکنہ اثرات

بحیرۂ احمر میں بڑھتی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔

پاکستان اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے عالمی سمندری تجارت پر انحصار کرتا ہے۔ اگر ایشیا اور یورپ کے درمیان شپنگ روٹس طویل ہوجاتے ہیں تو پاکستانی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے فریٹ، انشورنس اور ترسیل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

خاص طور پر یورپی منڈیوں کو پاکستانی مصنوعات بھیجنے والی کمپنیوں کے لیے بحیرۂ احمر کی صورتحال اہم ہے۔

اگر جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑے تو ڈیلیوری کا وقت بڑھ سکتا ہے اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاکستانی صارفین پر ممکنہ اثرات

عالمی شپنگ کے اخراجات میں اضافہ پاکستان میں درآمدی اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

ایندھن، صنعتی خام مال، مشینری اور دیگر درآمدی مصنوعات کی ترسیل مہنگی ہونے سے کاروباری لاگت بڑھ سکتی ہے۔

اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے اضافی معاشی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

عالمی سپلائی چین کے لیے نیا امتحان

دنیا پہلے ہی متعدد جغرافیائی تنازعات کے باعث سپلائی چین کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔

بحیرۂ احمر میں دوبارہ شدید عدم تحفظ پیدا ہونے سے عالمی تجارت کے لیے ایک اور اہم رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

اگر ایک ہی وقت میں باب المندب، نہر سویز اور دیگر اہم سمندری راستوں میں خطرات بڑھتے ہیں تو عالمی کمپنیوں کو مال کی ترسیل کے لیے زیادہ مہنگے متبادل راستوں پر انحصار کرنا پڑسکتا ہے۔

کیا صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے؟

یہ امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔

اگر حوثیوں کی پیش قدمی جاری رہتی ہے اور سعودی عرب یا اس کے اتحادی مزید فوجی کارروائیاں کرتے ہیں تو یمن میں لڑائی مزید پھیل سکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں باب المندب کے قریب عسکری سرگرمیاں بڑھنے اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرات میں اضافے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عالمی بحری تجارت مکمل طور پر بند ہونے جارہی ہے۔

اصل صورتحال کا انحصار حوثیوں کی آئندہ فوجی حکمت عملی، سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ردعمل اور وسیع تر علاقائی سفارت کاری پر ہوگا۔

انسانی بحران بھی سنگین

بحیرۂ احمر کی تجارتی اہمیت کے ساتھ یمن کے انسانی بحران کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

حالیہ لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے خوراک، رہائش اور صحت کی سہولیات کی ضروریات بڑھنے سے خبردار کیا ہے۔

اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو پہلے سے کمزور یمنی انفراسٹرکچر اور عام شہریوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں کیا اہم ہوگا؟

آنے والے دنوں میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ حوثی فورسز باب المندب کے قریب اپنی موجودگی کو کس حد تک مضبوط کرتی ہیں۔

اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔

عالمی شپنگ کمپنیوں کا ردعمل بھی اہم ہوگا۔ اگر بڑی کمپنیاں دوبارہ بحیرۂ احمر سے بڑے پیمانے پر گریز شروع کرتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر عالمی تجارت، شپنگ لاگت اور تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

نتیجہ

یمن میں حوثیوں کی تیز پیش قدمی نے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کی سکیورٹی کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

موخا، ہانش جزائر اور پیرم کے قریب حوثیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے انہیں دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک کے قریب اسٹریٹجک پوزیشن فراہم کی ہے۔

فی الحال باب المندب کی مکمل بندش کے دعووں کو احتیاط کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ حوثیوں کی علاقائی پیش قدمی نے تجارتی جہاز رانی کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔

اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات یمن اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ نہر سویز، عالمی سپلائی چین، تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور پاکستان سمیت کئی ممالک کی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!