نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کا 18واں سربراہی اجلاس جاری ہے، جہاں عالمی سیاسی، معاشی اور سلامتی کی صورتحال سمیت مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی بھی اہم موضوعات میں شامل رہی۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے۔
شی جن پنگ کا مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں مؤقف
چینی صدر نے کہا کہ برکس ممالک کو عالمی امن اور استحکام کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں جنگ اور کشیدگی سے خطے کے عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کے اثرات عالمی برادری تک پہنچ رہے ہیں۔
شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کی طرف پیش رفت اور سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے بنیادی اسباب کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جاسکے۔
چینی صدر نے فلسطین کے مسئلے کو بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا بنیادی معاملہ قرار دیتے ہوئے دو ریاستی حل کی حمایت کی۔ چین نے برکس ممالک کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
برکس اعلامیے میں بھی مشرقِ وسطیٰ پر تشویش
برکس سربراہی اجلاس کے دوران رکن ممالک نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں فریقین پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کو مذاکرات، مشاورت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔
اعلامیے میں عالمی امن، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
برکس کا بڑھتا ہوا عالمی کردار
برکس ابتدا میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل گروپ تھا، تاہم حالیہ برسوں میں اس میں مزید ممالک شامل ہوئے ہیں۔
اب اس گروپ میں مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ اس توسیع کے بعد برکس عالمی جنوب کے اہم ممالک کا ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
چین برکس کو عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی حکمرانی میں زیادہ مؤثر کردار کے لیے اہم فورم سمجھتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں برکس کیوں اہم ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کا اثر صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی توانائی، تجارت، شپنگ اور معیشت پر بھی پڑتا ہے۔
برکس میں ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کی موجودگی اسے خطے کے بحران پر بات چیت کے لیے ایک نسبتاً اہم کثیر ملکی پلیٹ فارم بناتی ہے۔
چین پہلے ہی مختلف عالمی تنازعات میں مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے۔ تازہ برکس اجلاس میں شی جن پنگ کی جانب سے تنظیم کے امن کے کردار پر زور بھی اسی سفارتی مؤقف کا تسلسل ہے۔
برکس ممالک نے تحمل پر زور دیا
برکس رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیے میں کشیدگی کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے میں تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور کثیرالجہتی تعاون کی حمایت کی گئی۔ رکن ممالک نے عالمی تجارت اور معاشی سرگرمیوں پر جنگ کے منفی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
چین اگلے سال برکس کی صدارت کرے گا
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال برکس کی صدارت سنبھالے گا اور 19ویں برکس سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اپنی صدارت کے دوران برکس ممالک کے درمیان تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور تنظیم کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے دیگر ارکان کے ساتھ کام کرے گا۔
یہ پیش رفت چین کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ برکس کو عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
شی جن پنگ اور مودی کی ملاقات بھی اہم
برکس اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی۔
یہ شی جن پنگ کا تقریباً سات سال بعد بھارت کا پہلا دورہ ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں 2020 کے سرحدی تنازع کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی تھی، تاہم حالیہ عرصے میں دونوں جانب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرحدی معاملات اور باہمی تعاون سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔ تاہم بھارت اور چین کے درمیان کئی بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
عالمی سیاست میں برکس کی اہمیت
برکس کی توسیع نے عالمی سیاست میں اس گروپ کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ تنظیم میں شامل ممالک دنیا کی بڑی آبادی اور عالمی معیشت کے نمایاں حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
چین اور روس برکس کو عالمی نظام میں زیادہ کثیر قطبی ڈھانچے کی حمایت کے لیے اہم سمجھتے ہیں، جبکہ بھارت برکس کو مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔
نئی دہلی اجلاس میں یہ اختلاف بھی سامنے آیا کہ برکس کا کردار کسی مخصوص عالمی طاقت کے خلاف اتحاد کے بجائے کثیرالجہتی تعاون تک محدود رکھا جائے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی برکس کو کسی کے خلاف پلیٹ فارم قرار دینے کے بجائے تعاون کے فورم کے طور پر پیش کیا۔
پاکستان کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت
برکس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کے امن پر ہونے والی گفتگو پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ قریبی سفارتی، اقتصادی اور عوامی روابط ہیں۔
خطے میں طویل جنگ یا بڑھتی ہوئی کشیدگی سے تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت، شپنگ اخراجات اور بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلق معاشی معاملات پر بالواسطہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اگر برکس واقعی مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں سفارتی کردار بڑھاتا ہے تو اس سے عالمی سطح پر امن کے لیے ایک اضافی کثیرالجہتی پلیٹ فارم دستیاب ہوسکتا ہے۔
کیا برکس امن مذاکرات میں عملی کردار ادا کرسکتا ہے؟
برکس ممالک نے سیاسی حل، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ برکس براہ راست کسی امن معاہدے یا جنگ بندی مذاکرات کی ثالثی کرے گا۔
تنظیم میں شامل ممالک کے اپنے مختلف علاقائی اور عالمی مفادات ہیں۔ ایران اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی موجودگی برکس کو ایک اہم سفارتی فورم بناتی ہے، لیکن اندرونی اختلافات بھی اس کے لیے ایک چیلنج ہیں۔
اس لیے برکس کا فوری عملی کردار مشترکہ سفارتی دباؤ، سیاسی مذاکرات کی حمایت اور جنگی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
نتیجہ
نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں چین نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے برکس ممالک کے فعال کردار پر زور دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے جنگ بندی، سیاسی حل، بنیادی تنازعات کے حل اور علاقائی سلامتی کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔
برکس ممالک نے بھی مشترکہ اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ چین کی جانب سے اگلے سال برکس کی صدارت سنبھالنے کے اعلان کے بعد اس بات پر نظر رہے گی کہ بیجنگ تنظیم کو عالمی امن اور تنازعات کے حل کے لیے کس حد تک فعال پلیٹ فارم بناتا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!