Monday, September 14, 2026
تازہ ترین

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنا ہوگا، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی صورتحال میں لانے کے لیے امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے میں عارضی بحری راستے کے قیام پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس کا مطلب آبنائے کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنا ہوگا، عراقچی

آبنائے ہرمز کی بحالی پر ایران کا مؤقف

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو معمول کی حالت میں واپس لانے کے لیے امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ صورتحال کو صرف ایک بحری یا تکنیکی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کا تعلق وسیع تر امریکا ایران مفاہمت اور اسلام آباد میں طے پانے والے فریم ورک سے بھی ہے۔

امریکا سے عمل درآمد کا مطالبہ

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمول کے حالات کی بحالی کا راستہ امریکا کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری سے نکلتا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق واشنگٹن کو ان وعدوں پر واپس آنا ہوگا جن پر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے دوران اتفاق کیا گیا تھا۔ عراقچی اس سے قبل بھی امریکی جانب سے یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کو موجودہ کشیدگی کی ایک وجہ قرار دے چکے ہیں۔

ایران اور عمان کے درمیان بحری راستے پر پیش رفت

دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک عارضی بحری راستے کے قیام سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور تکنیکی سطح پر راستے کے نقشوں اور انتظامات پر کام کیا جا رہا ہے۔

تاہم عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ کسی ممکنہ انتظام یا عارضی بحری راستے پر اتفاق کو آبنائے ہرمز کے مکمل دوبارہ کھلنے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مکمل بحالی کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونا ضروری ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا پس منظر

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جون 2026 میں اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران نے اس مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک طور پر دستخط کیے ہیں اور پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا۔

پاکستانی حکومت کے مطابق اس مفاہمت کے فوری اقدامات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور امریکی بحری ناکہ بندی اٹھانا شامل تھا۔ تاہم بعد کی پیش رفت میں فریقین کے درمیان اس معاہدے کی تشریح اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے۔

آبنائے ہرمز مکمل طور پر کب کھلے گی؟

موجودہ بیانات کی روشنی میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

ایران ایک طرف عمان کے ساتھ عارضی بحری راستے پر بات چیت کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکا سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس لیے تکنیکی سطح پر ہونے والی پیش رفت اور آبنائے کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے معاملے کو الگ الگ دیکھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز خلیج کے علاقے اور عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں طویل رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

اسی وجہ سے ایران، امریکا، عمان اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی اور بحری مذاکرات کو عالمی سطح پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اس صورتحال کی اہمیت

آبنائے ہرمز کی صورتحال پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ عالمی توانائی کی قیمتوں اور سمندری تجارت میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں پاکستانی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

اس معاملے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت بھی نمایاں ہے کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے قیام میں پاکستانی ثالثی کا کردار سامنے آیا تھا۔ اس لیے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی نئی سفارتی پیش رفت میں پاکستان کی سابقہ ثالثی کوششوں کو بھی اہم پس منظر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

خطے میں سفارتی سرگرمیاں جاری

ایران اور عمان کے درمیان بات چیت کے ساتھ خلیجی ممالک کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق عمان میں علاقائی سطح پر آبنائے ہرمز اور بحری آمدورفت سے متعلق امور پر بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو صرف امریکا اور ایران کے دوطرفہ معاملے تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ علاقائی ممالک بھی اس عمل میں شامل ہیں۔

آئندہ کیا ہو سکتا ہے؟

آنے والے دنوں میں اہم سوال یہ ہوگا کہ امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اپنے اختلافات کو کس حد تک حل کر پاتے ہیں۔

اگر فریقین کے درمیان مفاہمت آگے بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے زیادہ واضح انتظامات سامنے آ سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر سفارتی اختلافات برقرار رہتے ہیں تو عارضی بحری راستوں کے باوجود مکمل بحالی کا معاملہ مزید وقت لے سکتا ہے۔

فی الحال ایران کا مؤقف یہی ہے کہ عمان کے ساتھ بحری راستے پر پیش رفت کو آبنائے ہرمز کے مکمل دوبارہ کھلنے کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

نتیجہ

عباس عراقچی کے تازہ بیان کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کو امریکا کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے وعدوں پر عمل درآمد سے جوڑ رہا ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان عارضی بحری راستے کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن تہران کے مطابق یہ پیش رفت آبنائے کے مکمل کھلنے کی ضمانت نہیں ہے۔

اب معاملے کا اہم پہلو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت اور اسلام آباد یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق اختلافات کا حل ہے، جس پر آبنائے ہرمز کی آئندہ صورتحال بڑی حد تک منحصر دکھائی دیتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!