سعودی عرب پر حملوں کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد یمن اور خطے کی صورتحال ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی واضح مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے سعودی عرب کے خلاف بیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف
پاکستانی نمائندے نے اپنے خطاب میں سعودی عرب کے اس حق کی حمایت کی کہ وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کر سکتا ہے۔
پاکستان نے یہ مؤقف اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں پیش کیا۔ عاصم افتخار احمد کے مطابق سعودی عرب کو اپنی سرزمین کے دفاع، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ اور قومی اثاثوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔
پاکستان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب یمن کے مغربی ساحل اور بحیرہ احمر کے اطراف لڑائی میں شدت رپورٹ کی جا رہی ہے اور خطے میں تجارتی جہاز رانی سمیت کئی اہم معاملات پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافہ
اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر کے دوران سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 14 ستمبر کو سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ابہا، خمیس مشیط اور طائف پر حوثی حملوں میں 13 افراد زخمی اور متعدد رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 8 ستمبر کو ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانے والے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ حوثیوں نے 14 ستمبر کو خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ یہ دعویٰ حوثیوں کی جانب سے کیا گیا، اس لیے اسے اسی نسبت سے بیان کیا جا رہا ہے۔
مکہ کے قریب ڈرون واقعے سے کشیدگی مزید بڑھی
تازہ صورتحال میں سعودی قیادت میں اتحاد نے 16 ستمبر کو بتایا کہ مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ڈرون مکہ کے مخصوص فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، جبکہ سعودی حکام نے مقدس شہر کی سلامتی کو انتہائی حساس معاملہ قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے درمیان فوجی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان نے کشیدگی کم کرنے پر بھی زور دیا
پاکستان کے مؤقف کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد صرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار نہیں کر رہا بلکہ یمن میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی ضرورت پر بھی زور دے رہا ہے۔
11 ستمبر کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان یمن اور وسیع خطے میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور جامع سیاسی حل کی تمام سنجیدہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان کے مطابق یمن کی صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کے لیے گنجائش برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی
پاکستان کی وزارت خارجہ بھی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کر چکی ہے۔ 10 ستمبر کو وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی مقامات پر ہونے والے حوثی حملوں کو شدید قابل مذمت قرار دیا تھا۔
وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی حمایت اور سعودی قیادت و عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا تھا۔
وزیراعظم کا سعودی قیادت سے رابطہ
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی تھی۔
پاکستان کے سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ان حملوں سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور عالمی معیشت و توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یمن کی صورتحال اور علاقائی خدشات
یمن میں حالیہ کشیدگی صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہی۔ اقوام متحدہ کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف صورتحال بھی تیزی سے حساس ہوئی ہے۔ یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی میں شدت اور حوثیوں کی پیش قدمی نے خطے میں تجارتی راستوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیا جائے اور ضرورت مند آبادی تک انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی برقرار رکھی جائے۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال کی اہمیت
سعودی عرب اور یمن کے درمیان بڑھتی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ سعودی عرب پاکستان کا اہم علاقائی شراکت دار ہے اور خلیجی خطے کی سلامتی پاکستان کی معاشی اور سفارتی ترجیحات سے جڑی ہوئی ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی سے توانائی کی عالمی ترسیل، سمندری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی بحیرہ احمر اور باب المندب کی صورتحال کو خطے سے باہر وسیع اثرات رکھنے والا معاملہ قرار دیتے ہوئے مزید کشیدگی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تاہم کسی بھی ممکنہ معاشی یا تجارتی اثرات کی شدت کا انحصار آئندہ حالات اور بحری راستوں کی صورتحال پر ہوگا۔
پاکستان کا سفارتی راستہ
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے واضح حمایت کے ساتھ ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی پالیسی بھی دہرائی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان یمن میں امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندے نے بھی جامع سیاسی حل کو آگے بڑھانے اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارتی راستے کھلے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ مؤقف پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت اور یمن کے تنازع میں مزید پھیلاؤ روکنے کی سفارتی کوششوں، دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔
تازہ صورتحال کیا ہے؟
16 ستمبر کو مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون روکے جانے کے واقعے کے بعد سعودی عرب میں سکیورٹی صورتحال پر توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مکہ کے محدود فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا گیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کے حوالے سے مسلسل خبردار کر رہا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کا تازہ سفارتی مؤقف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے حمایت، حوثی حملوں کی مذمت اور یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں کی حمایت پر مشتمل ہے۔
نتیجہ
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے معاملے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے واضح حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کے ساتھ یمن میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور جامع سیاسی حل کی ضرورت بھی اجاگر کی ہے۔
تازہ واقعات، خصوصاً مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون روکے جانے کے واقعے، نے خطے کی حساس صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!