مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون روکنے کا واقعہ
سعودی عرب نے بتایا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم فوجی اتحاد کے مطابق ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی نشانہ بنایا گیا۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو منگل 15 ستمبر کی شام سعودی وقت کے مطابق تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر مکہ مکرمہ کے جنوب میں روکا گیا۔
سعودی حکام کا مؤقف
سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان نے واقعے کو مکہ مکرمہ کی سلامتی سے متعلق انتہائی حساس معاملہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مقدس مقامات اور زائرین کا تحفظ سعودی حکام کے لیے اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا، جس سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
حوثیوں کا مؤقف کیا ہے؟
اس واقعے کے حوالے سے دونوں جانب کے بیانات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ سعودی اتحاد نے ڈرون کو حوثی حملے سے جوڑا ہے، جبکہ حوثی حکام نے مکہ مکرمہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد الفراح نے مکہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ گروپ نے مقدس شہر کو ہدف نہیں بنایا۔
اس لیے مکہ مکرمہ کو براہ راست نشانہ بنانے کے ارادے سے متعلق حوثیوں اور سعودی حکام کے مؤقف الگ ہیں، جبکہ ڈرون کو سعودی دفاعی نظام کی جانب سے روکے جانے کی اطلاع متعدد ذرائع نے رپورٹ کی ہے۔
واقعہ کب پیش آیا؟
سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو 15 ستمبر کی شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر مکہ مکرمہ کے جنوب میں روکا گیا۔
سعودی گزٹ نے بھی اتحادی ترجمان کے حوالے سے یہی وقت بتایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈرون کو اس وقت تباہ کیا گیا جب وہ مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود کی طرف بڑھ رہا تھا۔
یہ واقعہ سعودی عرب میں حوثی حملوں کے سلسلے میں حالیہ اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔
مکہ مکرمہ کی اہمیت کے باعث حساسیت
مکہ مکرمہ مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر ہے اور ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے شہر کی فضائی اور زمینی سلامتی سے متعلق کسی بھی واقعے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی اتحادی ترجمان نے مقدس مقامات اور زائرین کی سلامتی کو ایک واضح حد قرار دیتے ہوئے مزید حملوں کے خلاف ضروری اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
خطے میں پہلے سے بڑھتی کشیدگی
مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ دنوں سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حوثیوں نے بعض حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں یمن میں سعودی کارروائیوں کے جواب سے منسلک کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں جاری لڑائی کے باعث انسانی صورتحال بھی مزید پیچیدہ ہوئی ہے اور حالیہ کشیدگی میں بڑی تعداد میں لوگ اندرون ملک بے گھر ہوئے ہیں۔
مکہ کو نشانہ بنانے کا سابقہ واقعہ
سعودی اتحاد کے ترجمان نے موجودہ واقعے کو مکہ مکرمہ کی جانب حوثیوں کی دوسری مبینہ کوشش قرار دیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی ایک بیلسٹک میزائل مکہ کی سمت داغا گیا تھا، جسے سعودی دفاعی نظام نے روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔
حوثی فریق نے موجودہ واقعے میں مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، اس لیے دونوں واقعات سے متعلق فریقین کے دعووں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
سعودی عرب میں سکیورٹی اقدامات
ڈرون واقعے کے بعد سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی صورتحال پر توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مکہ مکرمہ سمیت بعض علاقوں کے لیے سکیورٹی الرٹس بھی جاری کیے گئے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے مختلف شہروں اور فوجی تنصیبات کے قریب ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات نے بھی صورتحال کو حساس بنا دیا ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے بنیادی توجہ مقدس مقامات، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو محفوظ رکھنے پر ہے۔
پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے اہمیت
مکہ مکرمہ سے متعلق کسی بھی سکیورٹی واقعے کی خبر پاکستان سمیت مسلم دنیا میں خاص توجہ حاصل کرتی ہے۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے اور یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت بھی کی ہے۔
اس پس منظر میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون کا واقعہ صرف سعودی عرب کی داخلی سلامتی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کی کشیدہ صورتحال کی ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم موجودہ واقعے میں مکہ مکرمہ کو براہ راست نشانہ بنانے کے ارادے کے بارے میں سعودی اور حوثی مؤقف مختلف ہیں، اس لیے اس پہلو کو رپورٹ کرتے وقت فریقین کے بیانات کو الگ الگ بیان کرنا ضروری ہے۔
خطے کی صورتحال آگے کہاں جا سکتی ہے؟
مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے مغربی ساحل، بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بھی کشیدگی میں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ نے یمن میں مزید کشیدگی سے بچنے، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات علاقائی سکیورٹی، بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم ان ممکنہ اثرات کی شدت کا انحصار آئندہ پیش رفت پر ہوگا۔
نتیجہ
سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثیوں سے منسلک ایک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
واقعے نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں ایک حساس نیا پہلو شامل کر دیا ہے، جبکہ مکہ مکرمہ کی مذہبی اہمیت کے باعث اس واقعے پر مسلم دنیا میں بھی گہری توجہ ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!