Wednesday, September 16, 2026
تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر، جہازوں کی تعداد سنگل ڈیجٹ میں

ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کو صرف چار جہاز گزرے، جبکہ معمول کے مقابلے میں یہ تعداد بہت کم ہے۔

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر، جہازوں کی تعداد سنگل ڈیجٹ میں

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں بڑی کمی

ایران جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ابتدائی شپنگ ڈیٹا میں منگل کو آبنائے ہرمز سے صرف چار بحری جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی، جو ایک روز قبل کے سات جہازوں سے بھی کم ہے۔ یہ تعداد 10 روزہ اوسط 18 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

صرف چار جہازوں کی آمدورفت

تازہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کو گزرنے والے چار جہازوں میں دو آبنائے سے باہر نکلے جبکہ دو اندر داخل ہوئے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان چار جہازوں میں کوئی بہت بڑا خام تیل بردار جہاز یا ایل این جی ٹینکر شامل نہیں تھا۔ دو داخل ہونے والے جہازوں میں ایک مختصر فاصلے کا پیٹرولیم مصنوعات بردار ٹینکر اور ایک خشک مال بردار جہاز شامل تھا۔

شپنگ ڈیٹا میں ایک بڑی گیس بردار کشتی بھی ریکارڈ ہوئی جو تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار بیرل ایل پی جی لے کر ایرانی راستے سے باہر نکلی، جبکہ ایک پینامیکس ٹینکر تقریباً 5 لاکھ 10 ہزار بیرل نیفتھا کے ساتھ دوسرے راستے سے نکلا۔

ٹریکنگ ڈیٹا میں کچھ جہاز شامل نہ ہونے کا امکان

ماہرین کے لیے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے وقت ایک اہم بات یہ ہے کہ AIS یعنی خودکار شناختی نظام سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار تمام بحری جہازوں کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔

رائٹرز کے مطابق کچھ جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے سفر کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ٹریکنگ ڈیٹا میں نظر نہیں آتے۔ اس لیے چار جہازوں کا اعداد و شمار دستیاب معلومات پر مبنی ہے اور حقیقی آمدورفت اس سے کچھ زیادہ ہو سکتی ہے۔

خطے میں حملوں کے بعد صورتحال خراب

آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں کمی خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی حملوں اور تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں خطے میں حملوں میں اضافے کے بعد آبنائے سے گزرنے والی بحری ٹریفک سنگل ڈیجٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے جہاز رانی کمپنیوں اور توانائی کے شعبے کے لیے سکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

اس سے قبل بھی شپنگ ڈیٹا میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک دن میں ٹریفک سات جہازوں تک گر گئی تھی، جبکہ اس سے ایک دن پہلے یہ تعداد 11 تھی۔

عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے اہم راستہ

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران جنگ سے قبل اس راستے سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر سپلائی گزرتی تھی۔

اسی وجہ سے آبنائے میں بحری آمدورفت میں طویل کمی عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم معاملہ بن سکتی ہے۔ اگر بڑی تعداد میں تیل بردار جہاز اس راستے سے گزرنے سے گریز کرتے ہیں تو خلیجی ممالک سے عالمی مارکیٹ تک توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

تاہم خام تیل کی اصل برآمدی مقدار اور بحری جہازوں کی تعداد ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض سپلائیز مختلف راستوں، منتقلی کے انتظامات یا کم تعداد میں بڑے جہازوں کے ذریعے جاری رہ سکتی ہیں۔

سعودی عرب سمیت خلیجی سپلائی پر اثرات

آبنائے ہرمز کی صورتحال ایسے وقت میں مزید اہم ہوگئی ہے جب خطے میں تیل کی تنصیبات اور سپلائی کے دیگر راستوں سے متعلق خدشات بھی موجود ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اضافی خام تیل عمان کے راستے شپ ٹو شپ منتقلی کے ذریعے بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے توانائی برآمد کنندگان آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل انتظامات استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی اہم صورتحال

آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں کمی پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی ترسیل میں بڑی تبدیلیاں پاکستانی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، شپنگ اخراجات اور انشورنس پریمیم میں اضافہ درآمدی لاگت کو متاثر کر سکتا ہے۔

تاہم پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں پر حتمی اثر کا انحصار عالمی تیل کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ درآمدی انتظامات، ایکسچینج ریٹ، حکومتی پالیسی اور دیگر عوامل پر بھی ہوتا ہے۔

کیا آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے؟

موجودہ اعداد و شمار سے بحری آمدورفت میں شدید کمی واضح ہے، لیکن اسے مکمل اور ہر قسم کی جہاز رانی کی بندش قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق منگل کو بھی چار جہاز آبنائے سے گزرے اور بعض بڑے جہازوں نے مختلف راستوں سے نقل و حرکت جاری رکھی۔ ساتھ ہی AIS نظام سے باہر رہنے والے جہازوں کی وجہ سے دستیاب اعداد و شمار مکمل نہیں ہو سکتے۔

اس لیے موجودہ صورتحال کو انتہائی محدود بحری آمدورفت کے طور پر بیان کرنا زیادہ مناسب ہے۔

صورتحال آگے کیسے بدل سکتی ہے؟

آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کا مستقبل خطے میں فوجی کشیدگی، تجارتی جہازوں کی سکیورٹی اور سفارتی رابطوں کی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔

اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے اور جہاز رانی کمپنیوں کو محفوظ راستے کی ضمانت ملتی ہے تو بحری آمدورفت بتدریج بحال ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب مزید حملوں یا سکیورٹی خدشات میں اضافے سے ٹریفک مزید متاثر ہونے کا امکان موجود رہے گا۔

نتیجہ

ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق منگل کو صرف چار جہاز آبنائے سے گزرے، جو 10 روزہ اوسط 18 سے بہت کم ہے۔ تاہم AIS ٹریکنگ کی حدود کے باعث اصل آمدورفت اس تعداد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے اہم راستہ ہونے کی وجہ سے اس میں مسلسل محدود آمدورفت تیل، گیس، شپنگ اور عالمی تجارتی منڈیوں کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!