پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی سے متعلق ایک امریکی حمایت یافتہ قرارداد پر ووٹ دینے سے گریز کیا ہے، جبکہ روس اور چین نے قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 11 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ روس اور چین کے منفی ووٹوں کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
سلامتی کونسل میں کیا ہوا؟
17 ستمبر 2026 کو سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کا مینڈیٹ مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کی قرارداد پیش کی گئی۔
امریکا کی حمایت یافتہ اس قرارداد کا مقصد ماہرین کے پینل کو ستمبر 2027 تک کام جاری رکھنے کی اجازت دینا تھا۔ تاہم روس اور چین، جو سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں، نے قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر اسے ویٹو کر دیا۔
رائے شماری میں 11 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے ووٹنگ سے گریز کیا۔
پاکستان نے ووٹ دینے سے گریز کیوں کیا؟
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے اسیم افتخار احمد نے کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر سلامتی کونسل میں صورتحال وقت کے ساتھ زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو کشیدگی اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے اس معاملے میں پرامن ذرائع، سفارتی رابطے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی یعنی آئی اے ای اے کے کردار کی بھی حمایت کی اور کہا کہ ایران کے جوہری معاملات کی تکنیکی نگرانی اس کے مقررہ مینڈیٹ کے مطابق آزادانہ طور پر ہونی چاہیے۔
قرارداد کا مقصد کیا تھا؟
قرارداد کا بنیادی مقصد ایران سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کرنے والے آزاد ماہرین کے پینل کا مینڈیٹ برقرار رکھنا تھا۔ اس پینل کو پابندیوں پر عمل درآمد کی نگرانی، ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے اور سلامتی کونسل کو رپورٹ اور سفارشات فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
تازہ رائے شماری کے وقت پینل عملی طور پر تقریباً ایک سال سے فعال نہیں تھا کیونکہ سلامتی کونسل اس کے ارکان کی تقرری پر اتفاق نہیں کر سکی تھی۔ اس کے باوجود اس کے مینڈیٹ میں توسیع کا معاملہ ایران سے متعلق اقوام متحدہ کے پابندیوں کے نظام کی قانونی اور سیاسی حیثیت پر جاری وسیع اختلاف کا حصہ بن گیا۔
ایران پر پابندیوں کا معاملہ کیوں متنازع ہے؟
ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی موجودہ حیثیت کے بارے میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے 2025 میں جوہری معاہدے سے متعلق ایک طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی کارروائی شروع کی۔ مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار کے نتیجے میں پابندیوں سے متعلق سابقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اقدامات دوبارہ فعال ہوئے۔
اس کے برعکس روس اور چین اس عمل کی قانونی حیثیت سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ایران پر پابندیوں کی بحالی کا عمل قانونی بنیاد نہیں رکھتا۔ یہی اختلاف سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق نگرانی کے طریقہ کار پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
روس اور چین کا مؤقف
روس اور چین نے قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے ایران کے خلاف پابندیوں اور ان کی نگرانی کے موجودہ طریقہ کار سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف کو برقرار رکھا۔
روسی نمائندے نے سلامتی کونسل میں کہا کہ ایران کے جوہری معاملے سے متعلق اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ روس اور چین مغربی ممالک پر ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل میں سیاسی رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں۔
امریکا اور مغربی ممالک کا ردعمل
امریکا اور بعض مغربی ممالک ایران پر پابندیوں کے نفاذ اور ان کی آزادانہ نگرانی کو اہم سمجھتے ہیں۔ امریکی نمائندے نے خبردار کیا کہ ماہرین کے آزاد پینل کی عدم موجودگی سے پابندیوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں آزادانہ اور شواہد پر مبنی رپورٹنگ کا خلا پیدا ہو سکتا ہے۔
فرانس نے بھی ایران سے متعلق پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے متبادل طریقوں پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران کا جوہری معاملہ
ایران کا جوہری پروگرام کئی برس سے عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع ہے۔ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں اور نگرانی کے مختلف انتظامات قائم کیے گئے تھے۔
بعد کے برسوں میں معاہدے کی حیثیت، ایران کی جوہری سرگرمیوں، پابندیوں اور نگرانی کے طریقہ کار پر شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ 2025 میں پابندیوں کی بحالی کے عمل کے بعد یہ اختلاف دوبارہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں ہو گیا۔
پاکستان کے لیے اس معاملے کی اہمیت
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اس لیے تہران سے متعلق علاقائی کشیدگی اور عالمی سفارتی فیصلے پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ مؤقف میں ایران کے جوہری معاملے پر سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے فریقین کو مذاکرات کی طرف واپس لایا جائے۔
ایران سے متعلق اقوام متحدہ کی پابندیوں کا مستقبل خطے کی سفارتی صورتحال، عالمی طاقتوں کے باہمی اختلافات اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
آئندہ کیا ہو سکتا ہے؟
روس اور چین کے ویٹو کے بعد ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ میں توسیع کی قرارداد منظور نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال میں ایران پر پابندیوں کی نگرانی کے لیے متبادل انتظامات یا دیگر سفارتی طریقوں پر بات چیت کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب ایران کے جوہری معاملے پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان قانونی حیثیت، پابندیوں کے نفاذ اور نگرانی کے طریقہ کار پر اختلاف اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
پاکستان نے اپنے تازہ مؤقف میں بھی مذاکرات اور سفارت کاری کو حل کا بنیادی ذریعہ قرار دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور پابندیوں کے نفاذ کا معاملہ بدستور زیر بحث رہے گا۔
نتیجہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت بڑھانے کی قرارداد روس اور چین کے ویٹو کے باعث منظور نہ ہو سکی، جبکہ پاکستان نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔ اسلام آباد نے ایران کے جوہری معاملے پر کشیدگی کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی جوہری نگرانی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!