Friday, September 18, 2026
FB
تازہ ترین

یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز میں جھڑپیں

یمن میں حوثی فورسز اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی دستوں کے درمیان لڑائی میں شدت برقرار ہے۔ تازہ جھڑپوں میں دونوں جانب سے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے باعث سعودی عرب اور خطے میں بحری و توانائی کی سلامتی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز میں جھڑپیں

یمن میں لڑائی جاری

یمن میں حوثی فورسز اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی دستوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں حوثیوں نے ملک کے مغربی ساحلی علاقوں میں نمایاں پیش قدمی کی ہے، جس کے بعد سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی تیز ہوئی ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار بھی حملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ حوثی ذرائع نے یمن کے حجہ اور تعز کے علاقوں میں سعودی فضائی حملوں کی اطلاع دی، جبکہ سعودی حکام نے ایک ڈرون کو روکنے کے بعد اس کے ملبے سے ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

حوثیوں کی ساحلی پیش قدمی

حوثیوں نے حالیہ کارروائیوں کے دوران بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گروپ نے موخا کی بندرگاہ پر بھی قبضہ کر لیا، جس سے باب المندب کے قریب اس کی موجودگی مزید اہم ہوگئی ہے۔

باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی بڑے سکیورٹی بحران سے تجارتی جہازوں اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

سعودی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائیاں

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ فورسز نے حوثیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یمنی حکومتی فوج کے مطابق سعودی قیادت میں کارروائیوں کے دوران موخا کے قریب حوثی ٹھکانوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ حکومتی فورسز نے مارب میں بھی حوثیوں کے خلاف ڈرون حملے کیے۔

دوسری جانب حوثیوں نے بھی سعودی اور حکومتی فورسز کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ ان دعوؤں میں بعض فوجی اہداف کو نشانہ بنانے اور سعودی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ بھی شامل ہے، تاہم ان میں سے تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

سعودی عرب کو سکیورٹی دباؤ

حوثیوں کی جانب سے سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کے بعد ریاض نے اپنی فضائی دفاعی ضروریات کے حوالے سے اتحادی ممالک سے مدد طلب کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب نے فرانس، پاکستان، مصر اور برطانیہ سے فضائی دفاعی معاونت کی درخواست کی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق حالیہ حملوں کے دوران ڈرونز اور دیگر خطرات کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال رہا ہے۔ سعودی سرزمین پر حالیہ حملوں میں جانی و مالی نقصانات کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

چین کا ایران سے رابطہ

یمن کی صورتحال اب صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے علاقائی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے چین سے حوثیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے معاملے میں مدد طلب کی، جس کے بعد چین نے مبینہ طور پر ایران سے کہا کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں مدد کرے۔ چین کی جانب سے عوامی سطح پر بھی تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیجنگ کے لیے بحیرہ احمر اور باب المندب کی صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ عالمی توانائی اور تجارتی راستوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

عالمی توانائی اور تجارت پر اثرات

یمن میں جاری لڑائی نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے سے ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے بارے میں نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی نے سعودی عرب کے تیل برآمد کرنے والے متبادل راستوں کو بھی زیادہ خطرے میں ڈال دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز میں بھی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہے۔

اگر بحیرہ احمر اور باب المندب میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو تجارتی جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے سفر کا وقت اور شپنگ اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

انسانی صورتحال

لڑائی میں شدت کے باعث یمن میں انسانی صورتحال بھی متاثر ہوئی ہے۔ حالیہ جھڑپوں سے متاثرہ علاقوں سے شہریوں کی نقل مکانی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار یمنی افراد اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ یہ صورتحال پہلے سے موجود انسانی بحران پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔

خطے کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی محاذوں پر کشیدگی کا شکار ہے۔

حوثیوں کی بحیرہ احمر کے قریب پیش قدمی اور سعودی عرب پر حملوں نے تنازع کو یمن کی سرحدوں سے باہر بھی نمایاں کر دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی حمایت یافتہ فورسز حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے لیے اہمیت

یمن اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ سعودی عرب پاکستان کا اہم علاقائی شراکت دار ہے جبکہ بحیرہ احمر اور خلیج کے راستے عالمی توانائی کی ترسیل پاکستانی معیشت پر بالواسطہ اثر ڈال سکتی ہے۔

علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی تیل اور شپنگ مارکیٹ میں دباؤ بڑھنے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی اخراجات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کے پاکستان پر حتمی معاشی اثرات کا اندازہ مزید پیش رفت کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

نتیجہ

یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔ حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حالیہ پیش قدمی اور سعودی عرب پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید نمایاں ہوئی ہے۔

چین کی جانب سے ایران سے حوثیوں پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست اور سعودی عرب کی جانب سے فضائی دفاعی تعاون کی تلاش ظاہر کرتی ہے کہ یمن کا تنازع اب وسیع تر علاقائی سلامتی اور عالمی تجارتی راستوں سے بھی جڑ گیا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!