پاکستان نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کو مزید فعال بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد تہران کے لیے ایک اور اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی عمل میں پیش رفت کی کوشش کرنا ہے۔ تاہم اس ممکنہ دورے کی باضابطہ تصدیق ابھی پاکستان یا ایران کی حکومتوں کی جانب سے نہیں کی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی سلامتی، بحری تجارت اور توانائی کی عالمی سپلائی تک پہنچ رہے ہیں۔
تہران کے لیے نئی سفارتی کوشش
رپورٹس کے مطابق پاکستان ایک مرتبہ پھر تہران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے کے ذریعے موجودہ تعطل کو کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے دارالحکومت کے لیے ایک نئے دورے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور یہ دورہ قریب مستقبل میں ہو سکتا ہے۔ مجوزہ وفد کی حتمی تشکیل بھی ابھی سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ میں سفارتی اور حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے وفد کی قیادت کرنے کا امکان ہے، تاہم یہ تفصیل بھی باضابطہ طور پر حتمی قرار نہیں دی گئی۔
پاکستان پہلے بھی ثالثی کی کوشش کر چکا ہے
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بحران کے حل کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کیں اور اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت مذاکراتی راستے کو آگے بڑھانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اگست میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران کا دورہ بھی اسی وسیع سفارتی کوشش کا حصہ تھا۔ اس دوران علاقائی کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔
ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے جاری
پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے حالیہ ہفتوں میں بھی جاری رہے ہیں۔ ستمبر کے آغاز میں وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ان رابطوں میں خطے کی بدلتی صورتحال اور امن و سفارت کاری پر بات ہوئی۔
دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سفارتی رابطوں کے علاوہ پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مشاورت جاری رکھی ہے تاکہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی اہم موقع
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ اس موقع پر پاکستانی قیادت کی موجودگی بھی سفارتی رابطوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت کی نیویارک آمد پاکستان کو ایران کے ساتھ مزید رابطوں اور مذاکراتی حل کے لیے اپنی سفارتی کوشش آگے بڑھانے کا ایک اور موقع فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی مخصوص ملاقات یا معاہدے کا اعلان تاحال نہیں ہوا۔
خطے میں کشیدگی کیوں اہم ہے؟
پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا تعلق صرف ایران اور امریکا کے تنازع سے نہیں بلکہ خلیجی خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال سے بھی ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش بڑھائی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی تجارتی جہازوں کی سلامتی اور سمندری راستوں کی بحالی پر زور دیا ہے۔
پاکستانی مستقل نمائندے کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے اثرات خطے سے باہر بھی پہنچ سکتے ہیں، جس کے باعث کشیدگی میں کمی اور معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی اہم
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال اس لیے مزید حساس ہے کہ ایک طرف اسلام آباد نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ اس کے قریبی ہمسایہ اور سفارتی تعلقات بھی موجود ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں دونوں پہلو اہم ہیں: سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون برقرار رکھنا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ میں سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی امن کی حمایت کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کو بھی تنازعات کے حل کا راستہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی
اسلام آباد کی حالیہ سرگرمیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں جاری تنازعات کے دوران سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ وزارت خارجہ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں اور مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا۔
اسی پالیسی کے تحت تہران کے ساتھ مزید رابطے پاکستان کے لیے یہ موقع فراہم کر سکتے ہیں کہ وہ ایران کے مؤقف کو براہ راست سمجھے اور خطے میں مذاکراتی حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے۔
تاہم مجوزہ نئے وفد کے بارے میں فی الحال یہ واضح نہیں کہ اس کی قیادت کون کرے گا، کب تہران روانہ ہوگا اور اس کے ایجنڈے میں کون سے مخصوص نکات شامل ہوں گے۔ ان تفصیلات کی باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ اہمیت
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں کے درمیان سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی، علاقائی رابطوں اور عوامی روابط جیسے متعدد معاملات براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
جون 2026 میں ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کے دوران دونوں ملکوں نے تجارت، توانائی، سرحدی سکیورٹی، عوامی روابط اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات کی تھی۔
موجودہ علاقائی بحران میں سفارتی رابطوں کا تسلسل پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ خطے میں کسی بڑی کشیدگی کے اثرات پاکستان کی تجارت، توانائی کی قیمتوں، سمندری راستوں اور سرحدی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
کیا نیا دورہ حتمی ہے؟
ابھی تک پاکستان یا ایران کی طرف سے نئے اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کی باضابطہ منظوری یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے مجوزہ دورے کو حتمی سفارتی اقدام کے بجائے زیرِ غور کوشش کے طور پر رپورٹ کرنا زیادہ مناسب ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی قیادت کی متوقع شرکت پاکستان کو اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے لیے ایک الگ موقع فراہم کر سکتی ہے۔
آئندہ کی صورتحال
آنے والے دنوں میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل، خلیجی سکیورٹی اور سمندری راستوں کی بحالی جیسے معاملات رہ سکتے ہیں۔
اگر تہران کے لیے نیا پاکستانی وفد بھیجا جاتا ہے تو اس کے ذریعے موجودہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس دورے کے نتائج اور اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ باضابطہ ملاقاتوں اور سرکاری بیانات سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
نتیجہ
پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی رابطے مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے اور تہران کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ کوشش ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی عمل، خلیجی کشیدگی اور خطے میں بڑھتے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں اہم ہے۔
تاہم مجوزہ دورے کی حتمی تاریخ، وفد کی تشکیل اور اس کے ایجنڈے کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔ پاکستان پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکراتی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کر چکا ہے، جبکہ آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی مزید اعلیٰ سطحی رابطوں کا ایک اہم موقع بن سکتی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!