Sunday, September 20, 2026
FB
تازہ ترین

صنعاء میں حوثیوں کے حق میں ہزاروں افراد کا احتجاج

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی گروپ کے حامیوں نے بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے سعودی عرب کی یمن میں فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے۔

صنعاء میں حوثیوں کے حق میں ہزاروں افراد کا احتجاج

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی گروپ کے حامیوں نے ایک بڑے مظاہرے میں شرکت کی، جہاں شرکا نے سعودی عرب کی یمن میں فوجی مداخلت کے خلاف احتجاج کیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے میں دسیوں ہزار افراد شریک ہوئے۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں کئی برس کی نسبتاً کم شدت کے بعد لڑائی دوبارہ بڑھ گئی ہے اور حوثی فورسز نے حالیہ دنوں میں ملک کے مغربی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔

صنعاء میں بڑی تعداد میں مظاہرین جمع

18 ستمبر کو صنعاء کی سڑکوں پر حوثی تحریک کے حامی بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے سعودی عرب کے خلاف نعرے لگائے اور حوثی قیادت کی حمایت کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرے میں بعض شرکا نے حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ بعض افراد مسلح بھی دکھائی دیے۔ مظاہرے کا مرکزی پیغام سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت تھا۔

مظاہرے کا پس منظر

صنعاء میں یہ اجتماع ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے تنازع میں دوبارہ نمایاں فوجی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت سے وابستہ فورسز کے درمیان مختلف محاذوں پر جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ لڑائی کے نتیجے میں ایک بار پھر بڑی تعداد میں یمنی شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 112,000 افراد یمن کے اندر بے گھر ہوئے جبکہ تقریباً 3,000 افراد سمندر کے راستے جبوتی پہنچے۔

حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی

مظاہرین کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں متعدد حملے کیے۔ یہ اعداد و شمار حوثی ذرائع کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں اور ان تمام دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے بھی حوثی حملوں کے حوالے سے سکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 19 ستمبر کو سعودی حکام نے ریاض میں ممکنہ فضائی خطرے کے بارے میں شہریوں کو الرٹ جاری کیا، جبکہ شہر میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

یمن میں لڑائی دوبارہ کیوں بڑھی؟

یمن میں 2022 کے بعد طویل عرصے تک نسبتاً کم شدت کی صورتحال برقرار رہی تھی، لیکن حالیہ ہفتوں میں تنازع دوبارہ شدید شکل اختیار کر گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے حالیہ پیش قدمی کے دوران بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہوئے۔

حوثیوں کی اس پیش قدمی نے نہ صرف یمن کے اندر طاقت کے توازن کو متاثر کیا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم بحری راستے کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے۔

باب المندب کی اہمیت

یمن کا تنازع عالمی سطح پر اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کے مغربی ساحلی علاقے باب المندب کے قریب واقع ہیں۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور آگے بحر ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے۔

حالیہ لڑائی کے دوران بحری تجارت کے تحفظ پر بھی تشویش سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا نے حوثیوں کے نمائندوں سے عمان میں رابطہ بھی کیا ہے، جبکہ یورپی یونین کی بحیرہ احمر میں موجود بحری کارروائی کو بھی زیادہ الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب کے خلاف احتجاج کا پیغام

صنعاء کے مظاہرے میں حوثی حامیوں نے سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی۔ مظاہرین کا مؤقف حوثی گروپ کے سیاسی بیانیے کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے یمن میں مداخلت کی مذمت پر مرکوز تھا۔

اس مظاہرے کو حوثی انتظامیہ کے زیر کنٹرول صنعاء میں موجود سیاسی اور عوامی حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم صرف ایک مظاہرے کی بنیاد پر پورے یمن کی عوامی رائے کے بارے میں عمومی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔

خطے پر ممکنہ اثرات

یمن میں دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہ سکتے۔ سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی، بحیرہ احمر میں جہاز رانی اور باب المندب کی سکیورٹی خطے کی مجموعی صورتحال سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔

حالیہ صورتحال میں سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور دیگر حملوں کے خطرات کا سامنا ہے، جبکہ سعودی قیادت بھی یمن میں اپنے سکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس کشیدگی میں مزید اضافہ بحری تجارت اور علاقائی سفارت کاری کے لیے نئے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

انسانی صورتحال بھی تشویش ناک

فوجی کشیدگی میں اضافے کے ساتھ یمن میں انسانی بحران بھی دوبارہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث ایک لاکھ سے زیادہ افراد اندرون ملک بے گھر ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد نے سمندر عبور کرکے جبوتی کا رخ کیا ہے۔

بے گھر ہونے والے خاندانوں کو خوراک، پانی، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی خاندان ایسے بھی ہیں جو یمن کی طویل جنگ کے دوران پہلے ہی ایک سے زیادہ مرتبہ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے لیے اہمیت

یمن کی صورتحال پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے قریبی دفاعی اور سفارتی تعلقات ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات خطے کی معیشت اور سمندری تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ بھی سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں یمن میں بڑھتی کشیدگی پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر ایک حساس صورتحال پیدا کرتی ہے۔

آئندہ صورتحال

صنعاء کا حالیہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن میں فوجی محاذ دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ اگر حوثیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان لڑائی مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات سعودی عرب، بحیرہ احمر اور باب المندب کی سکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اس وقت صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی فریق کے دعوے کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے سرکاری بیانات اور متعدد معتبر ذرائع سے تصدیق شدہ اطلاعات کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔

نتیجہ

صنعاء میں دسیوں ہزار حوثی حامیوں کا مظاہرہ یمن میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ مظاہرین نے سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حوثی گروپ کے ساتھ حمایت کا اظہار کیا۔

حالیہ لڑائی کے باعث یمن میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ہوئی ہے جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سکیورٹی پر علاقائی اور عالمی تشویش بڑھ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یمن کے اندر فوجی صورتحال اور سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی اس بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!