سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے دارالحکومت ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق میزائل کو ہفتہ 19 ستمبر کی صبح ریاض تک پہنچنے سے پہلے روک لیا گیا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے نے بھی اسی بیان کی تصدیق کی ہے۔
ریاض کو نشانہ بنانے کی کوشش
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ریاض کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی یہ کوشش موجودہ کشیدگی کے دوران دارالحکومت کے خلاف ایک اہم حملہ تھی۔
سعودی فضائی دفاعی فورسز نے میزائل کو روکنے کے بعد اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ سعودی حکام کے مطابق حملے کا مقصد ریاض میں شہریوں یا شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔
رائٹرز کے مطابق ریاض میں لوگوں نے دھماکوں کی آوازیں سنیں جبکہ شہر کے ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں اور آگ کے آثار بھی دیکھے گئے۔ سعودی شہری دفاع نے بعد میں خطرے کی صورتحال ختم ہونے کا اعلان کیا۔
دیگر سعودی شہروں میں بھی حملوں کی کوششوں کا دعویٰ
سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق حوثیوں نے بیِش، طائف، فرسان اور ینبع میں بھی شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سعودی فضائی دفاع نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
سعودی سرکاری بیان میں ان کارروائیوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ینبع بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم سعودی شہر ہے اور یہاں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے وابستہ اہم تنصیبات موجود ہیں، جس کی وجہ سے خطے میں کسی بھی حملے کی خبر علاقائی سلامتی اور توانائی کی صورتحال کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔
حوثیوں کا مؤقف کیا ہے؟
دوسری جانب حوثی گروپ نے ریاض میں حساس مقامات اور ینبع میں سعودی آئل کمپنی آرامکو سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملوں کی بات کی، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آرامکو نے حملے سے متعلق فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس لیے حوثیوں کی جانب سے کسی بڑے نقصان یا آرامکو کی تنصیبات میں وسیع پیمانے پر تباہی کے دعوے کو فی الحال مصدقہ واقعہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
ریاض میں خطرے کی صورتحال
رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے ریاض اور دارالحکومت کے مشرق میں واقع الخرج کے لیے فضائی حملے کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے شہریوں کو الرٹس جاری کیے تھے۔ بعد میں شہری دفاع نے صورتحال معمول پر آنے کا اعلان کیا۔
ریاض میں دھماکوں کی آوازیں اور ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کے مناظر سامنے آنے کے بعد واقعے نے شہریوں میں تشویش پیدا کی، تاہم دستیاب رپورٹس میں حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
ریاض پر میزائل حملے کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں نے سعودی شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی سعودی عرب پر حوثی حملوں اور یمن میں فوجی کشیدگی میں اضافے کی مذمت کی ہے۔
یہ صورتحال بحیرہ احمر اور خلیج کے درمیان پہلے سے موجود علاقائی سکیورٹی خدشات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں وسیع تر فوجی کشیدگی جاری ہے۔
سعودی فضائی دفاع پر دباؤ
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق علاقائی حکام نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کو میزائل روکنے والے دفاعی نظاموں کے ذخائر کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے اور ریاض نے بعض ممالک سے فضائی دفاعی معاونت طلب کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے ممکنہ فضائی دفاعی تعاون کے حوالے سے رابطے کیے گئے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں پاکستان کی طرف سے کسی مخصوص فوجی مدد یا تعیناتی کی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
پاکستان کے لیے علاقائی اہمیت
سعودی عرب پاکستان کا اہم علاقائی شراکت دار ہے، اس لیے خلیج اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی سفارتی اور علاقائی سلامتی کے اعتبار سے اہم ہے۔
خاص طور پر اگر حملوں کا سلسلہ توانائی کی تنصیبات یا اہم بحری راستوں تک پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی، تیل کی ترسیل اور خطے سے منسلک تجارتی راستوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ صورتحال کے پاکستان پر براہ راست معاشی یا دفاعی اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید قابل اعتماد معلومات اور صورتحال کی پیش رفت کا انتظار ضروری ہے۔
آئندہ صورتحال
ریاض کی جانب بیلسٹک میزائل داغے جانے کا سعودی دعویٰ خطے میں جاری کشیدگی کے ایک نئے پہلو کی نشاندہی کرتا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل کو روک لیا، جبکہ حوثیوں نے متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا فریقین کے درمیان حملوں کا سلسلہ مزید بڑھتا ہے یا سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں شہری اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ سب سے زیادہ حساس مقامات میں شامل ہے۔
نتیجہ
سعودی عرب کے مطابق اس کے فضائی دفاع نے ریاض کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا، جبکہ دیگر سعودی علاقوں میں بھی حملوں کی کوششیں ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حوثیوں نے ریاض اور ینبع میں حملوں کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا، لیکن ان کے بعض دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ تازہ واقعات خطے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ علاقائی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!