Sunday, September 20, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان ایران رابطہ: توانائی کی مسلسل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر علاقائی صورتحال پر گفتگو کی۔ پاکستان نے توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ و تیز آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں کی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات بھی متوقع ہے۔

پاکستان ایران رابطہ: توانائی کی مسلسل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور

پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں مشرق وسطیٰ کی تازہ علاقائی صورتحال، توانائی کی مسلسل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتہ 19 ستمبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر گفتگو کی۔

توانائی کی بلا تعطل فراہمی پر زور

اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران توانائی کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کی اہمیت اجاگر کی۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق خطے میں کشیدگی اور اہم بحری راستوں میں ممکنہ رکاوٹیں ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

پاکستان کا زور اس بات پر رہا کہ توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت سے جڑے اہم راستے معمول کے مطابق محفوظ رہیں۔

بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اہم قرار

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس معاملے کو ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز کے مفادات سے جوڑا ہے۔ خطے کے اہم بحری راستوں میں خلل کی صورت میں تجارتی سرگرمیوں، توانائی کی ترسیل اور درآمدی اشیا کی لاگت متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

مذاکرات اور سفارت کاری پر پاکستان کا مؤقف

اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی قابل عمل راستہ ہیں۔

پاکستان پہلے بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ حالیہ رابطے میں بھی اسلام آباد نے علاقائی مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت واضح کی۔

دونوں ممالک کے درمیان رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے قریبی رابطہ اور تعاون برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ آئندہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات بھی کریں گے۔ اس ملاقات میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر مزید بات چیت کا امکان ہے۔

پاکستان کے لیے توانائی اور تجارت کی اہمیت

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کی محفوظ اور مسلسل فراہمی پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے اہم معاملہ ہے۔

پاکستان کی معیشت عالمی توانائی منڈی اور سمندری تجارت سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے اہم بحری راستوں میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات توانائی کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور سپلائی چین تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ رابطے میں پاکستان اور ایران کے درمیان کسی نئے توانائی معاہدے یا مخصوص تجارتی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

علاقائی صورتحال پر سفارتی سرگرمیاں

پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا حالیہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث خطے کے ممالک سفارتی سطح پر مسلسل رابطے کر رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد علاقائی کشیدگی میں کمی، توانائی کی فراہمی کے تسلسل اور محفوظ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی رابطوں کو اہمیت دے رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے اسی روز ملائیشیا کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں پاکستان اور ملائیشیا کے دوطرفہ تعلقات اور تجارت و اقتصادی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات ہوئی۔ تاہم ایران کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا مرکزی موضوع علاقائی صورتحال، توانائی اور بحری آمدورفت رہا۔

آئندہ رابطے کی اہمیت

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کی متوقع ملاقات دونوں ممالک کو علاقائی صورتحال پر مزید براہ راست تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گی۔

اس ملاقات میں توانائی کی فراہمی، سمندری تجارت کی سلامتی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں سمیت دیگر امور زیر بحث آنے کا امکان ہے، تاہم اس ملاقات کے حتمی ایجنڈے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

نتیجہ

پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ رابطے میں علاقائی صورتحال کے ساتھ توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ و تیز آمدورفت کو اہمیت دی گئی۔ پاکستان نے عالمی سپلائی چینز اور ترقی پذیر ممالک پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر محفوظ سمندری راستوں اور سفارت کاری پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی طے ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!