پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس اہم قومی مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ وزیراعظم نے یہ بات اسلام آباد میں گیٹس فاؤنڈیشن کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
وزیراعظم کے مطابق قومی پولیو خاتمہ پروگرام کو اعلیٰ سطح کی سرپرستی حاصل ہے اور حکومت اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد سے اہم ملاقات
گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد میں گیٹس فاؤنڈیشن کی نمائندہ کالپنا کوچر اور انیتا زیدی شامل تھیں۔
ملاقات میں پاکستان اور گیٹس فاؤنڈیشن کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کی مسلسل حمایت اور تعاون کو سراہا۔
پولیو کے خاتمے کو قومی ترجیح قرار
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے مشترکہ عالمی مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کو اعلیٰ سطح پر ترجیح دی جارہی ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم کئی برسوں سے جاری ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت، صحت کے ادارے، عالمی شراکت دار اور فرنٹ لائن ورکرز مل کر کام کر رہے ہیں۔
عالمی پولیو خاتمہ اقدام کے مطابق پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی منتقلی اب بھی جاری ہے۔ ماہرین نے دونوں ممالک میں باقی رہ جانے والی منتقلی کو روکنے کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف پیش رفت
پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم وائرس کی موجودگی اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔
عالمی پولیو خاتمہ اقدام کے مطابق ستمبر دو ہزار چھبیس کے آغاز تک پاکستان میں رواں سال جنگلی پولیو وائرس کے تین کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ مختلف علاقوں سے وائرس کے ماحولیاتی نمونے بھی سامنے آئے ہیں۔ اگست میں بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا سے مثبت ماحولیاتی نمونے رپورٹ کیے گئے۔
اس صورتحال کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کیسز میں کمی کو پولیو کے مکمل خاتمے کی منزل حاصل ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ مسلسل ویکسینیشن، مؤثر نگرانی اور ہر بچے تک رسائی اب بھی ضروری ہے۔
حکومت اور عالمی شراکت داروں کا تعاون
پاکستان کے پولیو خاتمہ پروگرام میں عالمی اداروں اور شراکت دار تنظیموں کا کردار بھی اہم ہے۔ گیٹس فاؤنڈیشن کے علاوہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، گاوی، روٹری انٹرنیشنل اور دیگر شراکت دار پاکستان کے پولیو خاتمے کے پروگرام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
رواں سال جولائی میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی حکومت کے پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ انہوں نے پولیو اوور سائٹ بورڈ کے وفد سے ملاقات میں کہا تھا کہ پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے کے لیے سیاسی عزم اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
ہر بچے تک ویکسین پہنچانا بنیادی مقصد
پولیو کے خاتمے کے لیے سب سے اہم ضرورت ملک بھر میں ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق باقی رہ جانے والے پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے ویکسینیشن مہمات کا معیار اور کوریج مسلسل بہتر بنانا ہوگی۔
عالمی پولیو خاتمہ اقدام کے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے پاکستان کے لیے ستمبر دو ہزار چھبیس، دسمبر دو ہزار چھبیس اور جون دو ہزار ستائیس کے لیے مختلف وبائیاتی اہداف مقرر کیے ہیں تاکہ باقی رہ جانے والے وائرس کی منتقلی والے علاقوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے۔
پولیو کے خاتمے میں فرنٹ لائن ورکرز کا کردار
پولیو کے خلاف جنگ میں ویکسینیشن ورکرز بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کارکن مختلف علاقوں میں گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاتے ہیں اور ویکسینیشن کی کوریج بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
حکومت اور عالمی شراکت داروں کی جانب سے پولیو ٹیموں کی کارکردگی، نگرانی اور بچوں تک رسائی کو بہتر بنانے پر مسلسل توجہ دی جارہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے صرف قومی سطح کے فیصلے کافی نہیں بلکہ ضلعی اور مقامی سطح پر بھی مؤثر نگرانی، والدین کا تعاون اور ہر مہم میں بچوں کی مکمل کوریج ضروری ہے۔
وائرس کی نگرانی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت
پولیو کے خاتمے کے لیے صرف انسانی کیسز کی نگرانی کافی نہیں ہوتی بلکہ ماحولیاتی نگرانی بھی انتہائی اہم ہے۔ گٹر کے پانی اور دیگر ماحولیاتی نمونوں کے ذریعے وائرس کی موجودگی کا سراغ لگایا جاتا ہے۔
حالیہ مثبت ماحولیاتی نمونے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض علاقوں میں وائرس کی گردش کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ اسی لیے ماہرین نے نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں مسلسل توجہ برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے لیے آخری مرحلہ انتہائی اہم
عالمی پولیو خاتمہ پروگرام کے مطابق پاکستان میں وائرس کی جغرافیائی موجودگی پہلے کے مقابلے میں محدود ہوئی ہے اور منتقلی زیادہ خطرے والے چند علاقوں تک سکڑ رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آخری مرحلہ سب سے زیادہ احتیاط اور مسلسل کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔
ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے پاکستان اور افغانستان میں پیش رفت کو سراہنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ موجودہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی قیادت، حکومتی ذمہ داری، مؤثر مہمات اور عالمی شراکت داروں کی حمایت مسلسل جاری رہنا ضروری ہے۔
گیٹس فاؤنڈیشن کا تعاون قابل قدر قرار
وزیراعظم شہباز شریف نے پولیو کے خاتمے سمیت صحت، غذائیت، مالی شمولیت اور کمزور طبقات کی فلاح کے شعبوں میں گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ گیٹس فاؤنڈیشن نے پاکستان کے پولیو خاتمے کے پروگرام میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ ملاقات میں دونوں جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
حکومت کے لیے بڑا قومی چیلنج
پاکستان میں پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کے لیے صحت عامہ کا ایک بڑا قومی ہدف ہے۔ اگرچہ بیماری کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری کوششوں کے نتیجے میں کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن وائرس کی موجودگی ختم نہ ہونے کے باعث مہمات کو مکمل کامیابی تک جاری رکھنا ضروری ہے۔
حکومت کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ پولیو ویکسین کے بارے میں عوامی اعتماد برقرار رکھا جائے، والدین کو آگاہی فراہم کی جائے اور دور دراز علاقوں میں بھی ویکسینیشن ٹیموں کی رسائی یقینی بنائی جائے۔
پاکستان کو عالمی حمایت حاصل رہے گی
پاکستان کے پولیو خاتمے کے پروگرام کو عالمی اداروں اور شراکت داروں کی مسلسل حمایت حاصل ہے۔ عالمی پولیو خاتمہ اقدام کے مطابق موجودہ مرحلے میں پاکستان میں سیاسی عزم، مالی وسائل، تکنیکی معاونت اور ہر بچے تک ویکسین پہنچانے پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اگست میں اقوام متحدہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے پاکستان کی پولیو خاتمے کی کوششوں کے لیے اقوام متحدہ کی مسلسل حمایت کی تعریف کی تھی۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے آئندہ مرحلے میں زیادہ خطرے والے علاقوں پر خصوصی توجہ، ویکسینیشن مہمات کے معیار میں بہتری، مؤثر ماحولیاتی نگرانی اور ہر بچے تک رسائی بنیادی ترجیحات رہیں گی۔
اس کے ساتھ ساتھ والدین اور مقامی کمیونٹیز کا تعاون بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ پولیو ویکسینیشن کے بارے میں درست معلومات کی فراہمی اور غلط فہمیوں کا خاتمہ بھی مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
نتیجہ
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کردیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد سے ملاقات میں واضح کیا کہ حکومت اس قومی مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور پولیو خاتمہ پروگرام کو اعلیٰ سطح کی سرپرستی حاصل ہے۔
اگرچہ پاکستان میں پولیو وائرس کی منتقلی محدود علاقوں تک سمٹنے کے آثار موجود ہیں، تاہم عالمی ماہرین کے مطابق کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ باقی رہ جانے والے وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے مسلسل ویکسینیشن، مضبوط نگرانی، مؤثر حکومتی اقدامات اور عالمی شراکت داروں کا تعاون ضروری ہوگا۔
پاکستان کے لیے آنے والا مرحلہ اس اعتبار سے انتہائی اہم ہے کہ موجودہ پیش رفت کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!