Wednesday, September 16, 2026
اللہ دتہ لونے والا
گلوکار

اللہ دتہ لونے والا

Allah Ditta Lonay Wala
پیدائش: 01 Jan 1957 وفات: 29 Jun 2021 لونے والا، نزد چنیوٹ، پنجاب، پاکستان
3 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

اللہ دتہ لونے والا پاکستان کے معروف پنجابی اور سرائیکی لوک گلوکار تھے جنہوں نے اپنی منفرد آواز اور روایتی لوک انداز کے ذریعے پاکستانی لوک موسیقی میں ایک نمایاں مقام بنایا۔ ان کا تعلق ضلع چنیوٹ کے قریب واقع گاؤں لونے والا سے تھا، جس کا نام انہوں نے اپنی طویل فنی زندگی کے ذریعے پاکستان کے موسیقی کے نقشے پر نمایاں کیا۔

اللہ دتہ لونے والا 1957ء میں لونے والا، ضلع چنیوٹ کے قریب پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام میاں سانتا خان تھا۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بنیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کریں، لیکن اللہ دتہ کی آواز اور موسیقی سے فطری وابستگی نے انہیں گائیکی کی طرف لے گیا۔ بعد میں وہ پاکستان کے معروف لوک گلوکاروں میں شمار ہونے لگے۔

ان کی گائیکی کا آغاز کم عمری میں ہوا۔ اسکول کے زمانے میں مختلف تقریبات میں گانے کی وجہ سے ان کی آواز کو توجہ ملی۔ وقت کے ساتھ انہوں نے مقامی میلوں، شادی بیاہ کی تقریبات اور ثقافتی محافل سے اپنے فنی سفر کو آگے بڑھایا۔ ان کی گائیکی میں پنجاب اور سرائیکی وسیب کی روایتی موسیقی، مقامی شاعری اور عوامی جذبات نمایاں رہے۔

اللہ دتہ لونے والا کی اصل شناخت پنجابی اور سرائیکی لوک موسیقی تھی۔ ان کی آواز میں محبت، جدائی، ہجر، دیہی زندگی، انسانی تعلقات اور روایتی معاشرتی احساسات کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ وہ ٹپے، ماہئے، دوہڑے اور دیگر روایتی لوک اصناف کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتے تھے۔

ان کی آواز خاص طور پر سرائیکی اور پنجابی لوک موسیقی کے شائقین میں مقبول ہوئی۔ ان کی گائیکی کا دائرہ صرف اپنے آبائی علاقے تک محدود نہیں رہا بلکہ پنجاب کے مختلف علاقوں تک پھیل گیا۔ ان کی ریکارڈنگز نے انہیں ریڈیو، آڈیو ریکارڈنگز اور بعد میں ڈیجیٹل میوزک پلیٹ فارمز پر نئی نسل کے سامعین تک بھی پہنچایا۔

اللہ دتہ لونے والا نے اپنے گیتوں میں علاقائی زبانوں اور لوک روایت کو اہمیت دی۔ ان کی گائیکی میں مقامی الفاظ، روایتی دھنیں اور عوامی جذبات کا امتزاج انہیں دوسرے فنکاروں سے ممتاز کرتا تھا۔ ان کی کئی گائیکیاں آج بھی پنجابی اور سرائیکی لوک موسیقی کے مجموعوں میں سننے کو ملتی ہیں۔

ان کے فنی ورثے کو ان کے خاندان نے بھی آگے بڑھایا۔ ان کے صاحبزادوں میں نذیر/ظہیر عباس لونے والا اور ندیم عباس لونے والا کا ذکر ملتا ہے، جبکہ ان کے چھوٹے بیٹے ندیم عباس نے بھی اپنے والد کی طرح لوک گائیکی اختیار کی اور بعد میں موسیقی کے میدان میں اپنی شناخت بنائی۔

اللہ دتہ لونے والا کو ان کی لوک موسیقی کے لیے صدارتی اعزاز "پرائیڈ آف پرفارمنس" بھی دیا گیا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان نے بھی ان کی وفات کی خبر میں اس اعزاز کا ذکر کیا ہے۔

وہ طویل علالت کے بعد 29 جون 2021ء کو چنیوٹ میں انتقال کر گئے۔ APP کے مطابق ان کی عمر 64 برس تھی اور ان کی وفات دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔ ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں ادا کی گئی۔

اللہ دتہ لونے والا کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے پنجابی اور سرائیکی لوک موسیقی کو اپنی مخصوص آواز کے ذریعے کئی دہائیوں تک زندہ رکھا۔ ان کا سب سے بڑا فنی ورثہ ان کی وہ گائیکی ہے جس میں پنجاب اور سرائیکی خطے کی زبان، ثقافت، محبت اور عوامی جذبات کی نمائندگی ملتی ہے۔

کارنامے

• پنجابی اور سرائیکی لوک موسیقی کے ممتاز گلوکار کے طور پر کئی دہائیوں تک خدمات انجام دیں۔

• لونے والا اور چنیوٹ کے علاقے کو پاکستان کی لوک موسیقی میں نمایاں شناخت دلانے میں کردار ادا کیا۔

• پنجابی اور سرائیکی لوک گائیکی کو ملک بھر کے سامعین تک پہنچایا۔

• ٹپے، ماہئے، دوہڑے اور روایتی لوک گیت اپنی مخصوص آواز میں پیش کیے۔

• دیہی پنجاب اور سرائیکی وسیب کی زبان اور ثقافتی روایات کو اپنی موسیقی کا حصہ بنایا۔

• محبت، ہجر، جدائی اور انسانی جذبات پر مبنی لوک کلام کو مقبول بنانے میں کردار ادا کیا۔

• ریڈیو، ثقافتی محافل، میلوں اور دیگر عوامی پروگراموں میں طویل عرصے تک فن کا مظاہرہ کیا۔

• ان کی متعدد لوک گائیکیاں بعد میں ڈیجیٹل میوزک پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہوئیں۔

• حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی اعزاز "پرائیڈ آف پرفارمنس" حاصل کیا۔

• ان کے بعد ان کے صاحبزادے ندیم عباس لونے والا نے بھی لوک گائیکی میں اپنے والد کی روایت کو آگے بڑھایا۔

مشہور کام

اللہ دتہ لونے والا کی بہت سی ریکارڈنگز مختلف ادوار میں مختلف عنوانات اور مجموعوں کے ساتھ جاری ہوئیں۔ دستیاب میوزک کیٹلاگز میں ان سے منسوب معروف گائیکیوں میں درج ذیل شامل ہیں:

• Ik Waar Te Aa Ke Mil Mahiya

• Dholay Tay Sadian Yarian

• Dil Taithon Mangia

• Do Than Tay Piar

• Karen Na Ton Be Parwahi

• Menu Wangan Chdha Day

• Piar Naal Piar Da Jawab

• Rata Hijar Diyan

• Rus Gai Nay Yaar Saday

• Sonay Da Gajre

• Tak Tak Rawan

• Tappe Mahiye

• Wich Junglaan De Shama Pyaan

یہ گیت اور دیگر ریکارڈنگز ان کے پنجابی و سرائیکی لوک فنی ورثے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ دستیاب میوزک کیٹلاگز میں ان کے نام سے متعدد ایسی ریکارڈنگز درج ہیں۔
تاریخ پیدائش
01 Jan 1957
تاریخ وفات
29 Jun 2021
جائے پیدائش
لونے والا، نزد چنیوٹ، پنجاب، پاکستان