Wednesday, September 16, 2026
طالب حسین درد
گلوکار

طالب حسین درد

Talib Hussain Dard
پیدائش: 01 Jan 1955 وفات: 17 Mar 2019 خانوآنہ (Khanowana)، ضلع جھنگ، پنجاب، پاکستان
7 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

طالب حسین درد پاکستان کے معروف پنجابی اور سرائیکی لوک گلوکار تھے جنہوں نے اپنی منفرد، بلند اور جذبات سے بھرپور آواز کے ذریعے جھنگ اور وسطی و جنوبی پنجاب کی لوک موسیقی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا تعلق ضلع جھنگ کے گاؤں خانوآنہ سے تھا اور وہ پنجابی خصوصاً جھنگوچی لوک روایت کے اہم نمائندوں میں شمار ہوتے ہیں۔

طالب حسین درد نے کم عمری میں گائیکی کا آغاز کیا اور بعد ازاں لوک اور کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ دستیاب سوانحی حوالوں کے مطابق انہوں نے لوک گائیکی کی تربیت استاد نذر حسین ڈھوکری سے جبکہ کلاسیکی موسیقی کی تربیت استاد سلامت علی خان سے حاصل کی۔ کلاسیکی موسیقی کی تربیت نے ان کے لوک اندازِ گائیکی کو مزید پختگی اور راگ داری عطا کی۔

ان کا فنی سفر تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط رہا۔ انہوں نے شادی بیاہ کی تقریبات، میلوں، ثقافتی محافل، ریڈیو اور ٹیلی وژن سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں ان کی آواز پاکستان بھر میں زیادہ نمایاں ہوئی، جبکہ ان کی متعدد گائیکیاں پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو کے ذریعے بھی سامعین تک پہنچیں۔

طالب حسین درد کی گائیکی کا سب سے نمایاں پہلو ان کی بلند آہنگ اور درد بھری آواز تھی۔ انہوں نے روایتی پنجابی و سرائیکی لوک اصناف، دوہڑے، ماہئے، لوک گیت اور جوگ کو اپنی مخصوص طرز میں پیش کیا۔ خصوصاً راگ جوگ میں ان کی مہارت نے انہیں ایک منفرد شناخت دی اور بعد کے ادوار میں انہیں "شہنشاہِ جوگ" یا "King of Jog" کے طور پر بھی یاد کیا گیا۔

انہوں نے جھنگ اور سندل بار کی مقامی شاعری کو اپنی آواز کے ذریعے وسیع سامعین تک پہنچایا۔ ان کے گائے ہوئے کلام میں محبت، جدائی، انسانی جذبات، دیہی زندگی اور علاقائی ثقافت کے مختلف رنگ نمایاں تھے۔ انہوں نے کئی علاقائی شعراء کے دوہڑوں، ماہئے اور گیت گائے اور اس طرح جھنگوچی لوک شاعری کو موسیقی کے ذریعے زندہ رکھنے میں کردار ادا کیا۔

ان کے معروف گیتوں میں "اساں ماڑے سرکار، تُساں چنگے او" کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ اس گیت اور دیگر لوک کلام نے انہیں پنجاب کے وسیع حلقوں میں مقبول بنایا۔ وہ روایتی لوک داستانوں، خصوصاً سوہنی ماہیوال اور سسی پنوں جیسے عشقیہ اور المیہ قصوں کو گائیکی کے ذریعے عوام تک پہنچانے کے لیے بھی معروف رہے۔

طالب حسین درد کی مقبولیت صرف جھنگ تک محدود نہیں تھی۔ وہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں شادی بیاہ، میلوں اور ثقافتی پروگراموں میں پرفارم کرتے رہے۔ ان کی گائیکی کو جھنگ، چنیوٹ، سرگودھا، خوشاب، چکوال، بھکر، لیہ، خانیوال اور دیگر علاقوں میں خاص طور پر پسند کیا جاتا تھا۔

ان کے فن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ انہوں نے لوک موسیقی کو کلاسیکی انداز کے ساتھ جوڑا۔ راگ جوگ کے علاوہ بہرویں اور پہاڑی جیسے راگوں کا استعمال بھی ان کی گائیکی میں ملتا ہے۔ ہارمونیم اور طبلہ ان کی محفلوں میں استعمال ہونے والے نمایاں سازوں میں شامل تھے۔

طالب حسین درد نے جھنگ میں موسیقی کی تربیت کے لیے ایک میوزک اکیڈمی قائم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم محدود وسائل کی وجہ سے یہ منصوبہ مستقل طور پر جاری نہ رہ سکا۔ ان کے صاحبزادے عمران طالب نے بھی گائیکی کے شعبے میں قدم رکھا اور والد کے فنی ورثے کو آگے بڑھایا۔

طالب حسین درد 17 مارچ 2019ء کو انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں خانوآنہ، ضلع جھنگ میں ادا کی گئی اور انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے انتقال پر پنجاب کی لوک موسیقی کے حلقوں میں ایک اہم فنکار کے رخصت ہونے کا احساس نمایاں ہوا۔

ان کی زندگی اور فن کا سب سے بڑا ورثہ ان کی وہ آواز ہے جس نے جھنگ اور سندل بار کی علاقائی زبان، شاعری، لوک داستانوں اور عوامی جذبات کو موسیقی کے ذریعے محفوظ کیا۔ آج بھی ان کی ریکارڈنگز اور گائے ہوئے دوہڑے، ماہئے اور لوک گیت ان کے مداحوں میں مقبول ہیں۔

کارنامے

• پنجابی اور سرائیکی لوک موسیقی کے نمایاں گلوکار کے طور پر تقریباً پانچ دہائیوں تک خدمات انجام دیں۔

• جھنگوچی اور علاقائی لوک گائیکی کو وسیع سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

• راگ جوگ کو اپنی مخصوص بلند اور جذباتی آواز کے ذریعے نئی مقبولیت دی۔

• دوہڑا، ماہیا، لوک گیت اور روایتی گائیکی کو کلاسیکی موسیقی کے انداز سے جوڑا۔

• پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو کے ذریعے اپنی گائیکی کو وسیع سامعین تک پہنچایا۔

• پنجاب کے مختلف اضلاع میں میلوں، شادی بیاہ اور ثقافتی تقریبات میں طویل عرصے تک پرفارم کیا۔

• سوہنی ماہیوال اور سسی پنوں سمیت پنجاب کی روایتی لوک داستانوں کو گائیکی کے ذریعے زندہ رکھنے میں کردار ادا کیا۔

• ان کے بارے میں دستیاب مواد کے مطابق انہوں نے ہزاروں لوک گیت، دوہڑے اور ماہئے گائے؛ بعض ذرائع تعداد 20,000 سے زائد بتاتے ہیں۔

• انہوں نے جھنگ میں موسیقی کی تربیت کے لیے ایک اکیڈمی قائم کرنے کی کوشش کی۔

• ان کے صاحبزادے عمران طالب سمیت بعد کی نسل کے فنکاروں نے ان کی موسیقی کی روایت کو آگے بڑھایا۔

• بعض دستیاب سوانحی مواد میں 2017ء میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے Kamal-e-Fun Award حاصل کرنے کا ذکر ملتا ہے؛ اس اعزاز کی سرکاری تصدیق دستیاب بنیادی ماخذ سے مزید درکار ہے۔

مشہور کام

اساں ماڑے سرکار، تُساں چنگے او

• جو گزر گئی اے واہ واہ دلبر

• روایتی جھنگوچی دوہڑے

• جھنگوچی ماہئے

• راگ جوگ کی گائیکیاں

• سوہنی ماہیوال کی لوک داستان پر مبنی گائیکیاں

• سسی پنوں کی روایتی لوک گائیکیاں

• پنجابی و سرائیکی لوک گیت اور گوان

طالب حسین درد کی اصل فنی پہچان کسی ایک گیت تک محدود نہیں بلکہ ان کی جوگ، دوہڑا، ماہیا اور روایتی لوک داستانوں کی مخصوص گائیکی ان کی سب سے بڑی میراث سمجھی جاتی ہے۔
تاریخ پیدائش
01 Jan 1955
تاریخ وفات
17 Mar 2019
جائے پیدائش
خانوآنہ (Khanowana)، ضلع جھنگ، پنجاب، پاکستان