Wednesday, September 16, 2026
منصور علی ملنگی
گلوکار

منصور علی ملنگی

Mansoor Ali Malangi
پیدائش: 01 Jan 1947 وفات: 14 Dec 2017 گڑھ موڑ
29 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

منصور علی ملنگی پاکستان کے معروف پنجابی اور سرائیکی لوک گلوکار تھے۔ ان کا تعلق گڑھ مہاراجہ، ضلع جھنگ سے تھا۔ وہ اپنی منفرد، درد بھری اور دل کو چھو لینے والی آواز کے باعث پنجابی اور سرائیکی موسیقی میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے والد پٹھان علی بھی سارنگی نواز اور لوک گائیک تھے، جن سے منصور علی ملنگی نے موسیقی کی ابتدائی تربیت حاصل کی۔

منصور علی ملنگی نے 1965ء میں ریڈیو پاکستان سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن اور دیگر موسیقی کے پلیٹ فارمز پر اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کی شہرت خاص طور پر پنجابی اور سرائیکی لوک گیتوں کے باعث ہوئی۔ محبت، جدائی، درد، وفا، بے وفائی اور صوفیانہ جذبات ان کی گائیکی کے نمایاں موضوعات تھے۔

انہوں نے خواجہ غلام فرید سمیت مختلف صوفی شعرا کا کلام بھی گایا اور سرائیکی وسیب کی ثقافت اور لوک موسیقی کو پاکستان بھر میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی گائیکی کئی دہائیوں تک عوام میں مقبول رہی اور ان کے متعدد گیت آج بھی شوق سے سنے جاتے ہیں۔

منصور علی ملنگی نے اپنے طویل فنی کیریئر کے دوران 200 سے زائد آڈیو البمز ریکارڈ کیے۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا۔ وہ 11 دسمبر 2014ء کو انتقال کر گئے، لیکن ان کی آواز اور گیت آج بھی پاکستانی لوک موسیقی کا اہم حصہ ہیں۔

کارنامے

پنجابی اور سرائیکی لوک موسیقی کے معروف گلوکار کی حیثیت سے قومی شہرت حاصل کی۔
1965ء میں ریڈیو پاکستان سے اپنے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز کیا۔
200 سے زائد آڈیو البمز ریکارڈ کیے۔
پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان کے ذریعے لوک موسیقی کو فروغ دیا۔
پنجابی، سرائیکی اور اردو میں متعدد مقبول گیت گائے۔
خواجہ غلام فرید اور دیگر صوفی شعرا کا کلام اپنی منفرد آواز میں پیش کیا۔
سرائیکی وسیب کی ثقافت اور لوک موسیقی کو ملک بھر میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
حکومت پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز سے نوازے گئے۔
ان کی گائیکی نے کئی نسلوں کے سامعین کو متاثر کیا اور ان کے گیت آج بھی مقبول ہیں۔

مشہور کام

اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے
کیہڑی غلطی ہوئی اے ظالم
خان گھراں دے بند وے
بلوچا ظالما
یاداں وچھڑے سجن دیاں
مینوں تیرے جیا سوہنا کوئی دسدا ناں
محبت روگ ہے دل دا
بے درد ڈھولا
کالا تل ماہی دا
کدن ولسوں سوہنا سانولا
کی حال سناواں دل دا
خواجہ غلام فرید کا مختلف صوفیانہ کلام
تاریخ پیدائش
01 Jan 1947
تاریخ وفات
14 Dec 2017
جائے پیدائش
گڑھ موڑ