Friday, September 18, 2026
FB
فرحت عباس شاہ
ادیب

فرحت عباس شاہ

Farhat Abbas Shah
پیدائش: 01 Jan 1964 جھنگ، پنجاب، پاکستان
0 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

ابتدائی زندگی اور ادبی آغاز



فرحت عباس شاہ 1964ء میں جھنگ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ دستیاب ادبی ذرائع کے مطابق ان کی ابتدائی تعلیم جھنگ میں ہوئی اور کم عمری ہی سے شعر و ادب کی طرف ان کا رجحان پیدا ہوگیا۔ ایک ادبی ماخذ کے مطابق انہوں نے تقریباً 13 سال کی عمر میں نظمیں لکھنا شروع کیں اور ان کی ابتدائی تخلیقات اخبارات میں شائع ہوتی رہیں۔

ان کی ادبی شناخت بنیادی طور پر اردو شاعری سے بنی۔ ان کے ہاں محبت، تنہائی، جدائی، انسانی جذبات، داخلی کشمکش اور سماجی احساسات جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ ریختہ انہیں شاعر، صحافی اور ٹی وی پریزینٹر کے طور پر درج کرتا ہے اور ان کے شعری اسلوب کو ذاتی اور جدید اندازِ اظہار سے جوڑتا ہے۔

تعلیم



فرحت عباس شاہ کے تعلیمی پس منظر میں نفسیات اور فلسفہ شامل ہیں۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق انہوں نے جھنگ میں نفسیات کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں لاہور آکر فلسفہ کی تعلیم جاری رکھی۔ ایک ادبی ماخذ کے مطابق انہوں نے 1990ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔

ان کی علمی دلچسپی صرف شاعری تک محدود نہیں رہی۔ پنجاب یونیورسٹی کے Institute of Applied Psychology نے 2021ء کے ایک پروگرام میں انہیں ماہرِ نفسیات، فلسفی اور شاعر کے طور پر متعارف کرایا۔ اس پروگرام میں انہوں نے انسانی شخصیت اور سماجی تشکیل کے موضوع پر گفتگو بھی کی۔

شاعری اور ادبی شناخت



فرحت عباس شاہ کی ادبی شناخت کا بنیادی حوالہ ان کی شاعری ہے۔ ان کے کلام میں کلاسیکی اردو شاعری کی اصناف کے ساتھ جدید احساسات اور عصری موضوعات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ریختہ پر ان کی غزلیں اور اشعار موجود ہیں اور انہیں جدید اسلوب کے ساتھ کلاسیکی شعری صورتوں پر کام کرنے والے شاعر کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

ان کی شاعری میں اداسی، محبت، ہجر، یاد، انسانی رشتوں اور زندگی کے تجربات نمایاں موضوعات ہیں۔ ان کے ہاں جذباتی کیفیت کو محض ذاتی تجربے کے طور پر نہیں بلکہ وسیع انسانی احساس کے طور پر پیش کرنے کا رجحان ملتا ہے۔

"شام کے بعد"



فرحت عباس شاہ کے ابتدائی اور معروف شعری مجموعوں میں "شام کے بعد" شامل ہے۔ دستیاب ادبی ذرائع کے مطابق یہ مجموعہ جون 1989ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب نے ان کی ادبی شناخت کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

"شام کے بعد" کے علاوہ ان کی متعدد شعری کتابیں شائع ہوئیں۔ ان کی اپنی ادبی ویب سائٹ پر موجود کتابوں کی فہرست میں "آ لگا جنگل در و دیوار سے"، "آنکھوں کے پار چاند"، "ابھی خواب ہے"، "اداس شامیں اجاڑ رستے"، "اے عشق ہمیں آزاد کرو"، "بارشوں کے موسم میں"، "تاجدارِ حرم"، "تیرے کچھ خواب"، "جدائی راستہ روکے کھڑی ہے" اور دیگر عنوانات شامل ہیں۔

نظم اور دیگر تخلیقی کام



فرحت عباس شاہ نے غزل کے ساتھ نظم میں بھی کام کیا۔ ان کی کتاب "اکیسویں صدی کی پہلی نظم" کا کتابی ریکارڈ موجود ہے، جسے گورا پبلشرز لمیٹڈ لاہور نے شائع کیا۔ اس کتاب کا موضوع نظم و شاعری ہے اور اس میں طویل نظم شامل ہے۔

ان کی ادبی ویب سائٹ پر اس کتاب کے متن میں متعدد طویل نظموں کے حصے موجود ہیں، جس سے ان کے نظم کے میدان میں کام کی دستاویزی حیثیت واضح ہوتی ہے۔

صحافت، ٹی وی اور ریڈیو



فرحت عباس شاہ کی سرگرمیوں کا تعلق ادب کے علاوہ ابلاغی شعبے سے بھی رہا ہے۔ ریختہ انہیں شاعر، صحافی اور ٹی وی پریزینٹر کے طور پر درج کرتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے 2021ء کے پروگرام میں بھی انہیں مختلف ٹی وی چینلز اور ریڈیو کے ساتھ کام کرنے والے شخص کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ اس سے ان کی سرگرمیوں کے دائرے کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف کتابی شاعری تک محدود نہیں رہے بلکہ ٹیلی وژن، ریڈیو اور عوامی گفتگو کے میدانوں میں بھی نظر آئے۔

سماجی اور فکری سرگرمیاں



فرحت عباس شاہ کے حوالے سے دستیاب پنجاب یونیورسٹی کے ریکارڈ میں FARZ Foundation کا بھی ذکر ملتا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق وہ اس فاؤنڈیشن کے بانی ہیں، جو پاکستان میں غریب طبقات کے لیے مائیکروفنانس کی بنیاد پر کام کرنے کے حوالے سے متعارف کرائی گئی ہے۔

ان کی ادبی تحریروں میں فلسفہ، نفسیات اور سماجی مسائل سے متعلق موضوعات بھی ملتے ہیں۔ 2025ء میں ان کے نام سے شائع ہونے والی ایک تحریر میں "ادراکی تنقید" اور فن، فلسفہ اور تخلیقی عمل کے باہمی تعلق پر بحث موجود ہے۔

موجودہ ادبی حیثیت



فرحت عباس شاہ کا نام معاصر اردو شاعری کے حوالے سے ریختہ جیسے معروف ادبی ذخیرے میں موجود ہے۔ ان کے کلام کی متعدد غزلیں، اشعار اور دیگر ادبی مواد وہاں محفوظ ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی نے بھی انہیں شاعر، فلسفی اور نفسیات کے ماہر کے طور پر اپنے پروگرام میں شامل کیا، جبکہ ان کی متعدد کتابیں مختلف ادبی ذخائر میں درج ہیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر ان کی شناخت بنیادی طور پر شاعر اور ادیب کی ہے، جس کے ساتھ صحافت، ٹی وی اور فکری سرگرمیوں کے شعبے بھی وابستہ رہے ہیں۔

کارنامے

ادبی خدمات



* اردو شاعری میں غزل اور نظم کے میدان میں متعدد شعری مجموعے شائع کیے۔
* "شام کے بعد" سمیت کئی شعری کتابیں تصنیف کیں؛ "شام کے بعد" جون 1989ء میں شائع ہونے کا ریکارڈ موجود ہے۔
* "اکیسویں صدی کی پہلی نظم" کے نام سے شعری مجموعہ شائع کیا، جس کا باقاعدہ کتابی ریکارڈ موجود ہے۔

علمی اور فکری سرگرمیاں



* فلسفہ اور نفسیات کے مطالعے کو اپنی ادبی اور فکری سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا۔ پنجاب یونیورسٹی نے 2021ء میں انہیں فلسفی، ماہرِ نفسیات اور شاعر کے طور پر اپنے پروگرام میں شامل کیا۔
* شاعری اور ادب کے علاوہ تنقید، فلسفہ اور انسانی شخصیت جیسے موضوعات پر گفتگو اور تحریری کام کیا۔

ابلاغی خدمات



* صحافت اور ٹیلی وژن سے وابستہ رہے اور ٹی وی پریزینٹر کے طور پر بھی کام کیا۔
* مختلف ٹی وی چینلز اور ریڈیو کے ساتھ کام کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔

سماجی سرگرمیاں



* پنجاب یونیورسٹی کے مطابق FARZ Foundation کے بانی ہیں، جو مائیکروفنانس کی بنیاد پر کم آمدنی والے افراد کے لیے کام کرتی ہے۔

مشہور کام

معروف شعری مجموعے



* شام کے بعد
* شام کے بعد — دوم
* آ لگا جنگل در و دیوار سے
* آنکھوں کے پار چاند
* ابھی خواب ہے
* اداس شامیں اجاڑ رستے
* اے عشق ہمیں آزاد کرو
* بارشوں کے موسم میں
* تاجدارِ حرم
* تیرے کچھ خواب
* جدائی راستہ روکے کھڑی ہے
* چاند پر زور نہیں
* دل دے ہتھ مہار
* سوال درد کا ہے
* عشق نرالا مذہب ہے

معروف نظم



* "اکیسویں صدی کی پہلی نظم" — اس کتاب کا باقاعدہ کتابی اندراج موجود ہے اور اسے گورا پبلشرز لمیٹڈ لاہور سے منسوب کیا گیا ہے۔

معروف غزلیں



* "تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد" — یہ غزل ریختہ پر فرحت عباس شاہ کے کلام کے طور پر درج ہے۔
* ان کی متعدد دیگر غزلیں اور اشعار بھی ریختہ کے ادبی ذخیرے میں محفوظ ہیں۔

دیگر نمایاں کام



* اردو شاعری کے ساتھ صحافت، ٹی وی اور ریڈیو کے شعبوں میں بھی کام کیا۔
* فلسفہ، نفسیات، انسانی شخصیت اور ادبی تنقید سے متعلق فکری گفتگو اور تحریری کام بھی ان کی سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں۔
تاریخ پیدائش
01 Jan 1964
جائے پیدائش
جھنگ، پنجاب، پاکستان