ادیب
صفدر سلیم سیال
Safdar Saleem Sial
پیدائش: 01 Jan 1936
وفات: 23 Nov 2018
احمد پور سیال، ضلع جھنگ، پنجاب، برطانوی ہندوستان — موجودہ پاکستان
تعارف
ابتدائی زندگی
صفدر سلیم سیال جھنگ سے تعلق رکھنے والے اردو کے شاعر، ادیب، محقق اور سیاسی و سماجی کارکن تھے۔ ریختہ انہیں 1936ء میں پیدا ہونے والے اور 2018ء میں وفات پانے والے شاعر کے طور پر درج کرتا ہے اور ان کی نسبت جھنگ سے کرتا ہے۔ ایک تفصیلی تعزیتی مضمون کے مطابق وہ 1936ء میں احمد پور سیال کے علاقے میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق تحصیل احمد پور سیال، ضلع جھنگ کے ایک معروف خاندان سے تھا۔
احمد پور سیال سے تعلق
صفدر سلیم سیال کی شخصیت کی تشکیل میں احمد پور سیال اور جھنگ کے مقامی ماحول کا اہم کردار تھا۔ ان کے ادبی مزاج میں پنجاب کی تہذیب، مقامی معاشرت اور جھنگ کے ثقافتی پس منظر کی جھلک ملتی ہے۔ دستیاب سوانحی مضمون انہیں احمد پور سیال کے نواحی گاؤں گدارا سے بھی جوڑتا ہے۔
شاعری کا آغاز
انہوں نے نوجوانی ہی میں شاعری اور سیاسی سرگرمیوں کی طرف توجہ کی۔ جھنگ کی علمی و ادبی شخصیات کے ایک تذکرے کے مطابق انہوں نے کالج کے زمانے میں سیاست اور شاعری کے میدان میں قدم رکھا اور معروف شاعر مجید امجد سے بھی فیض حاصل کیا۔ اسی روایت میں انہیں ایک اچھا مقرر اور فعال سیاسی کارکن بھی بیان کیا گیا ہے۔
مجید امجد سے ادبی اثر
مجید امجد کا تعلق بھی جھنگ سے تھا اور صفدر سلیم سیال ان کے ادبی اثرات سے متاثر ہونے والے شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ادبی کالم میں مجید امجد سے متعلق کتاب کے انتساب کا ذکر صفدر سلیم سیال کے نام سے کیا گیا ہے، جو دونوں کے درمیان ادبی تعلق کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اردو شاعری میں مقام
صفدر سلیم سیال کی بنیادی ادبی شناخت غزل کے شاعر کی ہے۔ ریختہ پر ان کی متعدد غزلیں محفوظ ہیں، جن میں محبت، جدائی، انسانی تعلقات، وقت، خواب اور معاشرتی تجربات جیسے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ ریختہ کے موجودہ ریکارڈ میں ان کی دس غزلیں، ایک نظم اور متعدد اشعار درج ہیں۔
ان کے کلام کا ایک نمایاں پہلو سادہ مگر معنی خیز اظہار ہے۔ وہ ذاتی جذبات کو وسیع انسانی تجربے سے جوڑتے ہیں، جس کے باعث ان کی غزل میں محبت اور ہجر کے ساتھ ساتھ زندگی کے عمومی مسائل اور انسانی کیفیت بھی جگہ پاتی ہے۔
’’خواب تبدیل کریں‘‘
صفدر سلیم سیال کی دستیاب کتابوں میں ’’خواب تبدیل کریں‘‘ نمایاں ہے۔ ریختہ کے مطابق یہ شعری مجموعہ 2009ء میں الحمد پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوا، اردو زبان میں ہے اور اس کے 122 صفحات ہیں۔
اس مجموعے میں خواب، امید، زندگی، انسانی تعلقات اور عصری شعور جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ایک ادبی مطالعے میں ان کی شاعری کو جدید آگہی اور مستقبل کے انسانی خوابوں کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔
شاعری میں عصرِ حاضر کا شعور
صفدر سلیم سیال کی شاعری صرف روایتی عشقیہ مضامین تک محدود نہیں تھی۔ ان کے کلام میں موجودہ عہد کے مسائل، انسانی دکھ، سماجی حالات اور مستقبل کے خواب بھی نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں فرد کی داخلی کیفیت کے ساتھ معاشرے کے وسیع تر حالات کا احساس بھی موجود ہے۔
اسی وجہ سے ان کے ادبی تعارف میں انہیں شاعر کے ساتھ ساتھ دانشور، نقاد اور سماجی شعور رکھنے والے اہل قلم کے طور پر بھی یاد کیا گیا ہے۔
سیاسی اور سماجی وابستگی
صفدر سلیم سیال کا تعلق عملی سیاست اور سیاسی جدوجہد سے بھی رہا۔ دستیاب تعزیتی تحریروں میں انہیں ایک فعال سیاسی کارکن اور ایسے شخص کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس نے سیاسی حالات میں جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ان دعوؤں کی تفصیلی سرکاری دستاویزی تصدیق محدود ہے، اس لیے ان کی سیاسی سرگرمیوں کی تمام جزئیات کو قطعی تاریخی ریکارڈ سمجھنے کے بجائے متعلقہ ادبی یادداشتوں کے طور پر دیکھنا مناسب ہے۔
کسان اور دیہی زندگی
صفدر سلیم سیال کا تعلق زراعت اور دیہی زندگی سے بھی تھا۔ ان کی سوانحی یادداشتوں میں انہیں محنتی کسان کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔ یہ پہلو ان کی شخصیت کے اس حصے کو ظاہر کرتا ہے جس میں ادبی زندگی اور عملی دیہی زندگی ایک ساتھ موجود تھیں۔
ادبی سرگرمیاں
صفدر سلیم سیال جھنگ کی ادبی سرگرمیوں میں فعال رہے۔ 2015ء میں اردو اکادمی جھنگ کی ایک ادبی نشست کی صدارت انہوں نے کی، جہاں مختلف شعراء اور ادیبوں نے اپنا کلام اور تخلیقات پیش کیں۔ اس موقع پر صفدر سلیم سیال نے بھی اپنا کلام سنایا۔
ایک اور ادبی تقریب کی رپورٹ میں انہیں ممتاز غزل گو شاعر اور ادبی نشست کے صدر کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جھنگ کے ادبی حلقوں میں محض شاعر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فعال بزرگ ادبی شخصیت کے طور پر بھی موجود تھے۔
نوجوان شعراء کی حوصلہ افزائی
صفدر سلیم سیال نئی نسل کے شعراء کے ساتھ بھی ادبی روابط رکھتے تھے۔ ایک مشاعرے میں انہوں نے نوجوان شاعر حسنین اصغر تبسم کے شعری مجموعے کی تقریبِ رونمائی کی صدارت کی اور بعد ازاں مشاعرے میں اپنا کلام بھی پیش کیا۔
یہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ اپنی ادبی زندگی کو صرف ذاتی شاعری تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ ادبی محافل اور نئے لکھنے والوں کے ساتھ بھی تعلق قائم رکھتے تھے۔
ادبی موضوعات
ان کے دستیاب کلام میں محبت، ہجر، خواب، انسانی رشتے، وقت، معاشرتی مسائل اور زندگی کے تجربات نمایاں ہیں۔ ریختہ پر محفوظ غزلوں کے عنوانات اور اشعار سے بھی ان کے شعری موضوعات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے ہاں ذاتی احساس اور اجتماعی تجربہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
جھنگ کی ادبی روایت میں مقام
ریختہ نے صفدر سلیم سیال کو جھنگ کے شعراء اور ادیبوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اسی فہرست میں مجید امجد، جعفر طاہر اور شیر افضل جعفری جیسے اہم نام بھی موجود ہیں۔
جھنگ کی ادبی روایت میں صفدر سلیم سیال کی شناخت بالخصوص جدید اردو غزل اور مقامی ادبی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی شاعری نے جھنگ کے اس ادبی ماحول کی نمائندگی کی جس میں اردو شاعری کے ساتھ مقامی تہذیب اور معاشرتی تجربہ بھی موجود تھا۔
وفات
صفدر سلیم سیال 2018ء میں وفات پا گئے۔ ریختہ ان کے سنِ وفات کو 2018ء درج کرتا ہے، جبکہ ایک تفصیلی تعزیتی مضمون میں ان کی وفات کی تاریخ 23 نومبر 2018ء بیان کی گئی ہے۔ اسی مضمون کے مطابق انہیں تحصیل احمد پور سیال کے نواحی علاقے گدارا کی زمین میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ادبی ورثہ
صفدر سلیم سیال کا ادبی ورثہ ان کی غزلوں، ’’خواب تبدیل کریں‘‘ اور جھنگ کے ادبی حلقوں میں ان کی طویل سرگرمیوں کی صورت میں محفوظ ہے۔ ریختہ پر ان کے کلام کی متعدد غزلیں موجود ہیں اور ان کی کتاب ’’خواب تبدیل کریں‘‘ بھی محفوظ ہے۔
ان کی شخصیت میں شاعر، ادیب، دانشور، سیاسی کارکن اور کسان کے مختلف پہلو ایک ساتھ موجود تھے۔ جھنگ اور احمد پور سیال سے ان کی گہری وابستگی نے ان کی شخصیت کو مقامی ادبی تاریخ میں ایک الگ شناخت دی۔
کارنامے
* جھنگ سے تعلق رکھنے والے معروف اردو شاعر اور ادیب کے طور پر ادبی شناخت قائم کی۔
* جدید اردو غزل میں مستقل شعری مقام بنایا اور ان کا کلام ریختہ پر محفوظ ہے۔
* ’’خواب تبدیل کریں‘‘ کے نام سے شعری مجموعہ شائع کیا، جو 2009ء میں شائع ہوا۔
* جھنگ کی ادبی محافل اور اردو اکادمی کی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا۔
* نوجوان شعراء کی ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی اور مشاعروں میں شرکت کی۔
* مجید امجد کے ادبی اثرات سے وابستہ جھنگ کے اہم شعراء میں شمار ہوئے۔
* شاعری کے ساتھ سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔
* احمد پور سیال اور جھنگ کی مقامی ادبی شناخت سے مضبوط تعلق برقرار رکھا۔
* جدید اردو غزل میں مستقل شعری مقام بنایا اور ان کا کلام ریختہ پر محفوظ ہے۔
* ’’خواب تبدیل کریں‘‘ کے نام سے شعری مجموعہ شائع کیا، جو 2009ء میں شائع ہوا۔
* جھنگ کی ادبی محافل اور اردو اکادمی کی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا۔
* نوجوان شعراء کی ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی اور مشاعروں میں شرکت کی۔
* مجید امجد کے ادبی اثرات سے وابستہ جھنگ کے اہم شعراء میں شمار ہوئے۔
* شاعری کے ساتھ سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔
* احمد پور سیال اور جھنگ کی مقامی ادبی شناخت سے مضبوط تعلق برقرار رکھا۔
مشہور کام
* خواب تبدیل کریں — شعری مجموعہ، 2009ء
* ’’اپنی سانسیں مری سانسوں میں ملا کے رونا‘‘
* ’’رستوں پہ نہ بیٹھو کہ ہوا تنگ کرے گی‘‘
* ’’اس سے پہلے کہ کسی گھاٹ اتارے جاتے‘‘
* ’’سونے ہی رہے ہجر کے صحرا اسے کہنا‘‘
* ’’اک خواب سا دیکھا تھا تو میں کانپ اٹھا تھا‘‘
* ’’اس سے بڑا دکھ کیا ہوگا اس سے پہلے‘‘ — نظم
* ’’بہت گریز کیا ہے تیرے نشانوں سے‘‘
* اردو غزل کا مجموعی شعری سرمایہ اور جھنگ کی ادبی محافل میں پیش کیا گیا کلام
* ’’اپنی سانسیں مری سانسوں میں ملا کے رونا‘‘
* ’’رستوں پہ نہ بیٹھو کہ ہوا تنگ کرے گی‘‘
* ’’اس سے پہلے کہ کسی گھاٹ اتارے جاتے‘‘
* ’’سونے ہی رہے ہجر کے صحرا اسے کہنا‘‘
* ’’اک خواب سا دیکھا تھا تو میں کانپ اٹھا تھا‘‘
* ’’اس سے بڑا دکھ کیا ہوگا اس سے پہلے‘‘ — نظم
* ’’بہت گریز کیا ہے تیرے نشانوں سے‘‘
* اردو غزل کا مجموعی شعری سرمایہ اور جھنگ کی ادبی محافل میں پیش کیا گیا کلام
تاریخ پیدائش
01 Jan 1936
تاریخ وفات
23 Nov 2018
جائے پیدائش
احمد پور سیال، ضلع جھنگ، پنجاب، برطانوی ہندوستان — موجودہ پاکستان